’بچوں کو دس منٹ کے لیے بھی بند گاڑی میں چھوڑنا موت کا باعث‘

ماہرین کے مطابق شدید گرم موسم میں بچے کو گاڑی کے اندر چھوڑنا یا بھول جانا ہیٹ سٹروک اور دم گھٹنے کا باعث بنتا ہے اور یہ 10 منٹ سے بھی کم وقت میں موت کا باعث بن سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں  ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں والدین نے نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو بند گاڑیوں میں چھوڑ دیا جب کہ وہ پچھلی نشستوں پر سو رہے تھے۔(تصویر: پکسابے)

دبئی پولیس نے رواں سال اب تک 39 بچوں کو بچایا ہے جو کہ گاڑیوں میں بند تھے۔

پولیس نے بتایا کہ ان میں سے کچھ کو غلطی سے وہاں چھوڑ دیا گیا، جب کہ کچھ کے والدین نے انہیں خریداری کے لیے جاتے ہوئے کاروں میں بند کر دیا۔ اسی طرح کچھ بچے والدین کی لاعلمی میں کاروں میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے۔

بچوں کو گاڑیوں کے اندر چھوڑنے سے دم گھٹنے، بے ہوشی اور یہاں تک کہ شدید گرمی اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے اس سے قبل خلیج ٹائمز کو بتایا تھا کہ ایک بند گاڑی جو طویل عرصے تک سورج کی براہ راست شعاعوں میں کھڑی ہو، میں درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔

شدید گرم موسم میں بچے کو گاڑی کے اندر چھوڑنا یا بھول جانا ہیٹ سٹروک اور دم گھٹنے کا باعث بنتا ہے اور یہ 10 منٹ سے بھی کم وقت میں موت کا باعث بن سکتا ہے۔

دبئی پولیس نے 2021 کے پہلے پانچ مہینوں میں بچوں کی 95 تکلیف دہ کالوں کا جواب دیا ہے۔ ان میں کاروں اور لفٹوں میں بند بچے بھی شامل ہیں۔

بچوں کو جان بوجھ کر کاروں میں چھوڑنا

دبئی پولیس نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ کس طرح ڈیوٹی پر موجود افسران نے دو ایشیائی بچوں کو ان کے والد کے سپر مارکیٹ میں خریداری کے لیے جانے کے بعد بند گاڑی سے نکالا۔

بچوں کی عمریں دو اور چار سال تھیں۔ راہگیروں نے 999 پر ڈائل کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بچے ایسی بند گاڑی میں ہیں جس جس کا انجن بھی بند تھا۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے اور پولیس نے ماضی میں اس عمل کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔

بچوں کو پچھلی سیٹ پر چھوڑنا

حالیہ برسوں میں، ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں والدین نے نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو بند گاڑیوں میں چھوڑ دیا جب کہ وہ پچھلی نشستوں پر سو رہے تھے۔ اس طرح کے واقعات سکول بسوں میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ اموات بھی ہوئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں سال جولائی میں ایک چار سالہ بچہ عجمان میں ایک بس کے اندر رہ جانے کے باعث چل بسا۔ بچہ چونکہ سو رہا تھا، لہذا اسے دیکھا نہیں جا سکا اور اس کی لاش چار گھنٹے بعد ملی۔

اسی طرح کا ایک واقعہ جون 2019 میں دبئی میں رپورٹ کیا گیا، جب ایک چھ سالہ بھارتی بچہ بس میں سوار ہونے کے بعد سو گیا اور ڈرائیور اور دیگر طلبہ اس کا نوٹس لینے میں ناکام رہے، جب وہ اپنے مرکز کے باہر اترے اور بس کھڑی کرکے لاک کر دی گئی تو سات گھنٹے بعد بچے کی لاش ملی۔

بچے کاروں میں بغیر بتائے بھی چھپ جاتے ہیں

حالیہ برسوں میں، پولیس نے متعدد واقعات کی اطلاع دی ہے جہاں بچے اپنے والدین کے علم کے بغیر کاروں میں گھسنے میں کامیاب ہوئے۔

اس سال جون میں ایک آٹھ سالہ بھارتی بچہ کھیلتے ہوئے پڑوسی کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور اس کے اندر بند ہو گیا۔ یہ واقعہ شارجہ میں رپورٹ کیا گیا۔

گذشتہ برس سال ایک دو سالہ عرب بچہ اپنے والد کی گاڑی کے اندر پھنسنے کے بعد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔ گاڑی، جسے کھلا رکھا گیا تھا، گھر کے صحن میں کھڑی تھی۔ 

پولیس کی جانب سے حفاظتی تجاویز

دبئی پولیس نے حفاظتی تجاویز کا ایک مجموعہ جاری کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ رہائشی اپنے بچوں کو غلطی سے پیچھے نہ چھوڑیں۔

- گاڑی کو لاک کرنے سے پہلے ہمیشہ پچھلی سیٹ چیک کریں۔

 - اپنا سیل فون یا بیگ بیک سیٹ میں رکھیں تاکہ گاڑی سے نکلنے سے پہلے اسے چیک کرلیں۔

- ایپس اور سینسر استعمال کریں یا اپنے فون پر ایک ریمائنڈر سیٹ کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام بچے اسے لاک کرنے سے پہلے گاڑی سے باہر ہیں۔

- اپنی گاڑی کھڑی ہونے پر اسے لاک رکھیں۔

 - یقینی بنائیں کہ آپ کی چابیاں بچوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

- اپنے بچوں کو سکھائیں کہ گاڑی کھیلنے کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت