والدین نے جرم میں معاونت کی، ضمانت کے مستحق نہیں: عدالت

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف جرم میں معاونت کی بلکہ ثبوت مٹانے کی بھی کوشش کی ہے۔

اسلام آباد پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کو  20 جولائی، 2021 کوموقع واردات سے گرفتار کیا تھا (سکرین گریب)

اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے جمعرات کو نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے والد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی نے نہ صرف جرم میں معاونت کی بلکہ ثبوت مٹانے کی بھی کوشش کی۔

ایڈیشنل سیشن جج شیخ محمد سہیل نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ ملزم کے والدین پر اپنے بیٹے کی اعانت کے نہایت سنجیدہ الزامات ہیں لہٰذا ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

20 جولائی کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کا بے دردی سے قتل ہونے کے بعد ملزم ظاہر کو موقعے سے حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس نے 24 جولائی کو جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے الزام میں ذاکر اور عصمت سمیت دو گھریلو ملازمین کو تفتیش کے لیے حراست میں لینے کے بعد اگلے روز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں عدالت نے ذاکر اور ان کی اہلیہ پر جرم کی نوعیت واضح کرتے ہوئے لکھا کہ ملزمان نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دینے کی بجائے ری ہیبلی ٹیشن سینٹر کودی۔

’پولیس کو بروقت اطلاع نہ دینا نتیجتاً مرکزی ملزم کو قتل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔‘

فیصلے کے مطابق ملزمان کا جرم کے ساتھ تعلق جوڑنے کے لیے اطمینان بخش مواد ریکارڈ پر موجود ہے۔ ’ملزمان کے خلاف کافی مواد موجود ہے کہ انہوں نے ناقابل ضمانت جرم کیا اس لیے عدالت ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتی ہے۔‘

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ذاکر جعفر نے مرکزی ملزم کی مدد کی اور جان بوجھ کر حقائق چھپائے۔

عدالت نے لکھا کہ بدھ کو دیے گئے دلائل سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزم اور ان کے والد کے درمیان فون کالز ریکارڈ سے ثابت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

استغاثہ کے مطابق ملزم قتل کی واردات کے دوران اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھے جبکہ ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں کہ مدعی پارٹی اور ملزمان کے درمیان کوئی دشمنی تھی۔

قانونی طور پر ملزمان سیشن کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے طیبہ تشدد کیس سمیت مختلف کیسوں کا حوالہ دیتےہوئے ضمانت پر رہائی کی استدعا کی تھی۔

ملزمان کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا تھا کہ ’پہلے دن سے میرے موکل نے میڈیا کے سامنے اس قتل مذمت کی اور ہم متاثرہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

وکیل نے مزید کہا کہ مرکزی ملزم کے بیان کو بنیاد بنا کر ذاکر اور عصمت کو شامل کیا گیا، انہیں نہیں پتہ تھا کہ اُن کے گھر میں کوئی ایسا کام ہو رہا ہے۔‘

ملزمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم نے کون سی معلومات غلط دیں؟ کون سا ثبوت چھپایا؟ ریکارڈ پر ایسا کچھ بھی نہیں۔ ٹیلی فون پر ماں اور بیٹے کا رابطہ ہونا کیا جرم ہے؟ یہ تو معمول کا رابطہ ہے۔‘

ان دلائل کے جواب میں پبلک پراسیکیوٹر نسیم ضیا نے دلائل دیے تھے کہ جب ملازم نے والدین کو کال کی تو اس وقت وہاں جرم ہو رہا تھا۔

’انہوں نے پولیس کی بجائے تھراپی ورک والوں کو بھیجا، پسٹل بھی ریکور ہوا ہے جو ذاکر کے نام پر ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نے بددیانتی کی بنیاد پر اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی اس لیے اس مرحلے پر ضمانت کی درخواست مسترد ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان