’ ہمارے پاس قومی ترانے اور قومی جانور کے علاوہ کچھ نہیں بچا‘

گذشتہ روز ہم نے اس اجلاس کے دوران پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے حوالے سے ہونے والی گرما گرم گفتگو پر بات کی تھی مگر اس تحریر میں ہاکی فیڈریشن کا احوال شامل نہیں تھا جس سے دراصل اجلاس کا آغاز ہوا تھا۔

(اے ایف پی)

’ہاکی کو کرکٹ کی طرح سالانہ اربوں روپے نہیں ملتے۔۔۔ کرکٹ بورڈ کی طرح سات ارب روپے دیں، میں یقین دلاتا ہوں زمبابوے سے نہیں ہاریں گے۔‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل آصف باجوہ کے جو انہوں نے گذشتہ روز بین الاصوبائی روابط کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے کہے۔

گذشتہ روز ہم نے اس اجلاس کے دوران پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے حوالے سے ہونے والی گرما گرم گفتگو پر بات کی تھی مگر اس تحریر میں ہاکی فیڈریشن کا احوال شامل نہیں تھا جس سے دراصل اجلاس کا آغاز ہوا تھا۔

تو چلیں پھر شروع سے شروع کرتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ پارلیمان کی چوتھی منزل کے روم نمبر 7 میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران پاکستان کے قومی کھیل ہاکی پر کیا کیا باتیں ہوئیں۔

آغاز میں ہی کمیٹی چیئرمین نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری آصف باجوہ سے کہا کہ وہ اپنی بریفنگ کا آغاز کریں۔

آصف باجوہ نے کلام کا آغاز کیا تو ان کی آواز کچھ زیادہ پراعتماد نہیں تھی اور تھوڑا سے ہی بولنے کے بعد انہیں نہ جانے کیوں لگا کہ شاید چیئرمین قائمہ کمیٹی انہیں روکنے والے ہیں کیونکہ وہ بات کرتے کرتے ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ دھیمی آواز میں کہنے لگے ’اگر آپ مجھے وقت دیں تو میں تفصیل کے ساتھ ہاکی کے مسائل آپ کو بتاؤں۔‘

اس پر چیئرمین کمیٹی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’جی جی آپ آرام سے بولیں آپ کو ہی سننے آئیں ہیں۔‘

جس پر آصف باجوہ نے دوبارہ سے بولنا شروع کیا اور اس کمرے میں موجود سب کو اپنے ساتھ پرانی یادوں اور ہاکی کے سنہرے دور میں لے گئے۔

انہوں نے کئی میڈلز، ٹورنامنٹ اور ٹرافیاں گنوائیں جو پاکستان نے جیتیں۔ ساتھ میں کہا کہ ’جب تک ہاکی گراس پر کھیلی جاتی رہی پاکستان اور بھارت کو موسم کی وجہ سے خوب فائدہ ہوا۔‘

’مگر اس وقت کے کرتا دھرتا کام نہ کر سکے، اور ہم پیچھے رہ باقی دنیا آگے نکل گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آصف باجوہ نے کچھ اعداد و شمار بھی کمیٹی ممبران کو بتائے۔ ان کے مطابق 1988 میں پاکستان میں ایک ایسٹرو ٹرف تھا ’اب 40 ہیں لیکن 10 ہی کھیلنے کے قابل ہیں۔‘

انہوں نے ہالینڈ اور بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہالینڈ رقبے کے اعتبار سے لاہور ریجن سے چھوٹا ہے لیکن وہاں 16500 کے قریب ایسٹروٹرف ہیں اور ایک لاکھ 20 ہزار ہائی پروفائل کھلاڑی ہیں۔‘

’اسی طرح 2012 میں پاکستان 5ویں نمبر تھا اور بھارت 11ویں نمبر پر لیکن انہوں نے سرمایہ کاری کی اور آگے نکل گئے۔‘

ساتھ انہوں نے کرکٹ بورڈ کو ملنے والے پیسے کی طرف بھی اشارہ کیا اور طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاکی کو کرکٹ کی طرح سالانہ اربوں روپے نہیں ملتے، اگر کرکٹ بورڈ کی طرح سات ارب روپے دیں، میں یقین دلاتا ہوں ہم زمبابوے سے نہیں ہاریں گے۔‘

انہوں نے بھی اولمپک ایسوسی ایشن کی طرح شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس کوچز کے لیے پیسے نہیں ہیں، جب جب ہمیں کوچز ملے ہیں ہم نے جیت کر دکھایا ہے۔‘

اس پر وہاں موجود ایڈشنل سیکریٹری آئی پی سی محسن مشتاق نے کہا کہ ’ہم ان کو کوچ دینے کے لیے تیار ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے اتنے سٹار گزرے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی کوچ نہیں۔‘

وہاں بیٹھے ممبران میں سے کئی نے اس بات پر سر ہلاتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔

ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری نے ویسے تو باتیں بہت کیں لیکن ان کی جانب سے ہاکی کے زوال کا سب سے بڑا مسئلہ فنڈز ہی تھا لیکن ساتھ میں انہوں نے سکول گیمز اور محکمانہ گیمز کے فقدان پر بھی روشنی ڈالی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نواب شیر نے ان سے پوچھا کہ ’سنا ہے فیڈریشن آڈٹ کروانے سے گھبراتی ہے۔‘ اس پر آصف باجوہ نے کہا کہ ’میں آپ بتاؤں کے 1947 میں ہاکی فیڈریشن بنی لیکن پہلی بار آڈٹ 2014 میں ہوا۔ مگر ہم حساب دینے کو تیار ہیں۔‘

چیئرمین کمیٹی نے دوبارہ سوال کیا اور پوچھا کہ کرکٹ بورڈ کی طرح فنڈز ملتے ہیں؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ ’اگر موازنہ کریں تو ہمیں کچھ نہیں ملتا۔‘

آصف باجوہ نے چیئرمین کمیٹی کو مخاطب کرتے کہا کہ ’سیکریٹری اور ڈی جی سپورٹس بورڈ بھی موجود ہیں، ایک گزارش ہے کہ میری جونیئر اور سینیئر ٹیم کو سالانہ 30 سے 35 میچز ملنے چاہیے اور اس پر آنے والا خرچ خود حکومت کرے، بے شک ہمیں ایک روپیہ نہ دے۔‘

اس ساری گفتگو کے بعد چیئرمین کمیٹی نے دیگر ممبران سے کہا کہ اب آپ سب باری باری ان سے سوال کر سکتے ہیں۔

جس پر رکن پارلیمان گل ظفر خان نے اپنی بات کچھ اس انداز میں شروع کی: ’چیئرمین صاحب ہمارے پاس قومی ترانے اور قومی جانور کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ہر طرف ہی فریادیں ہیں، ایسا کریں جاوید آفریدی کو ہی دے دیں وہ ٹیم چلا لیں گے۔‘

جس پر اس کمرے میں وہ سائیڈ جہاں ممبران بیٹھے تھے ہنسنے کی آواز بلند ہوئی لیکن اس جانب جہاں کھیلوں کے عہدیداران موجود تھے خاموشی ہی رہی۔

اس کے بعد خاتون رکن پارلیمان سیدہ نوشین افتخار نے سوال کیا کہ پاکستان میں کتنے سپورٹس کمپلیکس فعال ہیں؟ تو جواب میں ڈی جی سپورٹس بورڈ نے کہا کہ ’انفراسٹرکچر پر اب بہت کام ہو رہا ہے، 31 سال بعد ہم نے اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر نو کا آغاز کیا ہے۔‘

ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ کہنا تھا کہ کمیٹی ممبران کی جانب سے یک دم حیرانی اور غصے کا اظہار کیا جانے لگا اور کچھ ممبران کا یہ کہنا تھا کہ ’31 سال میں آپ کو ضرورت ہی نہیں پڑی؟ جبکہ دیگر نے کہا کہ ’یہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔‘

سیاسی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے رکن پارلیمان اقبال محمد علی خان وہ واحد ممبر تھی اس کمرے میں جو سب سے زیادہ برہم تھے اور بات کرنے کو سب سے زیادہ بے چین۔

آخر کار جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پہلے تو ڈی جی سپورٹس بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی جو آپ نے 22 کروڑ روپے لگائے ہیں ان کا کیا؟ جو سڑکیں بنائیں وہ واپس بیٹھ گئی ہیں۔‘

اس پر ڈی جی صاحب نے جواب دیا کہ ’مجھے آئے چار ماہ ہوئے ہیں میں پہلے کا ذمہ دار نہیں ہوں۔‘

دھیمے انداز میں ہونے والی گفتگو میں گرمی آئی اور بات فنڈنگ، اولمپک میں پیسوں اور تنخواہوں پر چلی گئی اور اقبال محمد علی خان  نے بالکل ہی اپنے سامنے والی نشست پر بیٹھے جنرل سیکریٹری ہاکی فیڈریشن آصف باجوہ کی جانب رخ کیا اور پین گراتے ہوئے کہا ’ہاں باجوہ کھل جاؤں کیا؟‘

جواب میں آصف باجوہ نے جس انداز میں سر ہلا کر اشارہ کیا اس سے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بس رہنے دیں۔

مگر رکن پارلیمان اقبال محمد علی خان نے اتنا ضرور کہا کہ ’سر آصف باجوہ صاحب کی تو بہت بڑی فائل ہے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ ابھی باجوہ کو چھوڑ دیا، آگلی میٹنگ میں دیکھ لیں گے۔‘

ان کے بعد ذوالفقار علی نے کہا کہ ’جب کچھ خراب ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں سیاست دان کرتے ہیں اور اچھا ہو تو کہتے ہیں بیوروکریسی کرتی ہے۔‘

ہاکی اور اولمپک پر بات ہونے کے بعد جب باری آئی جمناسٹک کی تو پاکستان میں اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے ہی لگا لیں کہ جمناسٹک کے عہدیدار سارا وقت خاموشی سے بیٹھے رہے اور جب ان کی باری آئی تو نہ کوئی سوال ہوا نہ کوئی بحث۔ بس پانچ منٹ میں انہوں نے بھی وہی بات کی ’فنڈز ہی نہیں ملتےت ہم تو بچوں کو آن لائن کورسز کروا رہے ہیں۔‘

ہاکی پر بحث کا اختتام تب ہوا جب بین الاصوبائی روابط کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کمرے میں داخل ہوئیں اور ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل آصف باجوہ نے جانے کے لیے چیئرمین کمیٹی کو اشارے کرنے شروع کر دیے۔ پہلے تو چیئرمین کمیٹی نے انہیں نظرانداز کیا لیکن پھر جیسے ہی کہا کہ ’ہاکی والے چلے جائیں‘ تو فوراً آصف باجوہ اٹھ کھڑے ہوئے۔

یہ دیکھ کر اقبال محمد علی خان پھر سے غصہ ہو گئے اور انہوں نے اس موقع پر ایک بات کہی جسے اگر اس ساری بحث کا لب لباب کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔۔۔ ’تو ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل