روزہ رکھتے ہوئے صحت اور توانائی کیسے برقرار رکھی جائے؟

ماہرین کے مطابق رمضان میں صحت مند رہنے اور نمکیات برقرار رکھنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے جاسکتے ہیں جن میں نمک کی مقدار کم رکھنے سے لے کر ہلکی پھلکی ورزش شامل ہیں۔

کراچی میں رمضان سے قبل کھجور وں کا سٹال۔ تصویر: اے ایف پی 

اسلامی ممالک میں آج سے رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہورہا جس دوران دنیا بھر کے مسلمان 30 دن تک صبح فجر سے لے کر شام مغرب تک روزہ رکھیں گے۔

اتور کو رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مفتی منیب الرحمان کی صدارت میں محکمہ موسمیات کے کراچی کے دفتر میں ہوا، البتہ چاند دکھائی نہیں دیا، اور اب پاکستان میں رمضان کا آغاز منگل سے ہوگا۔

چونکہ روزےدار صبح سے شام تک بھوکے رہتے ہیں تو ایسے میں بدن میں نمکیات اور توانائی کی کمی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق رمضان میں صحت مند رہنے اور نمکیات برقرار رکھنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے جاسکتے ہیں جن میں نمک کی مقدار کم رکھنے سے لے کر ہلکی پھلکی ورزش شامل ہیں۔

روزوں کی بھرپورادائیگی کے دوران صحت مند رہنے کے لیے ماہرین کی کچھ تجاویز ذیل میں درج ہیں۔

پانی کا استعمال

روزہ کھولنے کے بعد زیادہ مقدار میں پانی پینا چاہیے، خصوصاً گرم موسم میں جب دن بھی لمبے ہوں اور گرمی کی شدت بھی زیادہ ہو۔

فزیوتھراپیسٹ اور کمپنی فیز سے تعلق رکھنے والی یاسمین بدائنی تجویز کرتی ہیں کہ افظار اور سحری کے درمیان کم از کم آٹھ گلاس پانی پیا جائے۔

انہوں نے کہا: ’کیفین والے مشروبات (جیسے کافی یا چائے) سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ پشاب کے ذریعے بدن سے پانی کا اخراج کم ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فیزی مشروبات، جیسے کولڈ ڈرنکس وغیرہ، بھی نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو سست کرتے ہیں۔ ’پانی میں الیکٹرولائیٹس شامل کرلینے سے بھی بدن کے وائیٹامنزکو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔‘

تلی ہوئے کھانوں سے پرہیز کریں

سارا دن بھوکا رہنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت کھانے میں فاسٹ فوڈ شامل کرنا بہت پرکشش لگتا ہے، لیکن غذائیت سے خالی ایسا کھانا اگلے روز سستی کے احساس اورپیٹ میں گیس کا سبب بن سکتا ہے۔

یاسمین بدائنی نے کہا: ’ایسے وقت جب ہمارے پاس پھل، سبزیاں اور پروٹین والی متوازن خوراک کھانے کے لیے قلیل وقت ہوتا ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم جو کھائیں وہ غذائیت سے بھرپور ہو۔‘

’لوگوں کو سستی اور پیٹ کے ابھارے کی شکایت ہونے کی اہم وجہ اصل میں افطار میں تلی ہوئی اشیا کا استعمال ہی ہے کیونکہ معدہ سارا دن خالی رہنے کے بعد حساس ہوچکا ہوتا ہے۔‘

ہلکی پھلکی ورزش کریں

روزے میں بہت سخت ورزش کرنا مناسب نہیں البتہ ہلکی پھلکی ورزش ضرور کرنی چایئے اور اگر مناسب طرح سے کی جائے تواس میں کوئی حرج نہیں۔

برمینگم سٹی یونیورسٹی کے شعبہ کھیل اور ورزش میں اسسٹنٹ لیکچرر اور پی ایچ ڈی ریسرچر ایازاللہ صفی نے کہا کہ یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ روزے میں آپ کی توانائی عام دنوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

’لوگوں کو چاہیے کہ رمضان میں بھی فعال طرز زندگی اپنائے رکھیں اور ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی، سارے بدن کی سٹریچنگ، میٹ پہ کی جانے والی ورزشوں کے ساتھ ساتھ مراقبے کے عمل کو بھی جاری رکھیں تاکہ جسم میں خون کی روانی اور باقی نظام سہی کام کرتے رہیں۔‘

ایازاللہ صفی نے مشورہ دیا کہ رمضان میں سخت ورزش جیسے کہ تیز دوڑنا اور ویٹ اٹھانے کو ترک کردینا چاہیے ۔

روزے کی حالت میں اس طرح کی ورزش بلڈ پریشر کے گرنے، سر چکرانے اور چوٹ لگنے کا سبب بن سکتی ہے لہذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

نمک کے استعمال میں احتیاط کریں

ایازاللہ صفی نے کہا کہ افطار میں بہت زیادہ نمک کا استعمال اگلے روز پریشانی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ زیادہ نمک پیاس کی شدت کو بڑھاتا ہے۔

ان کے مطابق روزےدار کو نمک کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے، چاہے وہ کھانے کے اوپر چھڑک کر کھایا جائے یا ہانڈی میں پکتے ہوئے ڈالا جائے۔

مسلمانوں میں کھجور سے روزہ کھولنے کا رواج ہے کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین کھجوروں سے روزہ افطار کیا تھا۔

اچھی عادات اپنانے کی کوشش کریں

یاسمین بدائینی نے کہا کہ اپنی قوت برداشت کو بڑھانے اور صحت مند عادات اپنانے کے لیے رمضان بہترین موقع  ہوتا ہے۔  

’رمضان صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی قوت برداشت  بہتر کرنا اور اصلاح کرنا بھی شامل ہے۔‘

ان کے مطابق سگریٹ اور شیشہ صحت مند زندگی پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے بلکہ یہ ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے نقصان دہ ہیں ۔

’سگریٹ پینا چھوڑ نے کے لیے رمضان سے اچھا موقع کوئی نہیں کیونکہ آپ ویسے بھی سارے دن میں بمشکل ایک سگریٹ ہی پی سکتے ہیں۔‘

البتہ، اگر آپ بیمار ہوں، حاملہ ہوں یا کوئی اور صحت کے مسائل میں مبتلہ ہوں تو آپ روزہ رکھنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت