پاکستان میں اب نئے کرونا کیسز میں نصف ڈیلٹا ویریئنٹ کے ہیں: حکام

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ زیادہ بیمار کرنے والا ڈیلٹا ویریئنٹ برطانیہ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کے ذریعے ملک میں پہنچا۔

اسلام آباد میں  ایک خاتون کا کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے نمونا لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک  میں سامنے آنے والے  نئے کیسز میں سے 50 فیصد ڈیلٹا قسم کے ہیں (اے ایف پی فائل)

پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کی ڈیلٹا قسم تیزی سے پاکستان میں پھیل رہی ہے اور ملک میں روزانہ مثبت کیسز کی نصف تعداد بھارت میں شروع ہونے والے ڈیلٹا ویریئنٹ کی ہے۔

تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈبل میوٹینٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کا پہلا کیس گذشتہ سال اکتوبر میں بھارت میں سامنے آیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے کرونا کی یہ قسم دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیل گئی۔ اس ویریئنٹ کی خطرناک بات یہ ہے کہ اس سے پہلے اقسام کی نسبت اس میں زیادہ شدید بیماری جنم لیتی ہے، خاص طور پر کم عمر افراد میں۔

وبا کی تیسری لہر کے بعد حالیہ ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے کیسز میں کمی کے بعد پاکستان میں روزانہ مثبت کیسز کی شرح ہفتے کے روز 28.3 تک جا پہنچی جس کی شرح 28 جون کو محض 1.79 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

درالحکومت اسلام آباد میں حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں جہاں ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مثبت کیسز کا تناسب بڑھ کر 7.1 فیصد تک جا پہنچا۔ 

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں مسلسل چوتھے روز بھی 15 سو سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے این آئی ایچ کے فوکل پرسن ڈاکٹر ممتاز علی خان نے یفتے کو عرب نیوز کو بتایا: ’ہمارے ہاں روزانہ مثبت کیسز میں نصف سے زیادہ تعداد ڈیلٹا ویریئنٹ پر مشتمل ہیں جو ظاہر ہے کہ یہ اچھی علامت نہیں ہے۔‘

انہوں نےمزید  کہا: ’واضح طور پر مثبت کیسز میں ڈیلٹا قسم کی روزانہ کی تعداد اب سینکڑوں تک جا پہنچی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے شروع ہونے والی اقسام ’ایلفا‘ اور ’بیٹا‘ سے انفیکشن کے کیس میں سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ممتاز علی خان نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کے ذریعے ڈیلٹا ویریئنٹ پاکستان پہنچا تھا لیکن ابھی تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ ویریئنٹ ملک میں دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ مہلک ہے یا نہیں۔

این آئی ایچ کے فوکل پرسن نے مزید بتایا: ’ہماری ٹیمیں کووڈ کے لیے ہوائی اڈوں پر آنے والے مسافروں کی سکریننگ کر رہی ہیں اور جن لوگوں کا ٹیسٹ مثبت پایا گیا انہیں قرنطیہ کیا جا رہا ہے تاکہ دوسرے لوگوں تک اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔‘

پاکستان میں فروری سے لے کر اب تک ایک کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ کرونا ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں اور رواں سال کے آخر تک ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ڈیلٹا ویریئنٹ کو روکنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے جمعے سے ویکسین نہ لینے والے افراد کے لیے ہوائی سفر پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس کے علاوہ 18 سال عمر سے زیادہ تمام طلبہ کے لیے 31 اگست تک ویکسینیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ 

اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل سینٹر فار بائیو انفارمیٹکس کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر عامر عباسی کا کہنا ہے: ’ہماری حکومت کو اپنے وسائل کو مقامی ویریئنٹس کے مطالعے  کے لیے وقف کرنا چاہیے اور وائرس کی مقامی جینیاتی ترتیب کے مطابق ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ سے صرف دو سے تین ماہ تک ویکسین کی افادیت میں کمی آسکتی ہے اس لیے ’وائرس کے ڈھانچے کا مطالعہ کرنا اور اس کے مطابق ویکسین تیار کرنا بالآخر اس وبا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان