ہمسایہ ممالک نے امریکہ کو اڈے دیے تو ’تاریخی غلطی‘ ہوگی: طالبان

افغان طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ہمسایہ ممالک کا اپنی زمین پر امریکہ کو اڈے فراہم کرنا یا کام کرنے کی اجازت دینا ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد افغانستان کی حکومتی افواج کے لیے تنہا طالبان کا سامنا کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔(فائل  تصویر:  اے ایف پی)

طالبان نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی زمین پر فوجی اڈے بنانے کی اجازت نہ دیں، دوسری صورت میں یہ ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ’ہمسایہ ممالک کا اپنی زمین پر امریکہ کو اڈے فراہم کرنا یا کام کرنے کی اجازت دینا ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔‘

یاد رہے کہ امریکہ اس وقت افغانستان سے انخلا میں مصروف ہے اور حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے سفارتی رابطوں کے باعث ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے کہ پینٹاگون کو طالبان کے خلاف نئے اڈوں کی تلاش ہے۔

طالبان کے بیان میں کہا گیا: ’ہم ہمسایہ ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اگر ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ ایک تاریخی غلطی اور قابل شرم بات ہوگی۔‘

بیان کے مطابق: ’طالبان ایسے گھناؤنے اور اشتعال انگیز عمل کے جواب میں خاموش نہیں رہیں گے۔‘

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے کئی ہمسایہ ممالک نے امریکہ کو اپنی زمین پر فوجی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔

اب ان ممالک میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں کافی کمی آ چکی ہے، لیکن کچھ ممالک اب بھی امریکہ کو فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’یہ خبر بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں اس بات کو پارلیمان میں صاف طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کبھی بھی امریکہ کو اپنی زمین پر اڈے بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

گذشتہ سال امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ رواں سال افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل کر لیا جائے گا۔

جواب میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ، داعش یا کسی بھی شدت پسند گروہ کو افغانستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

گذشتہ مہینے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں مقیم آخری 2500 امریکی فوجی 11 ستمبر تک افغانستان چھوڑ دیں گے۔

لیکن غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد افغانستان کی حکومتی افواج کے لیے تنہا طالبان کا سامنا کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں جاری ہیں۔ طالبان زیادہ سے زیادہ رقبے پر قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے امن مذاکرات بھی ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا