’ڈسکہ انتخابات میں فوج تعینات نہ کرنا الیکشن کمیشن کی غلطی تھی‘

سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں ہونے والے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات نہ کرنا الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔

جسٹس عمر عطابندیا نے کہا کہ 2018 کا الیکشن پرامن ہونے کی وجہ فوج کی تعیناتی تھی(اے ایف پی)

سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں ہونے والے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات نہ کرنا الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ ریمارکس ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں ضمنی انتخابات دوبارہ کروانے کے لیے 18 مارچ کی تاریخ دی تھی لیکن اب نئے شیڈول کے مطابق دس اپریل کو انتخابات کروائے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی امیدوار کی درخواست پر سماعت کی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں فوج تعینات نہیں تھی۔ ’امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات نہ کرنا الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔ الیکشن کمیشن نے امن وامان کے لیے پولیس پر بھروسہ کیا۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’میری فیملی نے 2018 کے انتخابات میں ووٹ ڈالا اور واپس آ کر پولنگ عمل کی تعریف کی۔ 2018 کا انتخابی عمل پر امن  تھا اور الیکشن پرامن ہونے کی وجہ پاک فوج کی تعیناتی تھی۔‘

سماعت کے آغاز پر سلمان اکرم راجا کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مسلم لی ن کے ساتھی وکیل کرونا کا شکار ہو گئے ہیں اس لیے سلمان اکرم راجا نے خود کو آئسولیٹ کر لیا ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ سلمان اکرم راجا کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کریں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول آگے کر دیا ہے،’شاید انہوں نے اسی کیس کی وجہ سے پولنگ کی تاریخ میں توسیع کی۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولنگ کی تاریخ پنجاب حکومت کی درخواست پر آگے بڑھائی گئی۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر حلقے میں کچھ تبادلے اور تقرریاں ہونی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ الیکشن تو ہو گا مگر ’دیکھنا یہ ہے کہ محدود پیمانے پر یا پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کریں گے۔ آئینی اداروں کی عزت کرتے ہیں، معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے، 90 پولنگ سٹیشنز میں مسائل اور شکایات سامنے آئی ہیں۔‘

تحریک انصاف کے امیدوار اسجد ملہی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے تشدد، لڑائی، جھگڑے کی بنیاد پر ری پولنگ کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 23 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کی تصدیق کے لیے امیدواروں کو نوٹس جاری کیا جس پر جسٹس قاضی امین  نے کہا کہ پولنگ سٹیشنز پر تشدد ہوا، کنٹرول کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری تھی۔‘

وکیل نے جواب دیا کہ ڈی آر او نے اپنی رپورٹ میں سول انتظامیہ پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔

اس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ میں بہت ساری باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے مطابق پولیس کی عدم موجودگی سے بعض پولنگ سٹیشنز پر تشدد ہوا۔

تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلے سے ری پولنگ کا حکم دیا جبکہ مختصر فیصلہ صرف اعلیٰ عدالتیں دیتی ہیں۔ اس ہر جسٹس قاضی امین نے بھی ریمارکس دیے کہ مختصر فیصلہ ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ دیتی ہیں، چیف الیکشن کمشنر جج نہیں ہے۔

جبکہ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ مختصر فیصلہ اعلیٰ عدلیہ دیتی ہے یہ ایک پریکٹس ہے نہ کہ قانون میں لکھا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کو چار مارچ کو پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن سے متعلق مختصر فیصلہ سنانے کی کیا عجلت تھی۔ آٹھ مارچ کو ایک ہی بار تفصیلی فیصلہ کیوں نہیں دیا گیا؟ 25 فروری کے بعد الیکشن کمیشن نے کوئی مزید انکوائری نہیں کی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل عبدالرؤف نے عدالت کو بتایا کہ ہوم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق حلقہ کے حالات اب بھی پہلے والے ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ پر پولنگ کی تاریخ میں توسیع کی گئی۔

جسٹس مظاہر علی نقوی نے سوال اٹھایا کہ کیا تشدد والی ویڈیوز الیکشن کمیشن میں پیش کی جا سکتی تھیں؟  

’یہ کیسے پتہ چلایا گیا کہ ویڈیوز اسی حلقہ کی ہیں، ویڈیوز کس نے بنائی؟ کیا ویڈیو اور واٹس ایپ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو والا کلچر ختم ہونا چاہیے، ہر کسی کی آتے جاتے چلتے ہوئے ویڈیوز بنا لی جاتی ہیں۔ کوئی ایک الیکشن بتا دیں جہاں یہ واقعات نہیں ہوئے۔ بدقستمی سے یہ ہمارا الیکشن کلچر بن گیا ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کے دن امیدواروں کی جانب سے بندوقوں کے سائے میں جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کبھی ووٹ دیا؟ شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ جی میں نے ووٹ ڈالا ہے۔ یہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ ہمارا کلچر ہے جب ہار جائیں تو دوبارہ انتخاب کا واویلا مچا دیتے ہیں۔ یہ سب ختم ہونا چاہیے۔

عدالت نے 19 مارچ تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت دی کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن بتائیں کہ حلقے میں انتخابات پر کتنا خرچ آئے گا کیونکہ پاکستان غریب ملک ہے اخراجات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ عدالت نے متاثرہ 20 پولنگ سٹیشنز کی جیو فینسنگ رپورٹ بھی طلب کر لی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ڈسکہ این اے 75 کے امیدوار اسجد ملہی نے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نتائج کا اعلان کرے اور دوبارہ انتخابات کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ڈسکہ میں پولنگ سٹیشنز پر بدمزگی کا ذمہ دار متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافز کرنے والے اداروں کو ٹھہرانا غلط ہے۔ ’کمیشن کا امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا موقف درست نہیں اور الیکشن کمیشن نے بغیر انکوائری کیے اپنا فیصلہ سنایا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان