’نوسرباز جانتا تھا کہ ہماری وزیراعظم سے ملاقات طے ہے‘

اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے طلحہ طالب اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے شہروز کاشف کے ساتھ نوسربازی میں دونوں لاکھوں روپے گنوا بیٹھے۔

کاشف سلیمان کے مطابق کال کرنے والا جانتا تھا کہ جب شہروز ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے جا رہے تھے تو انہوں نے اپنی گاڑی بیچی تھی(تصاویر: اے ایف پی/ شہروز کاشف فیس بک پیج)

آئے روزہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسی کالز موصول ہوتی ہیں جن میں لاکھوں یا ہزاروں روپے کی انعام کی رقم ہمارے فون نمبر یا نام پر نکلنے کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔

اکثر ایسی کالز میں کالر کہتا ہے کہ اپنا شناختی کارڈ نمبر دیں اور انعام حاصل کرنے کے لیے کچھ رقم جو ہزاروں میں اور کبھی لاکھوں میں بھی ہو سکتی ہے ان کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیں یا انہیں کسی موبائل فون کی کیش ٹرانسفر سہولت کے ذریعے منتقل کر دیں۔

ہم میں سے کئی لوگ ایسی کالز سے واقف ہو چکے ہیں یہاں تک کہ حکومتی سطح پر بھی ایسی کالز کو نظر انداز کرنے اور ان کے کہے پر عمل نہ کرنے کی تشہیر کی جا رہی ہے کیونکہ یہ کالز فراڈ نوسربازی کرنے کی نیت سے کی جاتی ہیں۔ اس میں آپ کے پیسے کال کرنے والے کے پاس چلے جاتے ہیں اور بدلے میں انعام کی جگہ آپ کو کال کرنے والے کا نمبر بند اور اس کا کوئی پتہ ٹھکانہ بعد میں کہیں نہیں ملتا۔

نوسر بازی کا ایسا ہی واقعہ ہوا اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے طلحہ طالب اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے شہروز کاشف کے ساتھ، جس میں دونوں نوجوان کھلاڑی لاکھوں روپے گنوا بیٹھے۔

'وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن کا پرسنل سیکرٹری بن کرہمارے ساتھ فراڈ کرنے والے کو ہمارے بارے میں ساری معلومات تھی یہاں تک کہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ہماری وزیراعظم پاکستان سے عنقریب ملاقات طے ہے۔'

یہ کہنا ہے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کاشف سلیمان کا۔

 کاشف سلیمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجھے اندازہ ہے کہ لوگ اس طرح کے فراڈ کرتے ہیں لیکن ہمیں کال کرنے والا شخص ہمارے بارے میں سب جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ہماری وزیر اعظم سے ملاقات ہونے والی ہے، وہ جانتا تھا کہ ہم فہمیدہ مرزا سے ملے تھے۔‘

کاشف سلیمان کے مطابق ’کال کرنے والا جانتا تھا کہ جب شہروز ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے جا رہے تھے تو انہوں نے اپنی گاڑی بیچی تھی ااور ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس وقت صوبائی وزیر برائے سپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز رائے تیمور بھٹی اور ان کے پرسنل سیکرٹری عمیر حسن ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔'

کاشف سلیمان نے بتایا: 'ہمیں ہفتے کو ایک کال موصول ہوئی، ایک شخص نے کہا کہ ہولڈ کریں وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص نے مجھ سے بات کی جو بظاہر وزیر ایوی ایشن خود تھے۔ انہوں نے مجھ سے شہروز کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے، میں نے انہیں بتایا کہ وہ مناسلو سر کرنے نیپال چلے گئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کاشف کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے بعد اس شخص نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی کہ انہیں دو ہفتے پہلے کہا گیا تھا کہ شہروز کی بہترین کارکردگی پر انہیں کوئی انعام دینا ہے اور ان کی وزیر اعظم سے ملاقات بھی ہے اور یہ کہ شہروز نے چونکہ گاڑی بیچی تھی تو ہم انہیں گاڑی انعام میں دینا چاہ رہے ہیں۔ پھر مجھ سے شناختی کارڈ مانگا گیا این او سی کے لیے اور میں نے آئی ڈی کارڈ بھیج دیا۔‘

 کاشف نے بتایا کہ ’اس دوران ان کی بظاہر دو لوگوں سے بات ہوتی رہی جن میں سے ایک غلام سرور بن کر بات کرتا تھا دوسرا ان کا پی اے رجب بن کر بات کرتا تھا۔‘

 کاشف نے بتایا کہ ’کال کے دوران پیچھے سے وائرلیس چلنے کی آوازیں بھی آتیں تھیں اور ایسے جیسے ایک دفتر کا ماحول ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’انہیں کال پر اسلام آباد آنے کا بھی کہا گیا اور کہا گیا کہ مجھے وہاں آکر کچھ دستاویزات پر دستخط کرنے ہیں اور یہ کہ شہروز کو پی آئی اے میں نوکری بھی دی جارہی ہے۔ اس کے بعد مجھے لاہور میں رشید ہسپتال ڈیفنس روڈ پر بلایا گیا۔ یہ بظاہر ڈی جی کسٹم کا کوئی ماتحت تھا جس نے کہا کہ ڈی جی کسٹمز کی اہلیہ چونکہ کرونا میں مبتلا ہیں اس لیے وہ نہیں آسکے اور مجھے بھیجا ہے۔‘

کاشف سلیمان کے مطابق ’انہوں نے مجھ سے دو لاکھ 85 ہزار روپے لیے اور مجھے ایک لفافہ پکڑا دیا کہ یہ لفافہ میں ڈرائی پورٹ پر جا کر دوں گا اور وہاں انسپکٹر اس لفافے کو کھولے گا اور گاڑی ہمارے حوالے کر دے گا۔ میں اس شخص کو پیسے دے کر وہاں سے نکلا اور اس شخص کو کال کی جو مجھے وزیر کا پی اے بن کر کال کر رہا تھا لیکن ان کا نمبر بند تھا جس سے مجھے کچھ شک ہو گیا تھا۔ لیکن پھر بھی میں وہ لفافہ لے کر ڈرائی پورٹ چلا گیا اور وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی چکر نہیں ہے۔ پھر میں نے وہ لفافہ کھولا تو اس کے اندر خالی سفید کاغذ پڑے ہوئے تھے۔‘

کاشف نے بتایا کہ ’حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں کہا گیا تھا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر قریبی متعلقہ تھانے میں درج کروا دوں جو میں نے تھانہ برکی روڈ میں درج کروا دی ہے اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘

تھانہ برکی روڈ کے ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس کیس کی رپورٹ تو درج ہو گئی ہے لیکن ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم سیل میں رپورٹ ہونا چاہیے۔ یہ فراڈ کا کیس ہے جو موبائل فون کے ذریعے ہوا۔ یہ سائبر کرائم کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس وہ سہولیات نہیں ہیں جو سائبر کرائم والوں کے پاس ہیں۔ نوسر بازوں کے نام پر سم نہیں ہوتی اس لیے انہیں ایف آئی اے والے ہی ٹریس کر سکتے ہیں۔‘

چند روز قبل ایسا ہی ایک واقعہ اولمپئین ویٹ لفٹر طلحہ طالب کے ساتھ بھی پیش آیا تھا: طلحہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انہیں بھی وزیر برائے ایوی ایشن کا پرسنل سیکرٹری بن کر 16 اگست کو کسی نے کال کی تھی اور بتایا کہ وفاقی وزیر غلام سرورانہیں ان کی اچھی کارکردگی پر گاڑی انعام میں دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں 20 اگست کو اسی شخص کی جانب سے کال آئی کہ وہ سمبڑیال ڈرائی پورٹ سے اپنی گاڑی لے جائیں لیکن اس کے کچھ ہینڈلنگ چارجز ہیں وہ پہلے جمع کروا دیں۔ یہ رقم تین لاکھ روپے تھی۔‘

 طلحہ نے بتایا کہ ’یہ تین لاکھ انہیں اولمپکس میں اچھی کارکردگی دکھانے پر انعام کے طور پر ملی تھی۔ اور ان کے والد نے وہ رقم کال کرنے والے کے بتائے ہوئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دی۔ جس کے بعد ہم ڈرائی پورٹ گئے تو وہاں کچھ نہیں تھا۔ ہم نے کال کرنے والے شخص کو کال بھی کی لیکن اس کا فون بند تھا اور ہمیں اس کا کوئی نشان نہ ملا۔‘

طلحہ نے بتایا کہ ’انہوں نے اس واقعے کی شکایت وزیر اعظم شکایت سیل میں درج کروا رکھی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سارے معاملے پر صوبائی وزیر برائے سپورٹس اینڈ یوتھ افئیر رائے تیمور بھٹی اور ان کے پرسنل سیکرٹری عمیر حسن سے بھی رابطے کی کوشش کی مگران دونوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان