بجلی پیدا کرنے والی دیوہیکل ہوا چکیاں

اس وقت پاکستان کی کُل بجلی کی ڈیمانڈ 25,000 سے 26,000 میگاواٹ کے درمیان ہے اور پاکستان اکنامک سروے کے مطابق سال 2020 تک پاکستان کی کُل انسٹالڈ کپیسٹی 35,972 میگاواٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ صارفین تک پہنچاناہے۔

کراچی سے حیدرآباد کا سفر کرتے ہوئے جھم پیر کے مقام پر بنجرو بیابان زمین پر اچانک دائیں بائیں سفید دیو ہیکل پنکھے آپ کو حیران کر دیتے ہیں۔

سست روی سے چلتے ہوئے پنکھے کے تینوں پر دیکھنے والوں کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔

سندھ کی اس بنجر زمین کو خدائے قدرت نے اس نعمت سے نوازا ہے کہ یہاں ہوا کی رفتار سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

 جدید تحقیق کے بعد اس بات کا تعین کیا گیا کہ یہ علاقہ ونڈ انرجی کی پیداوار کے لیے پاکستان میں پائی جانے والی چند بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جھم پیر اور گھارو کی ان راہداریوں میں 50,000 میگاواٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ 

اس علاقے میں تقریباً 12 سو میگاواٹ کے پروجیکٹ  لگے ہوئے ہیں جواس وقت مکمل طور پر کام کر رہے ہیں اور سستی بجلی  پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت پاکستان کی کل بجلی کی ڈیمانڈ 25,000 سے 26,000 میگاواٹ کے درمیان ہے اور پاکستان اکنامک سروے کے مطابق سال 2020 تک پاکستان کی کُل انسٹالڈ کپیسٹی 35,972 میگاواٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کو صارفین تک پہنچانا اصل مسئلہ ہے۔

فرمان لودھی، جو پاکستان کے ایک بڑے بزنس گروپ سے وابستہ ہیں اور اس پراجیکٹ کے کچھ ٹربائینز ان کی کمپنی کی ملکیت ہیں، وہ پچھلے آٹھ سال سے ونڈ اور سولر اینرجی سیکٹر میں کام کر رہے ہیں

انہوں نے انڈپیںڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ صاف بجلی پیدا کرنے کا سب سے موثرذریعہ (گرین انرجی) ہے، اور اس کی وجہ سے فیول کی برآمدات پر ہمارا انحصار کم ہوجاتا ہے۔ جیسے پانی ہمارا اپنا ہے، کوئلہ اب ہم تھر سے نکال رہے، بالکل اسی طرح اس بجلی کی پیداوار بجلی بنے سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ اس صورتحال میں جو سب سے مثبت بات یہ ہے بین الاقوامی منڈی میں جب فیول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ پر اس کا اثر نہیں ہو گا۔‘

زبیر سولنگی جو کے پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئیر ہیں اور اس علاقے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا اب گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگرآپ دیکھیں تو کوئی بھی ملک اب بجلی بنانے کے لیے کوئلہ استعمال کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ہمیں بھی اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اسی طرف جانا چاہیے جہاں دنیا اب جارہی ہے۔‘

آلٹرنیٹو اینڈ رینیوایبل انرجی کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2030 تک 30 فیصد بجلی ونڈ اور سولر جیسے متبادل  ذریعوں سے بنانے  کا عزم رکھتا ہے تاکہ ملک میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو ساتھ ساتھ حل کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پالیسی کے تحت بایئوگیس،شمسی توانائی، ہوا، اور سٹوریج ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے پروجیکٹ استعمال کیے جائیں گے تاکہ ماحولیات کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

فرمان لودھی نے انڈپینڈنٹ اردو سے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہوا سے بجلی بنانے کا یہ عمل پاکستان میں سستی بجلی بنانے کے عمل کی شروعات ہے۔  اس سوال کے جواب میں کہ اگر یہ طریقہ کار اتنا موثر ہے تو اتنی دیر سے بروئے کار کیوں لایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان پہلے اس کو اس وجہ سے نہیں اپنا سکا چونکہ بجلی کی پیداوار کی مشینری کافی  مہنگی تھی، ہمارے پاس سرمایہ کاری کی کمی اس میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بنی اور دوسری وجہ یہ کہ ملک میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ناپید تھے۔

اب جب کہ سندھ میں جھمپیر اور گھارو کہ مقام پر ان پراجیکٹس کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں بھیجی جارہی ہے تو فرمان اس پر کافی پر امید نظر آتے ہیں۔

’ہماری ٹربائینز مجموعی طور پر اس وقت 1700 چھوٹے گھروں کو بجلی فراہم کر سکتی ہیں اور کراچی جیسے بڑے شہر ہوں تب بھی 500 گھروں کی بجلی ان ہوا چکیوں سے دی جا سکتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان