مردان میں ’عطیات‘ سے چلنے والا پولیس ہسپتال

ہسپتال میں تمام سپیشلسٹ ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر آتے ہیں جبکہ مریضوں کو مفت ادویات ملتی ہیں۔

مردان میں دہشت گردی کے شکار پولیس اہلکاروں کے لیے بنا پولیس لائن ہسپتال عوام کے تعاون سے چلتا ہے۔

ہسپتال میں نہ صرف دہشت گردوں سے مقابلے میں مارے جانے والے اہلکاروں کے بچوں اور اہل خانہ بلکہ حاضر سروس پولیس افسروں اور اہلکاروں کا بھی علاج ہوتا ہے۔

پولیس فورس کے لیے عوامی چندے پر چلنے والے ہسپتال کی مثال پورے پاکستان میں نہیں ملتی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان ڈاکٹر زاہد اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس حد تک ممکن ہو ’ہم پولیس اہلکاروں اور ان کی فیملیز کو فری علاج معالجے کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔‘

انہوں نے ڈاکٹر برادری کا شکریہ ادا کیا جو اپنی ڈیوٹی میں سے وقت نکال کر رضاکارانہ طور پر آتے ہیں، ہسپتال میں ہر سپیشلٹی کے لیے الگ دن ہوتا ہے جس پر مختلف ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں۔

’ہسپتال کے لیے مردان کے مخیر حضرات، جو اپنا نام تک بتانا نہیں چاہتے، اس کارخیر میں تعاون کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہسپتال کو زیادہ تر دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے اور مخیرحضرات مختلف دوائیں عطیہ کرتے ہیں جو ہم ضرورت مند مریضوں کو دیتے ہیں۔‘

ڈی پی او ڈاکٹر زاہد کہتے ہیں کہ مردان پولیس میں دہشت گردی کے شکار ہونے والے ’109 شہدا کی فیملیز کو جتنا ممکن ہوسکے تمام دوائیں اور ٹیسٹ مفت مہیا  کیے جاتے ہیں۔

’پولیس لائن کے اندر پولیس آفیسرز کی فیملیز کے لیے بھی یہ سہولت ہے جبکہ چار ہزار کے قریب مردان پولیس اہلکاروں کو بھی اگر کوئی طبی مسئلہ ہو تو وہ بھی اس ہسپتال سے اپنا علاج کراسکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو چلانا ہو یا بڑا کرنا ہو تو مزید وسائل کی ضرورت درکار ہو گی، پولیس اپنے طور پر یا ڈسٹرک پولیس آفیسر کے طور پر ہم کوشش کرتے ہیں کہ جتنا بھی ممکن ہو سہولیات مہیا کرسکیں۔

پولیس ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر افتخار خان کے مطابق پولیس ہسپتال میں تمام ڈاکٹرز رضاکارانہ طور پر آتے ہیں اور ان میں تمام ماہر ہوتے ہیں، سکن سپیشلٹ، ای این ٹی، آرتھوپیڈک، ماہر نفسیات، چلڈرن سپیشلٹ اور جنرل سرجن سب کا ہفتے میں ایک، ایک دن او پی ڈی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں او پی ڈی موجود ہے، مریضوں کو فری میڈیسن، لیبارٹری، ای سی جی اور الٹراساؤنڈ کی سہولیات دستیاب ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا