’بحر ہند میں اسرائیلی مال بردار جہاز پر نامعلوم ہتھیار سے حملہ‘

لبنان کے المیادین چینل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی بحر ہند میں اسرائیل کے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا ہے، تاہم ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ایک مال بردار جہاز کی فائل تصویر۔  ہفتے کو ایک اسرائلی مال بردار جہاز کو بحر ہند میں نشانہ بنایا گیا جو متحدہ عرب امارات کی جانب جا رہا تھا (اے ایف پی فائل) 

لبنان کے المیادین چینل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی بحر ہند میں اسرائیل کے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا ہے جس سے اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ان رپورٹس کی آزادنہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارت کی جانب جاتے اسرائیل کے ایک مال بردار جہاز کو بحر ہند میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق المیادین چینل نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی جہاز کو ’ایک نامعلوم ہتھیار‘ سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور اسرائیلی حکام نے اس پر فوراً تبصرہ نہیں کیا۔

روئٹرز نے اسرائیلی چینل این 12 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دفاعی اہلکار اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا ہفتے کو نشانہ بننے والے جہاز کو ایرانی افواج نے نشانہ بنایا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق المیادین نے رپورٹ کیا کہ اسرئیلی جہاز پر ’نامعلوم ہتھار‘ سے حملہ شمالی بحر ہند میں ہوا جس سے جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔  

’قابل اعتماد ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’متحدہ عرب امارت کی جانب بڑھنے سے پہلے اسرائیلی جہاز جدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کسی نے فی الوقت اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔‘

ادارے کے ذرائع نے ایک سبوتاژ مشن کے بارے میں بھی بتایا جو گذشتہ ماہ کرج شہر میں ایران کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای او کی ایک مرکزی عمارت پر کیا گیا، جس سے مبینہ طور پر کافی نقصان بھی ہوا۔  

یروشلم پوسٹ کے مطابق جہاز اسرائیل کی ملکیت ہے مگر ذرائع کے مطابق اس کا عملہ اسرائیل سے نہیں ہے۔

 اسرئیلی ذرائع کا کہنا تھا کہ کرج میں مبینہ حملے کے بارے میں بتانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ تاثر مل سکے کہ جہاز پر حملہ کرج حملے کے ردعمل میں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا