پنج شیر پر طالبان کے حملے اور ’غیرملکی مداخلت‘ کی مذمت کرتے ہیں: ایران

ایران نے افغانستان کے علاقے پنج شیر میں مزاحمتی محاذ کے خلاف طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی ’غیرملکی مداخلت‘ کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے صحفیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پنج شیر سے آنے والی خبریں صحیح معنوں میں پریشان کن ہیں (آئی آر این اے)

ہمسایہ ملک ایران نے افغانستان کے علاقے پنج شیر میں مزاحمتی محاذ کے خلاف طالبان کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی ’غیرملکی مداخلت‘ کی تحقیقات کر رہا ہے۔

پنج شیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے کا کہنا تھا کہ ’پنج شیر کے سوال پر میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اسے افغان مشران کی موجودگی میں بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایران تمام تر غیرملکی مداخلت کی مذمت کرتا ہے۔‘

’ہم اپنے دوستوں اور افغانستان میں کسی اور نیت سے داخل ہونے کی سٹریٹجک غلطی کرنے والوں کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان وہ ملک نہیں جو دشمن یا حملہ آوروں کو اپنی زمین پر قبول کرے۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے صحفیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پنج شیر سے آنے والی خبریں صحیح معنوں میں پریشان کن ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعید خطیب زادے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان کو بھی اپنی ذمہ داریاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق پوری کرنا ہوں گی۔‘

واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے طالبان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


احمد مسعود کی ’قومی بغاوت‘ کی اپیل

پنج شیر میں مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے ایک تازہ بیان میں افغان عوام سے پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر ’قومی بغاوت‘ شروع کرنے کا کہا ہے۔

فیس بک پر جاری کیے جانے والے آڈیو پیغام میں احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ’آپ جہاں کہیں بھی ہیں، باہر یا اندر، میں آپ سے آزادی، وقار اور ہمارے ملک کی کامیابی کے لیے کہتا ہوں کہ ملک گیر قومی بغاوت کا آغاز کریں۔‘

خیال رہے کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اعلان کیا کہ انہیں نے پنج شیر کا ’مکمل کنٹرول‘ سنبھال لیا ہے۔

تاہم احمد مسعود نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ’مزاحمتی محاذ کے جنگجو تاحال پنجشیر میں ہی ہیں اور طالبان کے خلاف کھڑے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پنج شیر کے علما کے کہنے پر انہوں نے تو جنگ روک دی تھی تاہم طالبان نے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی۔‘


پنچ شیر پر کنٹرول حاصل کر کیا: طالبان

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ صوبہ پنج شیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے، جہاں احمد مسعود کی سربراہی میں این آر ایف نامی محاذ طالبان کے خلاف برسر پیکار تھا۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’اب ملک مزید جنگ اور فائرنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اب چاہیے کہ لوگ اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ جائیں۔‘

پنج شیر کو عسکری طریقے سے فتح کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’ہم ایک جزیرہ نہیں چاہتے۔ اس کو ایسے نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔‘

یاد رہے کہ پنج شیر میں طالبان کے مقابلے پر احمد مسعود کی سربراہی میں جو محاذ کام کر رہا ہے اس کا پشتو میں نام ’جبہ مقاومت‘ ہے جب کہ انگریزی میں اسے National Resistance Front کہا جاتا ہے۔ 

اس سے قبل ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پنج شیر کے لوگوں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ’سب ہمارے بھائی ہیں۔ ایک ملک اور ایک ہدف کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا: ’اس فتح کے ساتھ تمام ملک جنگ سے نکل آیا ہے، لہذا اب ہم آزادی، خودمختاری اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔‘

ولایت پنجشیر آخرین لانهء دشمن مزدور نیز به گونه کامل فتح گردید https://t.co/95ySJ5ppo6 pic.twitter.com/CCWKFt0zsb

دوسری جانب این ایف آر نے بظاہر ایک ٹویٹ میں طالبان کی جانب سے پنج شیر پر کنٹرول کیے جانے کے دعوے کی تردید کی۔

طالبان کے 15 اگست کو کابل پر کنٹرول کے بعد صرف وادی پنج شیر ہی تھی جو پورے افغانستان پر ان کے مکمل کنٹرول کی راہ میں رکاوٹ تھی، اب وہ بھی بظاہر دور ہو گئی ہے۔ اس طرح طالبان پہلی مرتبہ مکمل افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ابھی احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور سابق نائب صدر امراللہ صالح کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ دوسری جانب طالبان ٹوئٹر پر پنج شیر میں اپنے جنگجوؤں کی موجودگی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے احمد مسعود اور امراللہ صالح کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’وہ چند افراد جو جنگ کی بات کر رہے تھے وہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ایک کمزور رپورٹ کے مطابق، جس کی میں تصدیق نہیں کر سکتا، امراللہ صالح تاجکستان چلے گئے ہیں۔ ہماری ان سے اپیل ہے کہ ایسے افراد واپس لوٹ آئیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا بس انہیں مزید شر پھیلانے سے رکنا ہو گا۔‘

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نئی حکومت کے اعلان کا کوئی وقت بتانے سے بھر انکار کیا۔


پاکستان سے سرحد کھولنے کا مطالبہ کیا ہے: افغان طالبان

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو کی گئی اپنی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے پاکستان سے سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس سے تاجروں اور مریضوں سمیت عام افغانوں کو مسائل درپیش ہیں۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ جنرل فیض کے حالیہ دورہ کابل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’اس سکیورٹی وفد نے ملاقاتوں میں افغان جیلوں سے بھاگے ہوئے قیدیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا کہ سرحد کھولنے سے وہ اسے پار کرسکتے ہیں، تاہم ہم نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘

طالبان ترجمان نے مزید بتایا کہ ’متحدہ عرب امارات اور عمان کے طیارے بین الاقوامی امداد لے کر پہنچے ہیں اور مزید امداد بھی آرہی ہے۔ کابل ایئرپورٹ کی مرمت کے بعد مزید تیزی آئے گی۔ ہم دیگر ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان کے عوام کی مدد کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں تجارت واپس معمول کی جانب لوٹ رہی ہے اور بینکوں کے کاروبار میں بھی دن بدن بہتری آ رہی ہے۔‘


عورتوں کو احتیاط کرنی چاہیے: طالبان ترجمان

گذشتہ دنوں کابل میں خواتین کے احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’عورتوں اور پولیس کو احتیاط کرنی چاہیے،‘ لیکن انہوں نے خواتین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت نہیں کی۔

15 اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان اپنے موقف کو نرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن افغانستان کے کچھ حصوں میں تشدد کی اطلاعات ہیں۔

افغان دارالحکومت غور کے مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے ہفتے کو ایک سابق پولیس افسر کو، جو کہ حاملہ بھی تھیں، ان کے شوہر اور بچوں کے سامنے قتل کر دیا۔

میڈیا اور اہل خانہ نے سابق پولیس افسر کا نام بانو نگر بتایا ہے۔ وہ ماضی میں خواتین کی جیل میں کام کر چکی ہیں۔

لیکن طالبان نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں اور گروپ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ذاتی دشمنی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کے گروہوں نے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتقامی قتل کر رہے ہیں، شہریوں کو حراست میں لے رہے ہیں اور اقلیتوں کو قتل کر رہے ہیں۔

لیکن طالبان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔


پنج شیر: طالبان سے لڑائی میں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما ہلاک

اس سے قبل افغانستان کی وادی پنج شیر میں طالبان اور احمد مسعود کی سربراہی میں بنائے گئے’مزاحمتی محاذ‘ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے درمیان شدید جھڑپ میں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما ہلاک ہوگئے تھے۔

این آر ایف کے ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں مزاحمتی فوج کے ترجمان فہیم دشتی اور جنگجو کمانڈر جنرل عبدالودود زارا شامل ہیں، جو طالبان کے خلاف لڑائی میں مارے گئے۔

فہیم دشتی شمالی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے پرانے اور قریبی ساتھی تھے۔ احمد مسعود کی حمایت میں انسٹاگرام پر بنائے جانے والے ایک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ہے کہ فہیم دشتی نے احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود پر ہونے والے ایک حملے میں اپنی آنکھ  کھو دی تھی اور اب پنج شیر پر حملے میں اپنی جان دے دی۔

شمالی اتحاد کے ہلاک ہونے والے دوسرے رہنما بھی احمد مسعود کے قریبی ساتھی، مشیر اعلیٰ اور فوج کے کمانڈر تھے۔ مزاحمتی فرنٹ نے ان کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے پنج شیر میں لڑائی میں پیش رفت کی اطلاع دی ہے اورطالبان کی حمایت میں چلنے والے ٹوئٹر ہینڈلز پر وقفے وقفے سے پنج شیر کی فتح کی خبر کے لیے تیار رہنے کا کہا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کے اختتام پر طالبان کے ساتھ لڑائی میں شدید جانی نقصان کے بعد مزاحمتی فرنٹ نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد طالبان سے مذاکرات کیے جائیں گے اور علما کونسل کے فیصلے کی روشنی میں معاملے کا حل نکالا جائے گا۔

گذشتہ روز این آر ایف کے رہنما احمد مسعود نے کہا تھا کہ اگر طالبان پنج شیر اور اندراب کے علاقوں پر حملے کرنا روک دیں تو وہ بھی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔


طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پہلی پرواز کی کابل ایئرپورٹ پر لینڈنگ

30 اگست کو امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد کابل کا حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند تھا، جسے اب اندرون ملک پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔


مزار شریف: چار چارٹرڈ طیاروں کو پرواز کی اجازت نہ ملی

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق شمالی شہر مزار شریف کے ہوائی اڈے پر موجود کم از کم چار چارٹرڈ ہوائی جہازوں کو چند دنوں سے پرواز کی اجازت نہیں مل پا رہی ہے۔ ان ہوائی جہازوں کے ذریعے ملک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد ملک سے نکل جانے کے خواہشمند چند سو افغان شہریوں کو وہاں سے نکالا جانا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے پی کے مطابق اتوار کو حکام کی جانب سے اس کام میں رکاوٹ کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق وہ اس لیے جہازوں کو پروازکی اجازت نہیں دے رہے کیونکہ ان میں ایسے افغان شہری بھی موجود ہیں جن کے پاس پاسپورٹ موجود نہیں ہے لہذا وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

جبکہ امریکی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اعلیٰ ریپبلکن رکن کا کہنا ہے کہ ’مسافروں میں امریکی بھی موجود ہیں اور طالبان انہیں پرواز کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں یرغمال بنایا گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا