مہاجر بننے میں کیسا رومانس

یہ افغان پناہ گزین ہجرت کے بھنور میں پھنسے لوگ ہیں۔ طاقت ور ان سے پوچھ کر جنگ نہیں لڑتے نہ ان سے پوچھ کر حکومت کی تبدیلی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں۔

کابل سے 1997 میں فرار کی کوشش میں دشت میں میلوں چلنے والی خواتین اور بچے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

امریکہ کابل سے کیا گیا اس خطے کو افغان امور کے ماہرین، فتوحات کا جشن منانے والے سوشل میڈیا مجاہدین اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے گھر چھوڑنے والے پناہ گزینوں کی نئی کھیپ دے گیا۔

پاکستانی ادب اور صحافت میں ہجرت کا معروف حوالہ پاکستان میں تقسیم کے وقت بھارت سے آنے والے مسلمان تھے، جن کی اکثریت کا گھر کراچی بنا۔

جو تقسیم شدہ پنجاب کے شہروں میں وہاں سے یہاں آئے تھے یا پھر کشمیر میں جنگ چھڑنے کے بعد جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جانب آ گئے، تھے تو وہ بھی مہاجر ہی مگر بھارت سے پاکستان آنے والوں میں اردو بولنے والوں نے مہاجر ہونے کو اپنی سماجی اور سیاسی شناخت بنایا۔

پاکستانی دوست پوچھتے ہیں کہ بھارت سے ہجرت کرنے والوں کی چوتھی پانچویں نسل بھی کیا مہاجر ہی رہے گی؟ تو یہ ہجرت کرنے والوں کے سماجی ارتقا اوران کی سیاسی شناخت کا موضوع ہے، جس پر تفصیلی تحریر پھر کبھی۔ صرف پاکستان ہی نہیں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور برطانیہ میں بھی ہجرت کرنے والوں کی شناخت زیر بحث رہتی ہے۔

ہجرت کا اثر صرف بحران کے دورانیے تک محدود نہیں رہتا۔ مہاجرین کی نسلیں کئی دہائیوں بعد بھی اس سفر کی تھکن اتارنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں جو ان کے دادا، یا پرنانا نے کیا تھا۔ مہاجرین کی اولادوں نے ہجرت کی کہانیاں اپنی نانی، دادی کی گود میں بیٹھ کر سنی ہوتی ہیں وہ بھول نہیں سکتے۔

افغانستان میں جن دنوں خانہ جنگی نہیں رہی گذشتہ صدی کی تاریخ نے ایسے خوش بخت دن کم کم ہی دیکھے۔ مختلف ادوار میں افغانستان کے حالات سے تنگ افغانوں نے پاکستان ہجرت کی، پناہ لی۔ افغان مہاجر کیمپوں میں نسلیں جوان ہوگئیں۔

آپ کا کیا خیال ہے ان پناہ گزین افغانوں کو شوق تھا پاکستان میں بنے کیمپوں میں رہنے کا؟ آج سے 40 برس قبل اچانک بے سرو سامانی میں گھر چھوڑ کر نکلنے والے افغان خاندانوں نے کیا ریاست پاکستان کی ترقی کے پیمانے، کرنسی کی اہمیت، تعلیم و صحت کی سہولیات اور معاشی ترقی کے اعشاریے دیکھ کر فیصلہ کیا تھا کہ ہاں بھئی اگلا پڑاؤ پاکستان ہوگا۔

ایسی ہجرتوں میں مستقبل کے سنہرے خواب نہیں دیکھے جاتے، آنکھیں نئے ملک میں غریب الوطنی کے دن دیکھنے کو تیار ہوتی ہیں، دل میں امن، سکون، بڑی کاروں، اونچی عمارتوں، رنگ و روشنی دیکھنے کے لڈو نہیں پھوٹ رہے ہوتے، دل چھوڑے ہوئے گھر کی دہلیز پہ اٹکا ہوتا ہے۔

پاکستان آکر پنپنے والے افغان مہاجرین کی تعداد چند ایک ہزار ہوگی، بہت سے جائز کاروبار میں جم گئے اور کئی ہیں جنہوں نے غیر قانونی راستوں سے پیسہ بنایا۔ مگر لاکھوں افغان مہاجرین رُل گئے، وہ چار عشروں میں واپس افغانستان جانے کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں موجود افغان مہاجر کیمپوں، خیمہ بستی، افغان مہاجرین کے علاقوں میں جانے کے بعد علم ہوتا ہے کہ ان پناہ گزینوں پہ کیا گزری۔ ان لاکھوں میں کئی تھے جو کچرا چننے والے بن گئے، کچھ نے کباڑ کا کام پکڑ لیا یا پھر چند اوزار لے کر جوتے کی مرمت کے موچی یا نسوار فروش بن گئے۔

ان پناہ لینے والوں کے بچوں نے سستے اتوار بازاروں میں اپنی کمر پہ سامان لادا، بس اڈوں پہ پانی پلانے کا کام پکڑا، ٹرکوں اور بسوں کے کلینر بنے، کاندھے پہ بوری لاد کر پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرنے لگے، ہوٹلوں  اور مکینکوں کے چھوٹے بنے۔ ان افغان مہاجرین بچوں کو مدارس میں تعلیم، کھانا اور پناہ ملی تو یہ وہاں استعمال بھی ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور سننا چاہیں گے کہ افغان مہاجروں نے کیسے زندگی کی گاڑی چلائی۔ انہوں نے مرغی کے پنجر کو سیخوں پہ لگا کر سستے تکے بیچے، لنڈا بازار میں ٹھیے جمائے۔ بڑا سا تھرماس کاندھے پہ رکھ کر لیموں کے ساتھ قہوہ بیچا۔ مستریوں کے اسسٹنٹ بن گئے یا پھر کمر پہ اینٹیں لاد کر مزدوری کی۔

ظاہر ہے پاکستان خود بھی ڈھیروں مسائل سے نبرد آزما رہا، ایسے میں ریفیوجی کہلانے والے افغان نوجوانوں کو کون سا یہاں ٹوکیو جیسی نوکریوں کے مواقع دستیاب تھے۔ ایسا ملک جس کے اپنے باسی جدوجہد کے دور سے مسلسل گزر رہے ہوں وہ بھلا پناہ سے زیادہ کیا دے سکتا تھا، سو پاکستانیوں نے اپنے  برے حالوں میں بھی ان پناہ گزینوں کو قبول کیا۔

 غربت، جہالت، دربدری اور قانونی طور پر پناہ گزین کی حیثیت نے افغان مہاجرین کےنوجوانوں کو اور بھی کئی مشکل دور دکھائے۔ یہ منشیات کے عادی بنے، منشیات فروش بنے، اسلحے کی سمگلنگ کرنے والوں کے آلہ کار بنے، تشدد پسند تنظیموں کے ہتھے چڑھ گئے۔

اگر بحث یہ کریں گے کہ ان افغان مہاجرین کے نام پہ پاکستان نے بڑا مال سمیٹا تو یہ مہاجرین کے بہت بڑے بحران کا ایک چھوٹا سا مسئلہ ضرور ہے، مکمل تصویر نہیں۔

جواب میں پاکستان کے پاس بھی بڑے گلے شکوے ہیں کہ افغان مہاجرین کے ساتھ آنے والے جرائم اور معاشی دباؤ کو پاکستان نے بھگتا ہے اس لیے ایسی غیرتعمیری بحث سے اب نئے بحران کے دوران اجتناب بہتر ہے۔

افغانستان ایک بار پھر غیر یقینی کے دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی انخلا مکمل ہوچکا، جو مغربی افواج کی پناہ میں جانا چاہتے تھے وہ جہازوں میں بیٹھ کر اڑ چکے، وہ کب تک مہاجر رہتے ہیں، یہ شاید انہیں ساتھ لے جانے والوں کو بھی علم نہیں۔ مسئلہ ان افغان خاندانوں کا بھی ہے جو خیمہ بستیوں کا سوچ کہ ہول رہے ہیں، سفر کی دھول جن کی راہیں تک رہی ہے۔

یہ افغان پناہ گزین ہجرت کے بھنور میں پھنسے لوگ ہیں۔ طاقت ور ان سے پوچھ کر جنگ نہیں لڑتے، نہ ان سے پوچھ کر حکومت کی تبدیلی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں، اپنی حب الوطنی کے ہاتھوں یا سیاسی پوائنٹ بنانے کے چکر میں کہیں ایسا نہ ہو آپ کسی مصیبت زدہ کی حق تلفی تک چلے جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ