این اے 75: الیکشن کمیشن کا دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

(اے ایف پی)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر اسجد ملہی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

اس سے قبل 25 مارچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں دس اپریل کو دوبارہ ہونے والے ضمنی الیکشن کو موخر کرنے کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ ماہ ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے دس اپریل کو پولنگ کرانے کے الیکشن کمیشن کے حکم کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ کیس کی سماعت مکمل کرنے اور فیصلے میں وقت درکار ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کو ہونے والی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے حکم کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

عدالت کی جانب سے این اے 75 ڈسکہ میں الیکشن کمیشن کے دوبارہ انتخابات کرانے کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔

جس کے بعد اب این اے 75 ڈسکہ کے تمام حلقوں میں دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج الیکشن کمیشن کی جیت ہوئی ہے۔ فیصلہ ہمارے خلاف ضرور ہے آیا ہے مگر ہم اپوزیشن کی طرح ادارے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔‘

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سیالکوٹ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا، جسے حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بعد میں الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کے لیے دی گئی 18 مارچ کی تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے 10 اپریل مقرر کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان