حسن علی کے ساتھ تنازع استعفے کی وجہ نہیں: یونس خان

سابق کپتان کے مطابق انہوں نے جنوری میں اپنا استعفیٰ پی سی بی کو ای میل کر دیا تھا لیکن چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کی معذرت کے بعد وہ دوبارہ کام کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔

یونس خان نے ٹیم کے امور میں نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کے کوچز کی بے جا مداخلت پر بھی افسوس کا اظہار کیا(فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور قومی ٹیم کے سابق کوچ یونس خان نے کہا ہے کہ حسن علی سے ہونے والی تلخ کلامی ان کے استعفے کی وجہ نہیں تھی۔

نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ ’حسن علی سے تلخ کلامی والا واقعہ چار سے پانچ ماہ قبل جنوبی افریقہ میں پیش آیا تھا جب کہ بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے استعفیٰ میں نے ابھی حال ہی میں دیا ہے، اس لیے اس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

پروگرام کے میزبان نے جب ان سے پوچھا کہ وہ حسن علی کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کی تردید نہیں کر رہے تو سابق کپتان نے کہا: ’جی میں بالکل تردید نہیں کر رہا، یہ واقعہ ہوا تھا لیکن چند روز بعد ہی دونوں کے درمیان صلح صفائی ہو گئی تھی۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ سے راہیں جدا ہونے کی اصل وجہ بتاتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ دورہ افریقہ کے بعد وہ ان کے دانتوں کی سرجری ہونا تھی اور ہیڈ کوچ نے انہیں فون کرکے کیمپ پہنچنے کی ہدایت کی، تاہم انہوں نے مصباح الحق کو اپنی مجبوری کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ ’اس دوران میری پہلی سرجری ہو چکی تھی اور پی سی بی کی میڈیکل ٹیم نے انہیں بائیو ببل میں شامل ہونے کو کہا تاکہ 20 جون کو ہم انگلینڈ روانہ ہو سکیں لیکن میں نے انہیں اپنی دوسری سرجری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 22 جون تک ہی ان کا ٹریٹمنٹ مکمل ہو گا۔‘

یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک اہم شخصیت نے انہیں فون کرکے کہا کہ انہیں 20 جون کو ہر صورت بائیو ببل میں شامل ہونا پڑے گا ورنہ آپ انگلینڈ نہیں جا سکیں گے، بات یہاں تک تو ٹھیک تھی لیکن جب انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو یاد ہے کہ ہم نے محمد حفیظ کے ساتھ بھی کیا کیا تھا، جس پر میں نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ میں محمد حفیظ نہیں ہوں، میں یونس خان ہوں اور اب ہم ساتھ نہیں چل سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی عزت سب سے مقدم ہے اور اسی وجہ سے ہی وہ رواں سال جنوری میں میں استعفیٰ پیش کر چکے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونس خان نے ٹیم کے امور میں نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر (این ایچ پی سی) کے کوچز کی بے جا مداخلت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا: ’میں بیٹنگ کوچ تھا لیکن مجھے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کیمپ میں کون آرہا ہے۔ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پی سی بی کو کم سے کم مجھے این ایچ پی سی کے کوچز کی آمد کے بارے میں بتانا چاہئے تھا۔‘

یونس  نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ان کے لیے کس حد تک ناگوار تھا: ’یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنی ذاتی کمرے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہوں اور باہر سے کوئی آکر آپ کے بیڈ پر بیٹھ جائے تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟‘

سابق کپتان نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے جنوری میں اپنا استعفیٰ پی سی بی کو ای میل کر دیا تھا لیکن چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے معذرت کی تھی جس کے بعد وہ دوبارہ کام کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔

پروگرام کے میزبان نے ان سے پوچھا کہ کیا یونس خان اب کبھی پی سی بی کے ساتھ کام نہیں کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں اب پہلے سے زیادہ تفصیلی اور ایک ایک لائن کی وضاحت کے ساتھ کنٹریکٹ بنواؤں گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ