پنجاب میں علیحدہ گروپ کی وجہ ’انتقامی کارروائیاں‘: جہانگیر ترین

لاہور میں عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ وہ تحریک انصاف سے علیحدہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ’ہم پہلے بھی تحریک انصاف کا حصہ تھے، اب بھی ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے۔‘   

جہانگیر ترین نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کا حصہ ہیں او ر رہیں گے (اے ایف پی فائل)

حکمراں جماعت تحریک انصاف کے زیر عتاب رہنما جہانگیر ترین نے پنجاب میں الگ گروپ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ پنجاب حکومت کی ان گروپ اراکین کے خلاف ’انتقامی کارروائیاں‘ ہیں۔

لاہور میں عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں واضح کیا کہ وہ تحریک انصاف سے علیحدہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ’ہم پہلے بھی تحریک انصاف کا حصہ تھے، اب بھی ہیں اور مستقبل میں بھی انشا اللہ رہیں گے۔‘   

اس سے قبل منگل کو رات گئے جہانگیر ترین کے حامی اراکین اسمبلی نے علیحدہ گروپ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور پنجاب میں الگ پارلیمانی لیڈر بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔

ایم این اے راجہ ریاض قومی اسمبلی اور سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی رہنما ہوں گے۔

جہانگیر ترین کے گھر پر ہونے والے اس اجلاس میں شرکا سے ترین گروپ کے ساتھ وفاداری کا حلف بھی لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اتوار کے روز دوبارہ اجلاس طلب کیا گیا۔

لاہور کی سیشن کورٹ میں بدھ کو منی لانڈرنگ کے دو مقدمات میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی درخواست برائے عبوری ضمانت پر سماعت میں دونوں عدالت میں پیش ہوئے۔ 

سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے کے افسر سے سوال کیا کہ تحقیقات کہاں تک پہنچی؟ اس پر ایف آئی اے نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ہم ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں، بھاری ٹرانزیکشنز ہوئیں اس پر تحقیقات کر رہے ہیں، ریکارڈ ہمارے پاس آ گیا ہے اس کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

دوران سماعت سیشن کورٹ کے جج حامد حسین نے ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔

عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانتوں میں 31 مئی تک توسیع کردی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ دو ایشوز پر بات ہوئی ہے ایک ان کے خلاف کارروائی ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان کے وعدے پر انہیں اعتماد ہے کہ ناانصافی نہیں ہو گی لیکن دوسرا مسئلہ پنجاب حکومت کی جانب سے ان کے گروپ کے اراکین کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ’مجھے امید ہے میرے خلاف تحقیقات کی رپورٹ جلد منظر عام پر آ جائے گی۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں وہ اپنی آواز اٹھائیں گے۔ ’اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت کے غلط رویے پر ہے۔ ہمارا گروپ تین ماہ سے بنا ہوا ہے اب وہ اس کے اراکین پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اراکین اسمبلی کے ساتھ بیٹھیں اور اپنی کارروائیاں بند کریں۔ ’مل بیٹھ کر ہی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جب ان کے دوست وزیر اعظم عمران خان سے ملے تو وہ خوش دلی سے ملے اور علی ظفر کو معاملے کی انکوائری کے لیے نامزد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جس جس معاملے پر سوال اٹھایا تھا انہیں دستاویزات حوالے کر دی گئی ہیں یعنی تمام منی ٹریل فراہم کر دی ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس کی رپورٹ جلد منظر عام پر آ جائے گی۔

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین، ان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول تین خواتین اور سابق سیکریٹری زراعت رانا نسیم احمد کے خلاف منی لانڈرنگ کے دو مزید مقدمات مارچ 2021 کو درج کر کے تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو ملنے والی ایف آئی آرز 22 مارچ کو درج ہوئی تھیں، تاہم جہانگیر ترین نے ان مقدمات کو ’من گھڑت‘ قرار دے دیا ہے۔

حامی گروپ کے پارلیمانی لیڈروں کا اعلان

ترین گروپ کے اجلاس میں شامل صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال نے تصدیق کی کہ ہم نے علیحدہ پارلیمانی گروپ تشکیل دے دیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں راجہ ریاض اور پنجاب میں بکھر سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے سعید اکبر نوانی پارلیمانی لیڈر ہون گے۔

ان کے مطابق منگل کی شام کو جہانگر ترین کی رہائش گاہ پر ہونے واکے عشائیے میں 31 اراکین شریک تھے اور کچھ ایسے تھے جو مصروفیت کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب پنجاب کے صوبائی وزیر یاور بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائدہ ارشد چوہدری سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے ہر جماعت میں ہوتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم عدل وانصاف کا نعرہ لگا کر حکومت میں آئے تو کسی کو فیور یا اس سے زیادتی نہیں کر سکتے۔ ترین صاحب کی طرح ریکارڈ مینٹین کرنے والا کوئی کاروباری نہیں تو انہیں خطرہ کس بات کا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا پارلیمانی لیڈرز انہوں نے اس لیے بنائے کہ آواز اونچی ہو جائے لہذا ان کی جائز بات سنی جانی چاہیے یہ ان کا حق ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست