دل سے آواز آئی ’آج کیا ہونے جا رہا ہے‘ 

ماہ رواں کی 20 تاریخ کو ہمارے موبائل نمبر پر ایک پیغام رسید ہوا، جس میں ہمیں 24 اپریل کو اسلام آباد کے گنجان علاقے میں کسی کرونا ویکسینیشن سنٹر آنے کی ہدایت کی گئی، تاہم زیادہ رش سے بچنے کے لیے اسی رات ہم نے آن لائن اپنا ویکسینیشن سنٹر تبدیل کروایا۔ 

(فوٹو فائل: اے ایف پی)

ہفتے (24 اپریل) کی دوپہر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں رورل ہیلتھ سنٹر (آر ایچ سی) کی طرف جاتے ہوئے ذہن میں عجیب و غریب خیالات اور دل میں طرح طرح کے وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔  

ہر لمحے دل سے یہی صدا آ رہی تھی: ’آج کیا ہونے جا رہا ہے۔‘ 

 دل بے تاب بہت زیادہ بے تاب اس لیے ہو رہا تھا کہ ہم نے مہلک کرونا وائرس سے بچنے کے واسطے اپنے جسم کے ناتواں قدرتی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا، اور کرونا ویکسین کی پہلی خوراک لینے جا رہے تھے۔ 

مارچ کے آخری ہفتے میں جب پچاس کے پیٹے والوں کو سرکاری طور پر کرونا وائرس سے بچاو کی ویکسین لگانے کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا تو شاید ہم اور ہماری اہلیہ ان پہلے چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مہلک بیماری سے بچاو کے لیے حفاظتی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے رجسٹریشن کروائی۔ 

ماہ رواں کی 20 تاریخ کو ہمارے موبائل نمبر پر ایک پیغام رسید ہوا، جس میں ہمیں 24 اپریل کو اسلام آباد کے گنجان علاقے میں کسی کرونا ویکسینیشن سنٹر آنے کی ہدایت کی گئی، تاہم زیادہ رش سے بچنے کے لیے اسی رات ہم نے آن لائن اپنا ویکسینیشن سنٹر تبدیل کروایا۔ 

آر ایچ سی ترلائی میں قائم کرونا ویکسینیشن سنٹر تک سفر کے دوران کرونا وائرس اور اس کے تریاق کرونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے بے شمار اقوال زریں ذہن میں گونجتے رہے، اور ہم ڈر اور اطمینان کی ملی جلی کیفیات سے دو چار رہے۔ 

ڈر اس لیے کہ کرونا ویکسین سے متعلق منفی پروپیگنڈا ہمارے کانوں تک بھی پہنچ رہا تھا، جب کہ اطمینان کی وجہ یہ احساس تھا کہ اور کچھ نہیں تو کسی حد تک تو اس مہلک وائرس سے بچ سکیں گے، اور اس کیفیت میں اضافے کی وجہ ارد گرد اور دنیا بھر سے کرونا وائرس کے باعث بنی نوع انسان کو پہنچنے والی تکالیف اور اموات کی اطلاعات تھیں۔ 

تمام تر خدشات، ڈر اور خوف کو ایک طرف رکھتے اور سرکاری نعرے ’کرونا کو ناں ویکسین کو ہاں‘ کا ورد کرتے ہم ویکسینیشن سنٹر میں داخل ہوئے، جہاں پہلی حیرت ہمیں اس عمارت کی حالت دیکھ کر ہوئی۔ 

غیر متوقع طور پر نہایت صاف ستھرا ماحول، تعاون کرنے والا خوش اخلاق عملہ، اور بہت سرعت سے ہوتے کام۔ ہم سوچتے رہ گئے: ’یا خدا کیا یہ کوئی خواب ہے، پاکستان میں سرکاری اسپتال میں سب کچھ اتنا اچھا، کیسے ممکن ہے؟‘ 

ویکسینیشن سنٹر میں کم از کم دو درجن افراد ویکسین لگوانے موجود تھے، جب کہ ہر ایک کے ساتھ دو دو دوسرے لوگ بھی تھے۔ ایک معمر خاتون کو ان کا بیٹا موٹر سائیکل پر مرکز لایا، جب کہ ایک بوڑھی اماں جی کا پوتا اور پوتی ان کے ہاتھ پکڑے انہیں واپس لے جا رہے تھے۔ 

ترلائی ویکسینیشن سنٹر میں ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کی گئی، جن میں ابتدائی پرچی بننا اور ایک رجسٹر میں ہمارے متعلق تفصیلات کا اندراج وغیرہ شامل تھا۔ ایک مرتبہ پھر ذکر کر دیں کہ سنٹر کے عملے کا رویہ اور کام کرنے کا طریقہ نہایت خوشگوار اور پروفیشنل تھا۔ 

آخر کار ہم اس کمرے تک پہنچ گئے جہاں عملے کے صرف دو افراد موجود تھے، جنہوں نے ہمیں ایک سٹول پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بائیں بازو کی آستین اونچی کرنے کی ہدایت کی۔ 

کمرے میں موجود مرکزی میز کے پیچھے بیٹھے ڈاکٹر نے سرنج میں ویکسین بھری، اور خاتون نرس کی طرف بڑھا دی، جو انہوں نے ہمارے بائیں بازو کے اوپر (کندھے کے قریب) کے حصے میں لگا دی۔ نہ کوئی تکلیف، نہ کوئی درد اور نہ بہت زیادہ وقت لگا، سب کچھ محض چند سیکنڈز میں ہو گیا۔ 

ڈاکٹر سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ہمیں چینی ویکسین کرونا ویک کا شاٹ لگایا گیا۔ 

واضح رہے کہ کرونا ویک نامی ویکسین چین کے دارالحکومت بیجنگ کے قریب واقع ایک بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی سائنو ویک کی تیار کردہ ہے، اور اسی لیے اس ویکسین کو عام طور پر سائنو ویک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 

کرونا ویک کی تیاری میں کووڈ 19 کی وجہ بننے والے کرونا وائرس کے بعض کمزور حصوں کو استعمال کیا جاتا ہے جس سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام بغیر کسی بیماری یا سنگین ردعمل کے، بہتر اور کرونا سے مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ 

ویکسینیشن سنٹر سے نکلتے ہوئے جب ہم نے گھڑی پر نظر ڈالی تو حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکے کہ اس سارے عمل میں ہمیں بمشکل دس منٹ کا وقت لگا، سارے کام نہایت سرعت سے انجام پائے۔ 

گھر کی طرف جاتے ہوئے ہمیں اپنے بائیں بازو میں ہلکا درد اور بھاری پن سا محسوس ہوا، جو وقت کے گزرنے کے ساتھ بڑھتے گئے۔ 

گھر پہنچتے ہوئے ہمارے پورے بائیں بازو، شانے اور گردن تک میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہونے لگا، تاہم اس سے زیادہ کوئی دوسرا احساس نہیں تھا۔ 

اس روز شام کے قریب ایک آدھ مرتبہ ہمیں محسوس ہوا جیسے ہمارا سر چکرایا ہو، لیکن وہ شاید محض وہم تھا۔  

ابتدا میں تو ہم بازو میں تکلیف سے کچھ پریشان ہوئے، تاہم بعد میں ہماری اہلیہ نے یاد کروایا کہ بچپن میں ہم لوگوں کو سکول میں ویکسین لگتی تھی تو اس رات بخار تک ہو جایا کرتا تھا، اور اسی لیے اگلے روز سکول کی چھٹی بھی ہوا کرتی تھی۔ بیگم صاحبہ کی یاد دہانی پر کچھ اطمینان ہوا کہ ایسا تو ہر ویکسین کے لگانے پر ہوتا ہے، اس میں بھلا کرونا ویکیسن کا کیا قصور؟ 

ہم اب مشرف با کرونا ویکسین ہو گئے ہیں اور پورا امکان ہے کہ کرونا وائرس اب ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا، تاہم ایک ڈاکٹر دوست نے مشورہ دیا کہ ویکیسن لگوانے کے باوجود ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا۔ 

ان ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ ویکسین آپ کے جسم میں قدرتی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے، جس کی وجہ سے کرونا وائرس کے حملے کی صورت میں کووڈ 19 ہونے کا امکان کم سے کم ہو جاتا ہے۔ 

لیکن ویکیسن کرونا وائرس کے حملے کو نہیں روک سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ ویکسین کا شاٹ لگانے کے بعد بھی ہم احتیاطی ایس او پیز پر پوری طرح عمل کریں، جن میں ماسک کا استعمال، رش والی جگہوں سے دور رہنا، سماجی فاصلہ وغیرہ شامل ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہونے والی تباہ کاریوں کے پیش نظر بہتر ہے کہ ہم سب ویکیسن لگائیں اور خود اور اپنے پیاروں کو اس مہلک یک خلیاتی جرثومے کے مضر اثرات سے محفوظ رکھیں۔ 

ترلائی ویکسینیشن سنٹر میں ویکسین لگوانے آنے والی ایک خاتون کے الفاظ ہمیں اب بھی یاد ہیں، جو انہوں نے اپنے ساتھ آنے والے نوجوان سے کہے تھے: ’فرض کریں لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ ویکسین نقصان پہنچا سکتی ہے، ویکسین نہ لگائیں تو بھی کرونا وائرس نقصان پہنچائے گا، تو اگر مرنا ہی ٹھہرا تو بہتر ہے کہ ویکسین لگوا کر مریں، افسوس تو نہیں ہو گا کہ خود کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔‘ 

ویکسین کا پہلا شاٹ لگوانے کے بعد ٹی وی پر ایک ڈاکٹر کو سن کر بہت اطمینان ہوا کہ ہمارا فیصلہ بہت ٹھیک اور بروقت تھا۔ ڈاکٹر صاحب جن کا نام مھجے یاد نہیں رہا کہہ رہے تھے: ’میں نے اتنے عرصے میں کسی ایسے شخص کو کووڈ 19 کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوتے نہیں دیکھا جس نے ویکسین لگوائی ہو۔‘ 

یعنی ویکسین لگانے کے بعد بھی آپ پر کووڈ 19 کا حملہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کی شدت بہت کم ہو گی اور اتنی کم کہ آپ کو اسپتال کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی، معمولی زکام اور بخار کے بعد آپ بالکل تندرست ہو جائیں گے، اور ایسا ویکسین لگوا کر ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

اس لیے: ’کرونا کو ناں، ویکسین کو ہاں۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان