ایران کا یورینیم افزودگی 60 فیصد تک بڑھانے کا اعلان

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی بین الااقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو لکھے گئے مراسلے میں اعلان کیا ہے کہ ’ایران یورینیم افزودگی کی شرح کو 60 فیصد کر رہا ہے۔‘

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کی جانب سے  دسمبر 2019 میں جاری کردہ تصویر میں اراک شہر میں قائم ایک نیولیئر واٹر ریکٹر (اے ایف پی فائل )

ایران نے تنبیہ کی ہے نطنز واقعے کے بعد وہ یورینیم افزودگی کو 60 فیصد تک بڑھا دے گا۔ ایران نے نطنز میں ہونے والے دھماکے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

ایران کے اس اعلان نے ویانا میں جاری مذاکراتی عمل پر سوال کھڑے کر دیے ہیں جہاں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی بین الااقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو لکھے گئے مراسلے میں اعلان کیا ہے کہ ’ایران یورینیم افزودگی کی شرح کو 60 فیصد کر رہا ہے۔‘

بین الااقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ اقدام ایران کو فوجی استعمال کے لیے درکار یورینیم کی 90 فیصد افزودگی کے قریب کر دے گا جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے لیکن ایران ایسے کسی مقصد کی تردید کرتا ہے۔ 

جوہری معاہدے کے مطابق ایران کو یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک رکھنی تھی لیکن ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس معاہدے سے یک طرفہ انخلا کے بعد اس شرح کو بتدریج بڑھاتے ہوئے 20 فیصد تک لا چکا تھا۔ 

یورینیم افزودگی کی سطح بڑھانے کا حالیہ اعلان نطنز کی جوہری تنصیب میں ہونے والے اس دھماکے کے بعد کیا گیا جس کا الزام ایران نے اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ایران نے اس حملے کو ’جوہری دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اسرائیل امریکی صدر بائیڈن کی ان کوششوں کی مخالفت کرتا ہے جو وہ اس جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے کر رہے ہیں۔

اسرائیل اعلان کر چکا ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکے گا جسے وہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے لیکن امریکہ اس کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ 

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایسے اشتعال انگیز اعلانات پر تشویش ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ سفارتی راستہ ہی واحد راستہ ہے اور مذاکرات چاہے وہ بلا واسطہ ہی کیوں نہ ہوں مسائل کے حل کا بہترین طریقہ ہیں۔‘

ایران کے نطنز جوہری پلانٹ میں ہونے والے پراسرار دھماکے کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک اس سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں خفیہ طور پر ایک دوسرے کے مد مقابل رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پورٹ پر منگل کو ایک اسرائیل بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اسے ایران کا جوابی وار قرار دیا تھا۔ 

اس سے قبل ایران نے سوموار کو نطنز میں ہونے والے حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے نطنز پر ہونے والے حملے کو ایران پر پابندیاں اٹھائے جانے سے روکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے ’ایک غلط جوا‘ کہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران جدید سینٹری فیوجز کا استعمال کرتے ہوئے مزید افزودگی شروع کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران نطنز میں 50 فیصد اضافی گنجائش والے ایک ہزار سینٹری فیوجز نصب کرے گا۔ 

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس عہدیداروں کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ اس حملے میں ’اسرائیل کا کردار‘ ہے۔ اس حملے میں سینٹری فیوجز کو توانائی فراہم کرنے والے نظام کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا تھا۔

منگل کو ’نیو یارک ٹائمز‘ کا کہنا تھا کہ ’دھماکہ خیز مواد‘ اس جوہری تنصیب کے اندر پہنچایا گیا تھا جس کے ذریعے یہ دھماکہ ’دور سے کیا گیا‘ ہے۔  دھماکے میں نطنز کے بجلی کے نظام کو نقصان پہنچایا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا