جسٹس عیسیٰ نظرثانی کیس: ایف بی آر کی تمام کارروائی کالعدم قرار

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرِ ثانی پٹیشن منظور کر لی ہے جس میں عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورٹ نظر ثانی کر کے عبوری حکم کو ختم کرے۔ (صابر نذر)

سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرِ ثانی پٹیشن منظور کر لی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت پیر کو مکمل ہونے پر سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی نظر ثانی درخواستیں منظور کر لیں۔

سرینا عیسیٰ کی درخواست 10 میں سے چھ ججز نے منظور کی، جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اب ایف بی آر کی تحقیقات، کارروائی اور رپورٹ کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد صدارتی ریفرنس کے تفصیلی فیصلے کے پیراز چار سے گیارہ کالعدم ہو گئے ہیں۔ ان پیراز میں سرینا عیسیٰ اور بچوں کی جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجا گیا تھا۔ جسٹس یحیٰ آفریدی نے سرینا عیسیٰ سمیت دیگر تمام فریقین کی درخواستیں منظور کی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست اس نقطے پر مسترد کی کہ بحثیت جج ان کو درخواست دائر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن مجموعی طور پر ایف بار آر کے معاملے پر نظرثانی ثانی درخواستیں چھے چار سے منظور ہو گئیں۔

یاد رہے کہ 19 جون کے عدالتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لندن میں جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس کے بعد جسٹس عیسیٰ نے اس فیصلے کے اس حصے کو واپس لینے کے لیے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جو آج عدالت نے منظور کر لی۔

اس نظرثانی درخواست کی پہلی سماعت آٹھ دسمبر کو ہوئی، جو چھ رکنی بینچ نے کی تھی لیکن بعد میں درخواست گزار کی جانب سے اعتراض آیا کہ دیگر متعلقہ ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے جس کے بعد 10 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

نظرثانی درخواست میں کیا موقف تھا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورٹ نظر ثانی کر کے عبوری حکم کو ختم کرے۔ 

درخواست میں استدعا کی گئی کہ نظر ثانی درخواست پر فیصلے تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائے اور عبوری حکم دیے جانے سے پہلے کیس سے متعلقہ زیر التوا متفرق درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

درخواست میں جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر نے ان کے اہل خانہ کے خلاف کارروائی تفصیلی فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ایف بی آر کو تحقیقات کے لیے کہنا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا، جبکہ ایف بی آر کو سپریم جوڈیشئل کونسل میں رپورٹ جمع کرانے کے احکامات بھی بلا جواز ہیں۔

یاد رہے کہ 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے صدارتی ریفرنس خارج کرنے کا حکم دیا تھا اور ایف بی آر کو ٹیکس معاملات سے متعلق تحقیقات کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

آج کی سماعت کا احوال

صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیے کہ معزز جج اور عدالتی ساکھ کا سوال ہے۔ ادارے کی ساکھ کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے حق دعویٰ نہ ہونے کا سوال اٹھایا تھا۔ وفاقی حکومت کیس میں باضابطہ فریق ہے اور عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ریفرنس کالعدم ہونے پر نظرثانی نہیں کی۔ عدالت نے ریفرنس قانونی نقاط میں بےاحتیاطی برتنے پر کالعدم کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ سرینا عیسیٰ کو وضاحت کا موقع دیے بغیر ریفرنس دائر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کیس ایف بی آر کو نہ بھجواتی تو وفاقی حکومت نظر ثانی اپیل دائر کرتی۔ حکومت کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے۔

عامر رحمٰن نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ عملدرآمد کے بعد فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی بھی مواد کا جائزہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

اس موقعے پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے نکتہ اٹھایا کہ پہلے آپ کا موقف تھا کہ جوڈیشل کونسل کو ہدایات دی جاسکتی ہیں۔ کیا آپ کا موقف نظر ثانی درخواستوں کے حق میں نہیں جاتا؟

عامر رحمٰن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے موقف ہے جوڈیشل کونسل کو عدالت نے کوئی ہدایت نہیں دی۔ سپریم کورٹ صرف غیر معمولی حالات میں جوڈیشل کونسل میں مداخلت کر سکتی ہے۔ افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس معطل کیا گیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حقائق افتخار چوہدری کیس سے مختلف ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کو شاید ایک فریق کو سن کر اٹھ جانا چاہیے، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال حکومتی وکیل کے منہ میں الفاظ ڈال رہے ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ ایف بی آر رپورٹ پر اگر ہم ابزرویشن دیں تو کیا جوڈیشل کونسل پراثر انداز نہیں ہو گا؟

حکومتی وکیل نے جواب دیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ ایف بی آر کارروائی کو بدنیتی قرار دے کر نظر ثانی کی بنیاد بنا رہے ہیں، جو دستاویزات نظر ثانی کی بنیاد ہے اس پر دلائل دینا میرا حق ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے دلائل کے درمیان مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی ار نے عدالتی حکم پر ہی تحقیقات کی تھیں۔ شاید پھر سے کوشش ہو رہی کہ وقت ضائع کیا جائے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت سے کہا کہ میں عدالتی سوالات کے جوابات دے رہا ہوں اور کہا جارہا ہے کہ وقت ضائع کر رہا ہوں۔ جن دستاویزات کا حوالہ دے رہا ہوں وہ الفاظ ایف بی آر رپورٹ نہیں۔ رولز کے مطابق سپریم کورٹ کو سوالات پوچھنے کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ بعض حقائق کی جانچ پڑتال کے لیے بیان حلفی بھی مانگ سکتی ہے۔

عامر رحمٰن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے تین سوالات ہی سارے کیس کی بنیاد ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ جواب دیں تو تنازع حل ہو سکتا ہے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے ٹیکس کمشنر نےطلب کر رکھا ہے جس پر گفتگو ہورہی ہے۔ کیا عدالت اِنکم ٹیکس افیسر ہے؟ ایف بی آر رپورٹ پر گفتگو کر کے وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ کوڈ آف کنڈیکٹ کے تحت کیسز کو جلد نمٹانا بھی ججز کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس قاضی عیسیٰ کے حکومتی وکیل کے دلائل کے دوران بار بار مداخلت کرنے پر جسٹس منظور ملک نے کہا ’قاضی صاحب آپ کو اردو اور انگلش میں کئی بار سمجھا چکا ہوں۔ اب لگتا ہے آپ کو پنجابی میں سمجھانا پڑے گا۔ قاضی صاحب مہربانی کریں اور بیٹھ جائیں۔‘ 

عامر رحمٰن نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی ججز کے احتساب سے منسلک ہے۔ ایک جج کے اہل خانہ کی آف شور جائیدادوں کا کیس سامنے آیا۔ ریفرنس کالعدم ہو گیا لیکن تنازع اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع ختم ہو۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس تنازعے کے حل کے لیے متعلقہ فورم ہے۔ عدالت نے فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کو کوئی ہدایت نہیں دی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ ایف بی آر رپورٹ کی شکایت کنندہ سپریم کورٹ نہیں؟ حکومتی وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر ویسے بھی کارروائی کا پابند تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق حقائق کب سامنے آئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق حقائق 2019 میں سامنے آئے تھے اور حقائق سامنے آنے سے پہلے ایف بی آر کیسے کارروائی کر سکتا تھا۔ جب حقائق سامنے آنے پر سوال اٹھا کہ جائیدادوں پر فنڈنگ کیسے ہوئی؟

حکومتی وکیل نے اس نکتے پر کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس ہونے کی وجہ سے ایف بی آر نے کچھ نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک بار پھر حکومتی وکیل کے دلائل پر سوال داغا کہ یہ کیسے اخذ کیا گیا کہ ایف بی آر سپریم کورٹ کی وجہ سے کارروائی نہیں کر رہا تھا۔ حکومتی وکیل نے جواباً کہا کہ یہ بھی تو فرض کیا جارہا ہے یہ ایف بی آر کارروائی نہیں کرے گا۔

اس مداخلت پر جسٹس منظور ملک نے کہا ’قاضی صاحب آپ کے بولنے سے عامر رحمٰن ڈر جاتے ہیں۔ کیا حکومتی وکیل آپ سے لکھوایا کریں کہ کیا دلائل دینے ہیں کیا نہیں؟‘

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تین سوالات پوچھے تھے۔ درخواست گزار جج کا جواب دینا لازم ہے یانہیں اس کاجواب قانون شہادت میں ہے۔ انہوں نے کہا  کہ قانون شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت جس پر الزام لگایا ہے اسے جواب دینا پڑتا ہے۔

جسٹس منظور ملک نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ غیرمتعلقہ دلیل دے رہے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب قانون بھی واضح ہے اور ہمارے ذہن بھی بالکل کلیئر ہیں۔ جسٹس قاضی امین نے حکومتی وکیل سے کہا کہ زیرسماعت مقدمہ فوجداری یا دیوانی ٹرائل نہیں۔ ایسے نہ کریں، ہم نےپوری زندگی اسی قانون کو پڑھنےمیں گزاردی ہے۔

دلائل مکمل ہونے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جو جائیدادیں خریدی گئیں ان کے ذرائع کی تصدیق ایف بی آر کا کام ہے۔ موجودہ کیس میں تحقیقات سرینا عیسیٰ کے خلاف شروع ہوئیں۔ اس معاملے کو دبانا  زبردستی ختم کرنے کے مترادف ہے۔

اگر حکومتی وکیل ان تین سوالات کا جواب مثبت دیں گے تو جسٹس فائز عیسیٰ جوابدہ ہیں اور اگر آپ ان تین سوالات کے جوابات منفی دیں گے تو بات ختم۔ انہوں نے کہا ‏جسٹس فائز عیسیٰ نے ان تین سوالات کےجوابات دینے سے انکار کیا ہے۔

اس موقع پر جسٹس قاضی عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال سے کہا کہ ‏آپ میرے منہ میں الفاظ ڈال کر بات نہ کریں۔ میں نے سوالات کا جواب دینے سے انکار نہیں کیا۔ میں نے صرف سوالات پر اعتراض اٹھایا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جسٹس فائز عیسٰی کہتے ہیں وہ اہلیہ کے اثاثوں کے جوابدہ نہیں۔

اسی دوران سرینا عیسیٰ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال کو ایک مشورہ ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال بندیال اور جسٹس منیب اختر احتساب کے لیے بہت کوشاں ہیں۔ دونوں ججز اپنے اور اپنی بیگمات کے اثاثے پبلک کریں۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں کہا کہ ’میڈم پلیز، آپ خاموش ہوجائیں۔‘

سماعت مکمل ہونے پر بینچ نے آدھا گھنٹا مشاورت کا کہتے ہوئے کہا تھا کہ تھوڑی دیر تک بتائیں گے کہ  فیصلہ آج سنانا ہے یا کل سنایا جائے گا۔ لیکن بینچ نے دو گھنٹے مشاورت کی اور فیصلہ سنایا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان