ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تاریخی کمی، وجوہات کیا؟

پاکستان میں کرنسی ڈیلرز کی تنظیم کے سربراہ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان لوگ سفر کرتے تھے اور یوں کرنسیوں کا تبادلہ جاری رہتا تھا، جس میں امریکی ڈالر کا رخ پاکستان کی طرف ہوتا تھا، جس کے باعث یہاں ڈالر کی رسد میں کمی پیدا نہیں ہوئی۔‘

ماہرین امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجوہات افغانستان کی صورت حال میں یک لخت تبدیلی، پاکستان کی درآمدات کا برآمدات سے بہت زیادہ ہونا اور کرونا کے باعث سفری پابندیوں کو قرار دیتے ہیں(اے ایف پی فائل)

پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں گذشتہ مہینے کے دوران ہونے والی تبدیلیوں نے پاکستانی روپے کی قدر پر بھی منفی اثر ڈالا ہے جس کے باعث یہاں امریکی ڈالر کی قیمت تاریخی بلندی پر پہنچ گئی ہے۔

جمعہ کو پاکستان کی انٹر بینک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 166.91 روپے پر بند ہوئی جبکہ جمعرات کو یہی قدر 166.98 روپے تھی جو گذشتہ 13 مہینوں کے دوران پاکستانی روپے کی کم ترین قدر تھی۔ 

روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات

ماہرین امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجوہات افغانستان کی صورت حال میں یک لخت تبدیلی، پاکستان کی درآمدات کا برآمدات سے بہت زیادہ ہونا اور کرونا کے باعث سفری پابندیوں کو قرار دیتے ہیں۔

افغانستان

افغانستان میں 15 اگست کو طالبان کے قبضے سے قبل صدر اشرف غنی کی حکومت بیرونی امداد پر چلتی تھی جس کے باعث وہاں امریکی ڈالرز کی رسد تواتر سے جاری رہتی تھی۔

حالیہ تبدیلی کے بعد جنگ زدہ پڑوسی ملک میں غیر ملکی امداد رک گئی ہے اور امریکی ڈالرز کی بہتات پہلے کی طرح نہیں رہی۔

پاکستان میں کرنسی ڈیلرز کی تنظیم کے سربراہ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ڈالرز کی متواتر اور زیادہ رسد کے باعث امریکی کرنسی پاکستان بھی آتی تھی۔

’دونوں ملکوں کے درمیان لوگ سفر کرتے تھے اور یوں کرنسیوں کا تبادلہ جاری رہتا تھا، جس میں امریکی ڈالر کا رخ پاکستان کی طرف ہوتا تھا، جس کے باعث یہاں ڈالر کی رسد میں کمی پیدا نہیں ہو ری تھی۔‘

ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان روزانہ 30 لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں جو اپنے ساتھ مختلف کرنسیز خصوصا امریکی ڈالرز رکھتے ہیں۔

ملک بوستان کا کہنا تھا: ’لوگوں کی آمدو رفت میں بھی کمی آئی ہے اور ڈالرز کا تبادلہ بھی پہلے سے بہت کم ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ چونکہ افغانستان میں ڈالرز نہیں ہیں اور وہاں لوگ بینک سے بھی دو سو ڈالرز روزانہ سے زیادہ نہیں نکال سکتے اس لیے اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے۔

پشاور میں ایک کرنسی ڈیلر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کچھ روز پہلے تک مقامی مارکیٹ میں افغانستان سے روزانہ 50 سے 60 لاکھ امریکی ڈالرز آتے تھے لیکن یہ سلسلہ طالبان کے آنے کے بعد کم ہو گیا ہے۔

’طالبان کے آنے کے بعد سے صورت حال بالکل الٹ ہو گئی ہے اب لوگ افغانستان ڈالر لے کر جاتے ہیں اور لوکل مارکیٹ میں امریکی کرنسی کم ہوتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ اور قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت پشاور کی صرافہ مارکیٹ میں روزانہ 10 سے 15 لاکھ ڈالرز فروخت ہو رہے ہیں جس کا بڑا حصہ افغانستان جا رہا ہے۔

ملک بوستان نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال کے باعث پاکستان میں ڈالرز کی کمی اور اس کی قدر میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قیمت میں گراوٹ کی وجہ بنی ہے۔

تجارتی خسارہ

پاکستان میں تجارتی خسارے  میں اضافے کو بھی روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ بھی بتایا جاتا ہے۔

معاشی امور پر لکھنے والے صحافی ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ جب کسی ملک کی درآمدات اور برآمدات میں توازن برقرار نہ رہے اور اولذکر میں اضافہ ہو تو اس ملک سے امریکی ڈالر اڑنا شروع ہو جاتا ہے۔

’اس کے نتیجے میں ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، قیمت بھی اوپر کو جاتی ہے اور اس ملک کی کرنسی کی قدر نیچے کی جانب گرتی ہے، پاکستان میں بھی روپے کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات حکومتی ہدف سے 14 کروڑ ڈالر کم رہیں جبکہ درآمدات میں 6.3 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جون کے مہینے کے دوران بھی پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی اشیا کی قیمت چھ ارب ڈالرز سے زیادہ تھی۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں 27 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر موجود ہیں تاہم ان میں بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی صورت میں حاصل ہونے والے ڈالرز کا ہے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق 22 سے 23 ارب ڈالر وہ رقم ہے جو پاکستان چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے قرضوں کی شکل میں حاصل کر چکا ہے۔

سفری پابندیاں

مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق کورونا (کرونا) وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں سفری پابندیاں لاگو ہیں جن سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں کاروبار کرنے والے ایک ٹریول ایجنٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حج اور عمرہ ان کے کاروبار کا سب سے بڑا حصہ تھا لیکن گذشتہ دو سال کے دوران حج و عمرہ کے لیے سفری پابندیوں سے ڈالر کے کاروبار پر بھی اثر پڑا ہے۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ حج و عمرے کے لیے سفری پابندیوں سے پہلے روزانہ 20 سے 30 لاکھ ڈالر کی خریدو فروخت ہوتی تھی جو اب تقریبا ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

حج اور عمرے کے علاوہ بھی دیگر ممالک کے سفر پر بھی پابندیاں ہیں۔ حتی کہ بیرون ملک ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد باہر جانے سے قاصر ہے۔ ہزاروں ایسے پاکستانی اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ذیشان حیدر نے کہا کہ اس سے پاکستان کی ترسیلات زر جو کچھ عرصہ پہلے بہتر تھیں اب کم ہونا شروع ہو سکتی ہیں اور ملک میں امریکی ڈالر کی رسد مزید کمی کا سامنا کر سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کا موقف

وزارت خزانہ نے گذشتہ رات ایک بیان میں کہا: ’ماضی میں روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے برقرار رکھا جاتا رہا ہے جس نے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کو جنم دیا۔‘

حال ہی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرنسی کی شرح تبادلہ کو سہارا دینے کے لیے قرضوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو استعمال نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی جس سے ماہرین کے مطابق مقامی کرنسیز پر اضافی دباؤ پڑا۔

وزارت خزانہ نے اس پالیسی کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ ریجیم کی طرف جانے کے نتیجے میں شرح تبادلہ میں کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے افراط زر، زیادہ سود کی شرح، جی ڈی پی کی سست رفتار اور درآمد ات سے حاصل ہونے والے ٹیکسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت