پاکستان جنوبی افریقہ سیریز: سرفراز کو کھلانے پر غور

جنوبی افریقہ کے شہر سنچورین میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز جمعے سے ہو رہا ہے۔

اس بات کا امکان کم ہے کہ سرفراز کھیل سکیں، تاہم اس مشکل دورے میں سرفراز کا تجربہ کام آسکتا ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

جمعے سے جنوبی افریقہ کے شہر سنچورین میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز ہو رہا ہے، جس کے دوران تین ایک روزہ محدود اوورز کے میچ کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کا سکواڈ جنوبی افریقہ پہنچ چکا ہے اور سیریز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

پاکستانی ٹیم ایک سال سے زائد عرصے کے بعد ایک روزہ میچوں کی  کوئی سیریز ملک سے باہر کھیل رہی ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے آخری سیریز زمبابوے کے خلاف ملک میں ہی کھیلی تھی، جس میں زمبابوے کی کمزور ٹیم سیریز تو ہار گئی تھی لیکن آخری میچ میں گرین شرٹس کو شکست دے کر قومی ٹیم کی خامیوں کا آشکار کردیا تھا۔

پاکستان کے نئے کپتان بابر اعظم پہلی دفعہ بیرون ملک سیریز میں قیادت کریں گے۔ یہ ان کے لیے اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ پاکستان ٹیم آئی سی سی رینکنگ میں چھٹی  پوزیشن پر ہے اور ورلڈکپ میں براہ راست شامل ہونے کے لیے رینکنگ بہتر بنانا  بہت ضروری ہے جبکہ پاکستان اگلے 12 مہینوں میں بہت کم ایک روزہ سیریز کھیلے گا۔

پاکستان ٹیم نے اگرچہ گذشتہ ایک سال میں کرونا کے باوجود سب سے زیادہ کرکٹ کھیلی ہے لیکن ٹیم کی بیٹنگ مسلسل نشیب وفراز کا شکار ہے اور سوائے محمد رضوان کے کسی بھی بلے باز کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہے۔

ٹیم کیا ہوگی؟

پاکستان اپنی اوپننگ سلاٹ میں فخر زمان اور امام الحق کو رکھنا چاہے گا۔ فخر زمان نے پریکٹس میچوں میں عمدہ بیٹنگ کی ہے جس سے ان کا اعتماد بحال ہوا ہے تاہم امام الحق ابھی تک فارم ڈھونڈ رہے ہیں۔

ون ڈاؤن کی پوزیشن پر بابر اعظم خود کھیلیں گے جبکہ محمد رضوان چوتھے نمبر پر ہوں گے۔

مینیجمنٹ پانچویں نمبر کے لیے تذبذب کے عالم میں ہے۔ کوچ اور کپتان دانش عزیز کے نام پر متفق ہیں لیکن بیٹنگ کوچ  سرفراز احمد پر زور دے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے خیال میں سرفراز وکٹ کیپنگ بھی کرسکتے ہیں، لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ سرفراز کھیل سکیں۔ تاہم اس مشکل دورے میں سرفراز کا تجربہ کام آسکتا ہے۔ یونس خان ویسے بھی دانش عزیز کو کیریئر کے شروعات میں مشکل دورے میں ناکام نہیں دیکھنا چاہتے۔

بیٹنگ کو مضبوط کرنے کے لیے آصف علی یا حیدر علی میں سے کسی ایک کو کھلایا جائے گا۔ شاداب خان اور فہیم اشرف مڈل آرڈر سنبھالیں گے جبکہ فاسٹ بولنگ کا شعبہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور حسن علی کے پاس رہے گا۔

حسن علی چونکہ حال ہی میں کرونا سے صحت یاب ہوئے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ پچ کو دیکھتے ہوئے محمد نواز یا عثمان قادر کو کھلایا جائے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم کی قیادت نئے کپتان ٹیمبا باووما کے ہاتھوں میں ہے جبکہ کوئنٹن ڈی کوک، ڈیوڈ ملر، فان دا ڈوسن اور ایڈن مارکرم نمایاں بلے باز ہیں لیکن میزبان ٹیم کی اصل قوت بولنگ ہے اور  رباڈا، نورٹئیے اور تبریز شمسی مہمان ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔

ویسے بھی جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔

پچ رپورٹ

سپر سپورٹ پارک سنچورین کی پچ روایتی طور پر تیز اور باؤنسی ہے، جس پر فاسٹ بولرز ہمیشہ چھائے رہتے ہیں اور توقع ہے کہ جمعے کی پچ بھی تیز اور باؤنسی ہوگی۔

پاکستان اس گراؤنڈ پر 10 میچ کھیل چکا ہے، جن میں سے چھ میں شکست اور چار میں فتح مقدر بنی تھی۔

پاکستان ٹیم اپنے دورے کا آغاز کس طرح کرتی ہے یہ تو جمعے کو پتہ چلے گا، تاہم پاکستانی ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر اس سیریز میں بیٹنگ کا زیادہ تر بوجھ ہوگا۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ بابر اس ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآں ہوتے ہیں۔ ان کی گذشتہ ٹیسٹ سیریز کچھ اچھی نہیں رہی تھی اور وہ متعد بار ایسے مواقع پر آؤٹ ہوگئے جب ٹیم کو سخت ضرورت تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ