امریکہ کا ایران کو ’واضح پیغام‘ دینے کے لیے جنگی بیڑہ روانہ

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران کو ’واضح اور سخت‘ پیغام دینے لیے امریکہ مشرق وسطیٰ کی جانب ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ اور بمبار ٹاسک فورس روانہ کر رہا ہے۔

تصویر: اے ایف پی

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران کو ’واضح اور سخت‘ پیغام دینے لیے امریکہ مشرق وسطیٰ کی جانب ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ اور بمبار ٹاسک فورس روانہ کر رہا ہے۔

جان بولٹن نے اتوار کو کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کے اشتعال انگیز اقدامات کے رد عمل میں بحری بیڑے ابراہم لنکن اور بمبار ٹاسک فورس کو خطے میں موجود امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب روانہ کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ خطے میں امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کے مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔

’امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن پاسدارنِ انقلاب یا ایرانی فوج کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

خبر راساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بحری بیڑے کو روانہ کرنے کی کیا وجہ ہے، لیکن یہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب حال ہی میں غزہ میں موجود فلسطینی جنگجوؤں اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر جان لیوا راکٹ اور فضائی حملے جاری ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری پروگرام کو لے کر ایران پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کے بعد کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی نے عوام سے کہا تھا کہ وہ امریکی دباؤ کا ’متحد ہو کر مقابلہ‘ کریں۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ صرف اس وقت اس کھیل کو ختم کرے گا جب اسے معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ ہمارے پاس متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ امریکی کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کے باوجود اپنے گاہکوں کو تیل کی سپلائی جاری رکھیں گے۔

گذشتہ سال آٹھ مئی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکالتے ہوئے ایران پر کئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ