چینی نوجوانوں میں ’سیدھے لیٹنے‘ کی مہم مقبول کیوں ہو رہی ہے؟

چین میں کئی نوجوان شہروں کی دباؤ بھری زندگی اور موقعوں کی کمی کے باعث ملازمت چھوڑ کر پر سکون زندگی بسر کرنے کے لیے چھوٹے شہروں میں منتقل ہونے لگے ہیں۔

اس تصویر میں گئو جیانلونگ  یونان صوبے میں اپنے گھر میں کتاب پڑھ رہے ہیں۔ چین میں کئی نوجوان نوکریوں کے دباؤ سے تنگ آ کر آرام و سکون کی زندگی جینے کا فیصلہ کر رہے ہیں (گئو جیانلونگ/ اے پی)

کام کے دباؤ سے تنگ گئو جیانلونگ نے اخبار کی ملازمت چھوڑی اور چین کے جنوب مغربی پہاڑی علاقے میں منتقل ہو گئے تاکہ وہاں آرام و سکون سے ’لیٹے رہیں۔‘

گئو نے چین کے شہری علاقوں میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے چھوٹے لیکن نمایاں گروپ میں شمولیت اختیار کرلی ہے جو لائی فلیٹ (Lie Flat) یعنی ’سیدھا لیٹنا‘، مطلب سکون کی زندگی، گزارنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ ’کم خواہشات والی زندگی‘ جینے کے لیے تھکا دینے والے پیشوں کو رد کرکے حکمران کمیونسٹ پارٹی کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ رویہ قیام کے سو سال منانے والی کمیونسٹ پارٹی کے کامیابی کے پیغام اور کنزیومرزم سے متصادم ہے۔ 

44 سالہ گئو، صوبہ یونان کے قصبے ڈالی میں فری لانس لکھاری بن گئے تھے۔ یونان کا صوبہ اپنے روایتی فن تعمیر اور قدرتی مناظر کی بدولت مشہور ہے۔ گئو نے اسی قصبے میں ملنے والی ایک خاتون سے شادی کی۔

انہوں نے بتایا: ’میرا کام ٹھیک تھا لیکن مجھے یہ زیادہ پسند نہیں تھا۔ صرف پیسے کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنا کام کرنے میں کیا حرج ہے؟‘

ناول نگار لیاؤ زینگ ہو ملک کے سب ممتاز کاروباری میگزین کیسن میں لکھتے ہیں کہ کام کے انتہائی دباؤ کے شکار ایسے پیشے جہاں بظاہر کام کے اوقات کی کوئی حد نہیں ہے، کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ’خوف ناک گھن چکر‘ کے مقابلے میں ’سیدھا لیٹنا‘ ایک ’مزاحمتی تحریک‘ ہے۔

لیاؤ لکھتے ہیں: ’آج کے معاشرے میں ہمارے ہر قدم کی نگرانی اور ہر عمل پر تنقید کی جاتی ہے۔ کیا بس ’سیدھے لیٹ‘ جانے سے بڑھ کر بھی کوئی بغاوت ہے؟‘

یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگ اب تک اپنی ملازمت چھوڑ چکے ہیں یا انہوں نے بڑے شہروں کو چھوڑ دیا ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ اور شنگھائی میں رش کے اوقات میں زیرزمین چلنے والی ٹرینوں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر چینی نوجوان ایسی بہترین ملازمتوں میں جان مارتے ہیں جنہیں وہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے باوجود حکمران جماعت اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی کوشش کر رہی ہے۔ بیجنگ کو پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی اور دوسری صنعتوں کو فروغ دے سکیں۔ چین کی آبادی بوڑھی ہوتی جا رہی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت رکھنے افراد کی تعداد میں پانچ فیصد کمی آئی ہے جو 2011 میں سب سے زیادہ تھی۔

کمیونسٹ پارٹی کے اخبار سدرن ڈیلی نے اپنے تبصرے میں لکھا: ’جدوجہد بذات خود ایک طرح کی خوشی ہوتی ہے۔ دباؤ کے مقابلے میں ’لیٹ جانا‘ نہ صرف ناجائز بلکہ شرمناک بھی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جاپان اور دوسرے ملکوں میں بھی اسی قسم کا رجحان پایا جاتا ہے، جہاں نوجوان طبقے نے ملازمت کے کم امکانات اور کم ہوتے معاشی فوائد کے مقابلے میں غیرمادہ پرست طرز زندگی اپنایا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں چین میں معاشی ترقی میں فی کس حصے میں دگنا اضافہ ہوا ہے لیکن بہت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ اس سے حاصل ہونے والے زیادہ تر فوائد مٹھی بھر کاروباری افراد اور ریاست کی ملکیت کمپنیوں کے حصے میں آئے۔ پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل افراد کہتے ہیں کہ ان کی آمدنی رہائش اور بچوں کی پرورش جیسے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کم پڑ رہی ہے۔

مسئلے کی سیاسی حساسیت کے پیش نظر چار پروفیسر حضرات جو چینی میڈیا میں لائی فلیٹ یا ’سیدھے لیٹنے‘ کی مہم پر پہلے بات کرچکے تھے، نے اب اس موضوع پر ایک غیر ملکی صحافی سے بات کرنے سے انکار کردیا۔

سرکاری سطح پر ناراضی کی ایک اور علامت یہ ہے اس مہم کی تھیم سے جڑی ٹی شرٹس، موبائل فون کے کور اور دوسری مصنوعات آن لائن کاروباری پلیٹ فارمز سے غائب ہو رہی ہیں۔

شہری علاقوں میں کام کرنے والے ملازمین کو شکایت ہے کہ کام کے اوقات ہفتے میں چھ دن اور صبح نو سے رات نو بجے تک بڑھ گئے ہیں۔ 

چینی سوشل میڈیا سروس ’ڈوبن‘ پر شیا بنگ باؤ، یا سمر ہیل سٹونز کے نام سے لکھنے والی ایک خاتون نے لکھا: ’ہمارا عام طور پر ماننا ہے کہ غلامی ختم ہو چکی ہے، لیکن دراصل یہ ایک نئے معاشی دور کے تقاضوں میں ڈھل گئی ہے۔‘

20 سال سے زائد عمر کے بعض گریجویٹس، جنہیں ملازمت کے بہترین مواقعے میسر آنے چاہیے تھے، کا کہنا ہے کہ وہ ہائی سکول اور یونیورسٹی کے امتحانات دیتے دیتے تھگ گئے ہیں۔

گریجویشن کرنے والے 25 سالہ طالب علم ژائی شیانگیو کے بقول: ’مجھے شہرت اور قسمت بنانے کے پیچھے جانے میں دلچسپی نہیں ہے۔ میں بہت تھک چکا ہوں۔‘

بعض پیشہ ور افراد اپنا کیریئر ترک کر رہے ہیں۔ اس عمل نے ان کے تجربے کو ملازمتوں کے پول سے نکال دیا ہے۔

شنگھائی میں انسانی وسائل کی مینیجر شو ژن جینونگ نے کہا ہے کہ وہ 45 سال کی عمر میں ملازمت چھوڑ رہی ہیں۔ وہ چین میں خواتین کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے 10 سال پہلے ہی ایسا کر رہی ہیں۔ وہ کروشیا میں پیدا ہونے والے اپنے خاوند کے ساتھ ان کے ملک جائیں گی۔

شو ژن نے کہا: ’میں قبل از وقت ریٹائر ہونا چاہتی ہوں۔ میں مزید لڑنا نہیں چاہتی۔ میں دوسرے مقامات پر جا رہی ہوں۔‘

کمیونسٹ پارٹی نے مئی میں بچوں کی پیدائش کی حد میں نرمی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت جوڑوں کو دو کی بجائے تین بچے پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ہزاروں چینی شہریوں نے اپنی مایوسی کا آن لائن اظہار کیا۔ پارٹی نے زیادہ بچے پیدا کرنے پر 1980 سے پابندی لگا رکھی ہے۔ اس پابندی کا مقصد آبادی میں اضافے پر قابو پانا ہے لیکن ان پابندیوں نے چین کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ معاشی ترقی میں انفرادی کردار عالمی شرح سے کم ہے اس لیے مزید نوجوان کارکنوں کی ضرورت ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے اعلان کے چند منٹ بعد ہی ویب سائٹس پر شکایات کا سیلاب امڈ آیا۔ شہریوں کو شکایت تھی کہ اس فیصلے سے والدین کو بچوں کی پرورش پر اٹھنے والے اخراجات، کام کے طویل دورانیے، گنجان آباد رہائش، ملازمت میں ماؤں سے امتیازی سلوک اور معمر والدین کی دیکھ بھال میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

شیا لکھتی ہیں کہ وہ ہانگ کانگ میں کام کرنے کے بعد ’کم خواہشات والی زندگی‘ کے لیے شنگھائی کے جنوب میں واقع صوبے ژجیانگ منتقل ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی زبان کی رپورٹر کی حیثیت سے اعلیٰ ملازمت کے باوجود ان کی آمدنی کا 60 فیصد کرائے میں چلا جاتا تھا اس لیے ہر مہینے کے آخر میں ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔

وہ اس دلیل کو مسترد کرتی ہیں کہ وہ نوجوان جو لیٹنے کی مہم میں شامل ہوگئے ہیں وہ معاشی ترقی کو ترک کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق معشی ترقی ایک ایسی معیشت میں پہلے سے ہی بہت سے لوگوں کی رسائی سے دور ہے جس میں امیر طبقے اور اکثریت کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

انہوں نے ڈوبن پر لکھا: ’جب وسائل اوپر بیٹھے چند لوگوں اور ان کے رشتہ داروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مخصوص ہوں تو کارکن طبقہ سستا اور تبدیل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں اپنی قسمت کو دوسروں سے ملنے والی تھوڑی سی امداد کے سہارے چھوڑنا عقلمندی ہوگی؟‘

شیا نے انٹرویو کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

چین کے شہر ڈالی میں مقیم گئو نے کہا کہ وہ اخبار میں کام کے مقابلے میں فری لانس کے طور پر زیادہ وقت کام کرتے ہیں لیکن وہ زیادہ خوش ہیں اور ان کی زندگی زیادہ آرام دہ ہے۔ وہ اور ان کی اہلیہ چھٹی منزل پر واقع اپارٹمنٹ کی ہوا دار بالکونی میں ناشتہ کرتے ہیں جہاں سے درخت دکھائی دیتے ہیں۔

گئو کا کہنا تھا: ’جب تک میں لکھ سکتا ہوں میں بہت مطمئن ہوں۔ میں دباؤ یا سانس رکتا ہوا محسوس نہیں کرتا۔‘

جن لوگوں کی قوت برداشت ہے وہ کام سے مکمل طور پر الگ ہو گئے ہیں۔

بیجنگ میں27 سالہ آرکیٹیکٹ خاتون نے کہا ہے کہ انہوں نے معاشی آزادی کے لیے کم عمری میں ہی بچت شروع کر دی تھی۔

خاتون نے جنہوں نے اپنا نام صرف نانا بتایا، کا سوشل میڈیا پر انٹرویو میں کہنا تھا: ’گذشتہ ستمبر سے جب میں نے دیکھا کہ میری بچت 20 لاکھ یوآن (تین لاکھ ڈالر) ہو گئی ہے تو میں نے ملازمت نے چھوڑ دی۔‘

نانا نے بتایا کہ انہوں نے ملازمت کی ایک پیشکش کو مسترد کردیا جس کی تنخواہ 20 ہزار یوآن (تین ہزار ڈالر) ماہانہ تھی۔

انہوں نے اس پیشکش کو ملازمت کے طویل یومیہ دورانیے اور تخلیق کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے مسترد کیا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں سخت ضوابط سے آزادی چاہتی ہوں۔ میں سفر کرنا اور اپنے آپ کو خوش رکھنا چاہتی ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل