افغان تجارت اور جمال خان کے مسائل

افغان مہاجرین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر پاکستان انہیں ملک بدر کرنے یا پاکستان آنے سے روکنے جیسے اقدامات کرتا ہے تو اس کا اثر برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں افغانستان کے ساتھ طورخم بارڈر کی جانب جاتے مال بردار ٹرک (اے ایف پی فائل)

جمال خان افغان مہاجر ہیں۔ یہ چار نسلوں سے پاکستان میں آباد ہے۔

انہوں نے 40 سال پہلے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ آج جمال پر دادا بن چکے ہیں۔ ان کے بیٹے کی شادی کراچی کے میمن خاندان میں ہو گئی اور پوتے کا رشتہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ کے بڑے تاجر کی بیٹی سے ہو گیا۔

کراچی میں جمال خان کا کمرشل پلازہ ہے۔ اچھا کاروبار چلا رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ان کے پاس ملازمت کرتے ہیں۔ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو وہ عارضی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دعوے کچھ بھی ہوں لیکن حقیت یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کے وزیراعظم اشرف غنی ہیں اور تجارت کو بہتر کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو افغانستان کے سرکاری نظام اور احکامات پر ہی اعتماد کرنا پڑے گا۔ آج افغانستان مشکل حالات میں ہے اور یہی وقت ہے کہ افغان حکومت کا اعتماد جیتا جائے اور تجارتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ 

اس وقت پاکستان میں تقریباً 14 لاکھ 40 ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کے پاکستان میں ہونے کو بوجھ سے تشبیح نہیں دی جا سکتی۔ یہ مہاجرین پاکستان کی تمام بڑی مارکیٹس میں تجارت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو کہ نہ صرف حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار بھی پیدا کرتے ہیں۔ 

افغان مہاجرین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر پاکستان انہیں ملک بدر کرنے یا پاکستان آنے سے روکنے جیسے اقدامات کرتا ہے تو اس کا اثر برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان سالانہ دو ارب ڈالرز کی اشیا افغانستان برآمد کرتا ہے۔ جن میں بڑی تعداد زرعی اجناس کی ہے۔ اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے آلوؤں کے زمیندار ریاض وٹو نے بتایا کہ جب افغان بارڈر سے تجارت بند ہوتی ہے تو آلو کوڑیوں کے بھاؤ بکتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات فصل سے آلو اٹھانے کے ساتھ کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔ افغانستان میں کوالٹی کے سخت قوانین نہ ہونے کی وجہ سے کم گریڈ کا مال بھی باآسانی بک جاتا ہے۔ جو لوگ زمین کے ساتھ جڑے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا کتنا ضروری ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پاکستانی کسان کی خوشحال کا دارومدار افغانستان کے ساتھ تجارت پر ہے۔ 

جب اس حوالے سے افغان تاجر جمال خان سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا ہے کہ سنٹرل ایشین ممالک سے تجارت کے لیے پاکستان افغان بارڈر استعمال کرنے کا محتاج ہے۔ پنجاب کے زرعی اجناس کی بڑی تجارت ان ممالک کے ساتھ ہوتی ہے۔ براہ راست راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹرکوں کو افغانستان سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ اگر افغان حکومت چاہے تو اس مد میں پاکستان کو کروڑوں ڈالروں کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

سال 2017 میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی ٹرکوں کو گزر گاہ دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ افغانستان کے ٹرکوں کو پاکستان بارڈر پر روک لیا جاتا ہے۔ سامان آف لوڈ کیا جاتا ہے اور پھر پاکستانی ٹرکوں پر لاد کر مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے جو کہ نہ صرف ہتک آمیز ہے بلکہ اس سے مال کی کوالٹی میں بھی فرق آتا ہے، جب کہ دوسری طرف پاکستانی ٹرک پورے افغانستان میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں۔ سنٹرل ایشین ممالک کے بارڈر تک سامان پہنچا کر واپس پاکستان چلے جاتے ہیں۔ جب تک حکومت افغان ٹرکوں کو پاکستان میں داخلے کے اجازت نہیں دیتی تب تک پاکستان ٹرک بھی افغان بارڈر پر آف لوڈ کروائے جائیں گے۔ ان کا سامان افغان ٹرکوں میں لاد کر مطلوبہ مقامات میں پہنچایا جائے گا۔ اس عمل سے پاکستانی مال کا معیار برقرار نہیں رہتا اور سالانہ کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ افغان حکومت کے ساتھ اس معاملے پر  گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرکوں سے سامان اتارے بغیر انہیں سکین کر کے چیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جائے تو تجارت کے ساتھ ہمسایہ ملک سے تعلقات بھی بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان مہاجرین پاکستان میں اربوں روپوں کا کاروبار کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں وہ تجارتی سہولیات نہیں دی جاتیں جو دوسرے ممالک کے شہریوں کو دی جاتی ہیں۔ مجبوراً انہیں اپنی شناخت چھپانا پڑتی ہے اور اکثر افغان اپنا تعارف پشاور یا کوئٹہ کے شہری کے طور پر کرواتے ہیں۔

جمال خان چونکہ 40 سال سے اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اس لیے وہ مسئلے کا بہترین حل پیش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاجر آج کے دور کے اصل سپاہی ہیں، جو کسی بھی ملک کو ترقی کے راستے پر لے جاسکتے ہیں۔ ہتھیاروں کی جنگ ہارنے سے اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنی تجارتی جنگ ہارنے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک تاجروں کو عزت دیتے ہیں۔ اگر کوئی تاجر برطانیہ میں دو لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے برطانوی شہریت دے دی جاتی ہے۔ اسی طرح کے قوانین یورپ میں بھی رائج ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کاروبار کرنے والے افغانوں کو ایسی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ برطانیہ میں کئی افغانی تجارت کی بنیاد پر برطانوی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان پانچ کروڑ روپے تک کا کاروبار کرنے والے افغانوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کی سکیم معتارف کروائے تو اس کا فائدہ پاکستانی معیشیت کو ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب پاکستانیوں میں رچ بس جانے والے افغانوں کا مثبت استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہیں سسٹم کا حصہ بنا کر ملکی سطح پرفائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جمال اعتراف کرتے ہیں کہ اس وقت زیادہ تر مال افغانستان سے پاکستان سمگلنگ کے ذریعے لایا جاتا ہے۔ بارڈر پر رشوت دی جاتی ہے اور مال کلیر کروا لیا جاتا ہے۔ اگر حکومت تاجروں کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرے تو وہ باآسانی اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے۔ کمپنی رجسٹرڈ کروا سکیں گے اور نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کر سکیں گے۔ یہ سہولیات دینے سے رشوت کی رقم ٹیکس کی صورت میں حکومت پاکستان کے خزانے میں جائے گی۔ ہم رشوت دیں یا ٹیکس دیں، فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ دونوں صورتوں میں ایک جتنی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس سے باہمی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ٹیکس آمدن میں اضافہ ہو گا۔ نوکریاں پیدا ہوں گی اور غیر قانونی طریقے سے ہونے والی تجارت کا سدباب کیا جا سکے گا۔ 

جمال خان کے مطابق کسی بھی ملک میں تجارتی ترقی کا دارومدار چمبر آف کامرس کے کردار پر بھی منحصر ہے۔ چمبر جتنا زیادہ ایکٹو ہو گا اتنی ہی جلدی تجارتی مسائل حل ہو سکیں گے۔ ہر معاملہ ملکی سطح کا نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جو صرف نچلی سطح پر مسلسل رابطے سے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے چمبرز غیر فعال ہیں۔ مناسب پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل کئی سالوں تک حل نہیں ہو پاتے۔

پاک افغان تجارت کا 40 سالہ تجربہ رکھنے کی وجہ سے جمال خان اس مسئلے کا موثر حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کابل اور طورخم میں پاک افغان مشترکہ تجارت فورم بنایا جائے، جہاں دونوں اطراف کے نمائندے ہر وقت موجود ہوں اور ان کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔ صرف رابطے بحال رہنے سے سالوں سے حل طلب تجارتی مسائل چند دنوں میں حل ہو سکیں گے، جس کا فائدہ افغانستان سے زیادہ پاکستان کو ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستانی کمپنیوں کے افغان کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی کاروباری کمپنیوں کے مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

جمال خان کے مطابق بارڈر پر افغان پاکستان ٹریڈ بھی مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان سے افغانستان جانے والا اکثر مال افغان بارڈر پر ہی بیچ دیا جاتا ہے۔ برآمدات کے نام پر کاغذات پر مہر لگا کر فائلوں کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے۔ اس کاغذی برآمدات کے بدلے ڈالرز پاکستان نہیں آتے، جس سے پاکستانی معیشت کو اربوں روپوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے دفاعی تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر بریگیڈیئر غضنفر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ والے معاملے پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ باڑ لگنے سے سمگلنگ کافی حد تک کم ہو چکی ہے۔ جب تک اشیا پر ڈیوٹی نہیں لگتی ان کی تجارت نہیں ہو سکتی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان بارڈر پر سمگلنگ بالکل بند ہو گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سمگلنگ کبھی بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، کچھ نہ کچھ چلتا رہتا ہے لیکن پاکستان فوج کی کاوشوں سے اب حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول جب باڑ سو فیصد مکمل ہو جائے گی تو بہت زیادہ بہتری آنے کی امید ہے۔ بریگیڈئیر صاحب کی رائے اہمیت کی حامل ہے لیکن مستقبل میں کیا ہوتا ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ 

جمال خان پاک افغان تجارت میں بہتری کے خواہاں ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت پاکستان نے کیبنٹ کمیٹی میں افغان مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ منسٹری آف سٹیٹ اینڈ فرنٹیرز ریجن نے کئی میٹنگز کے بعد وفاقی کابینہ کے سامنے افغان مہاجرین سے متعلق کچھ گزارشات رکھی ہیں، جن کے مطابق سات لاکھ مہاجرین کو تین سال تک محفوظ گھروں میں رکھنے اور دیکھ بھال کے نظام پر تقریباً 2.2 ارب ڈالرز خرچ ہوں گے۔ اس میں رجسٹریشن، سفری سہولیات، کیمپ مینجمنٹ اور خوراک وغیرہ شامل ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان کے مطابق پاکستان فی الحال یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ کابینہ میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہوئی ہے لیکن حتمی منظوری نہیں دی گئی۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے چند دنوں بعد دوبارہ زیر بحث لانے کی امید ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پالیسی کی سمت کو بہتر بنانے اور اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمال خان کے مطابق  کابینہ سے منظور نہ ہونے سے یہ شک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں کہ شاید پاکستان افغان مہاجرین کے مسئلے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پالیسی پر مزید کام کرنے جیسے بیانات پاکستانی بیوروکریسی میں تاخیری حربے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ 2.2 ارب ڈالرز کا ڈھنڈورا پیٹے جانے پر ان کا موقف یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو یو این ایچ سی آر (یونائیٹیڈ نیشن ہائر کمیشن فار رفیوجیز)، عالمی ادارہ صحت ور یونیسیف جیسے عالمی داروں سے افغان مہاجرین کے لیے ملنے والی فنڈنگ کے بارے میں بھی بتانا چاہیے تا کہ حقائق صحیح معنوں میں دنیا کے سامنے پیش ہو سکیں۔

بظاہر نا مناسب حالات میں بھی جمال خان پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہترین تعلقات کے قیام کے لیے پر امید ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں تجارت پر فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ چین اور بھارت کے درمیان ہر وقت جنگ کا ماحول رہتا ہے لیکن آج بھی چین سب سے زیادہ چاول بھارت سے درآمد کرتا ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں، لیکن ترکی آج بھی اربوں ڈالرز کا سٹیل اور ایلو مینیم اسرائیل برآمد کرتا ہے۔

آنے والے دن افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے کیا رخ اختیار کرتے ہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن جمال خان جیسے افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کی بجائے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ افغان مہاجرین ملکی اثاثہ ہیں اور پاکستان کو ان پر فخر ہونا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ