فرانسیسی سفیر کی ملک بدری: پاکستان کے آپشن کیا ہیں؟

ویانا قوانین کیا کہتے ہیں ؟ کیا پاکستان پر اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ؟ ایف اے ٹی ایف معاملے میں کیا سوال اٹھیں گے؟ ان سمیت چند اہم سوالات کا جواب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے اعلیٰ سفارتی افسران و تجزیہ کاروں سے بات چیت کی۔

کالعدم تحریک لبیک کے کارکنان  فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے احتجاجی بینز تھام کر نعرے لگاتے ہوئے۔(روئٹرز)

 ناموس رسالت پر کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ میں آج ہنگامی بنیادوں پر ایک قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جس کے تین اہم نکات یہ ہیں:

1.    فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلہ پر بحث کی جائے۔
2.    تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔
3.    تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

پاکستان پر فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور پاکستان کے پاس آپشنز کیا موجود ہیں، ان معاملات پر انڈپینڈنٹ اردو نے اعلی سفارتی افسران و تجزیہ کاروں سے بات چیت کی ہے۔

’آزادی اظہار کا مطلب مذہبی احساسات مجروح کرنا نہیں‘

 جرمنی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ نفرت کا اظہار کر کے مذہبی احساسات مجروح کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی یورپ میں رہائش پذیر ہیں  وہاں نوکریاں کرتے ہیں۔ پاکستان یورپی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ یورپی ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے ایک ایسی راہ تلاش کی جا سکتی ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی مجروح نہ ہوں اور یورپی ممالک کے لیے بھی وہ قابل قبول ہو۔ اسی لیے پاکستان میں اب مظاہرین کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اورمعاملہ پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ امید ہے اچھا حل نکلے گا۔

ویانا قوانین کیا کہتے ہیں ؟

ویانا کنونشن قوانین جن کے تحت سفارتی اہلکاروں کو تخفظ حاصل ہوتا ہے اس حوالے سے عالمی قوانین کیا ہیں اور کس صورت میں سفیر کی ملک بدری ہو سکتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں سابق سفیر عبدالباسط نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ملک کا حق ہے کہ وہ کسی بھی سفارتی اہلکار کو ’پرسونا نان گراٹا‘ یعنی ناپسندیدہ قرار دے کر ملک سے جانے کا کہہ دے۔

انہوں نے کہا کہ 1961 کے سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی سفارتی اہلکار اگر غیر سفارتی سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اُسے ناپسندیدہ قرار دیا جا سکتا ہے اور سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے ٹھوس جواز کا ہونا ضروری ہے۔

فرانس کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سب سے بہتر سفارتی حل یہی ہے اگر پاکستان بیک ڈور سفارتی ڈپلومیسی چلائے اور فرانس سے معاملات طے کر لے کہ وہ یہاں تعینات سفیر مشاورت کے لیے واپس بلا لیں اور کچھ عرصے واپس پاکستان نہ بھیجیں اس طرح یہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔

کیا پاکستان پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر اگر عوامی پریشر پر سفارتی معاملات کو چلایا جائے گا تو ایک چین ری ایکشن سامنے آ سکتا ہے۔  یورپی یونین اپنے ستائیس سفیروں کو واپس بلا سکتی ہے اور پاکستان کو بھی کہہ سکتی ہے کہ وہ بھی ان تمام ممالک سے اپنے سفیر واپس بلا لیں۔ تو یہ معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گا۔

انہوں نے کہا کہ حساس معاملہ ہے فہم و فراست سے حل کر کے ابھی بھی اس کو سمیٹا جا سکتا ہے۔ عالمی سربراہان کو ناموس رسالت کے معاملے پر بریف کیا جا سکتا ہے کہ آزادی رائے کا یہ مطلب نہیں کسی کے مذہب کی توہین کی جائے۔

ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ: کیا سوالات اٹھیں گے؟

سوال کیا گیا کہ جون میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے جس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سے نکلنے کے حوالے سے فیصلہ ہونا ہے واضح رہے کہ پاکستان ستائیس میں سے چوبیس پوائنٹس پر عمل کر چکا ہے۔ چار پوائنٹس باقی ہیں جن میں منی لانڈنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق ہیں۔ اب جب حکومت پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان پر دہشت گردی کی دفعات عائد کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دیا ہے تو کیا اس تحریک کو ہونے والی مالی معاونت کے سوال بھی اٹھیں گے؟

اس سوال کے جواب میں سابق سفیر نے کہا کہ یقینی طور پر اثرات تو ہوں گے لیکن پیرس میں میٹنگ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ فرانس نے پاکستان کا فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پرتشدد مظاہروں پر پابندی عائد ہونا پاکستان کے کیس کے حق میں جائے گا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی کی گنجائش نہیں ہے۔

’سفیر واپس بھیجنے سے تعلقات اثرانداز نہیں ہوں گے‘

اس کے برعکس سابق سفیر عاقل ندیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ سفیر واپس جانے سے یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اثرانداز نہیں ہوں گے کیونکہ فرانس کے صدر نے جب متنازع بیان دیا تھا تو یورپی ممالک میں سے کسی سربراہ نے اس کی توثیق نہیں کی اور نہ مسلمانوں کے خلاف کوئی ایسا متنازع بیان دیا۔ ایسی صورت میں فرانس کے ذاتی رویے پر یورپی یونین پاکستان سے تعلقات ختم نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیچ کا راستہ نکالا جائے گا جیسے پاکستان بھارت حالات خراب ہونے پر اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں، اسی طرح فرانس اپنا سفیر واپس بلا سکتا ہے ویسے بھی ان حالات میں کسی بھی سفیر کے لیے متعلقہ ملک میں کام کرنا مشکل اور سیکیورٹی رسک ہوتا ہے۔

فرانس سے دفاعی تعلقات برقرار رہیں گے؟

دفاعی تعلقات کے حوالے سے عاقل ندیم نے کہا کہ فرانسیسی دفاعی مارکیٹ پوری دنیا کو اسلحہ فروخت کرتی ہے اور پاکستان ان کے لیے دفاعی سازوسامان کی مارکیٹ ہے تو وہ خود بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کا تجارتی نقصان ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان