جہانگیر ترین کے خلاف اربوں کے فراڈ کے مقدمے درج

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے خلاف دو مزید مقدمات درج کر لیے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین نے جے ڈی ڈبلیو نامی پبلک کمپنی سے تین ارب 40 کروڑ روپے روپے نکلوا کر نجی کمپنی منتقل کر کے براہ راست فائدہ اٹھایا۔(تصویر: فیس بک/ جہانگیر ترین)

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین، ان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول تین خواتین اور سابق سیکریٹری زراعت رانا نسیم احمد کے خلاف منی لانڈرنگ کے دو مزید مقدمات درج کر کے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو ملنے والی ایف آئی آرز 22 مارچ کو درج ہوئی تھیں، تاہم جہانگیر ترین نے ان مقدمات کو ’من گھڑت‘ قرار دے دیا ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں جہانگیر ترین نے ان مقدموں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا: ’میرے اور میرے خاندان کے خلاف ایف آئی اے کے تازہ مقدمے من گھڑت ہیں۔ میں نے پہلے ہی ایف آئی اے کے نوٹس کا ٹھوس جواب دے دیا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کوئی غیر قانونی چیز ثابت کیے بغیر میرے اور میرے خاندان کو بدنام کرنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔‘

پہلی ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین کے خلاف ایک مقدمہ 2020 میں شروع کی گئی انکوائری کے نتیجے میں سامنے آنے والے منی لانڈرنگ کے شواہد پر درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین نے جے ڈی ڈبلیو نامی پبلک کمپنی سے تین ارب 40 کروڑ روپے نکلوا کر نجی کمپنی کو منتقل کرکے براہ راست فائدہ اٹھایا۔

یہ کمپنی فاروقی پلپ ملز پرائیویٹ لمیٹڈ گجرات کے نام سے 1991 میں بنائی گئی تھی، جس کا مقصد کاغذ کا گودا بنانا تھا۔ یہ کمپنی گجرات کے فاروقی خاندان کی ملکیت ہے۔ کمپنی نے 1997 میں اپنا کام ختم کر دیا کیونکہ وہ لکڑی سے کاغذ کا گودا بنانے میں ناکام ہو گئی تھی اور 2007 میں جہانگیر خان ترین نے، جو جے ڈی ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹو تھے، یہ کمپنی خرید لی اور اپنے ایک قریبی ساتھی کو اس کا سی ای او بنا دیا۔

بعد ازاں جے ڈی ڈبلیو کے اہم عہدے داروں کو اعتماد میں لیے بغیر کمپنی کا پیسہ اسی ناکام کمپنی میں لگا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق 2011 میں اس کمپنی، جس کا نام ایف پی ایم جی رکھ دیا گیا تھا، نے اپنا آپریشن ایک مرتبہ پھر بند کر دیا لیکن اس کے اکاؤنٹ میں 2015 تک پیسے جمع ہوتے رہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ پیسے اس طرح جمع کروانا دھوکہ دہی میں آتا ہے۔

دوسری ایف آئی آر میں بھی جہانگیر ترین پر الزام ہے کہ انہوں نے جے ڈی ڈبلیو نامی  کمپبی سے دو ارب 20 کروڑ روپے نکلوائے اور اپنے خاندان کے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کرواتے رہے جس میں ان کے بیٹے علی ترین کا ذاتی اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سابق سیکرٹری زراعت رانا نسیم احمد، جو کہ اس وقت جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او ہیں، کو بھی دوسری ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سیکریٹری زراعت کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ترین خاندان کو فائدے دیے۔ 

ایف آئی اے لاہور کے ترجمان ذیشان ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جہانگیر ترین خان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں جس کے نتیجے میں کچھ شواہد سامنے آئے اور یہ ایف آئی آر حکومت کی مدعیت میں درج کی گئیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج 22 مارچ کو ہوا لیکن ان کو جاری آج کیا گیا کیونکہ ان مقدمات کو چینی سٹہ بازی کے تناظر میں بھی پرکھا جارہا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر خان ترین کی شوگر مل چینی کی سٹہ بازی مین بھی ملوث رہی، جس کے حوالے سے علیحدہ تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سٹہ بازی کی وجہ سے چینی کی قیمت انتہائی زیادہ ہو گئی۔ ہم نے مختلف شوگر ملز مالکان کو 31 مارچ سے ایف آئی اے لاہور آفس میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے تھے، جن میں چوہدری شوگر مل کیس میں مریم نواز کو پیش ہونا تھا لیکن ان میں سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ اس حوالے سے ہم جلد سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری کریں گے۔‘

ذیشان ملک کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے دست راست اور جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او رانا نسیم اور چیف فنانشل آفیسر محمد رفیق کو ایف آئی اے لاہور نے یکم اپریل کو طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے نے ان سے جے ڈی ڈبلیو سے حاصل کی گئی مراعات، معاہدے کی تفصیلات، تمام اثاثہ جات اور اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

ایف آئی اے کے ایک اور ترجمان رانا محمد فیصل کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین اور علی ترین کو ذاتی حیثیت میں چھ مرتبہ لاہور آفس میں بلایا گیا لیکن وہ جان بوجھ کر نہیں آئے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان