معاہدہ ابراہیمی کی قربانی

ٹرمپ کی رعیت میں ایک سال پہلے طے پانے والا ’امن معاہدہ‘ نہیں، کاروباری سودا تھا۔ معاہدہ ابراہیمی کا تانہ بانہ نتن یاہو کے اقتدار اور خواہشات کی تکمیل کے لیے بنا گیا تھا۔

(دائیں سے بائیں) ایک سال قبل15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیانی ابراہم معاہدے پر دستخط سے قبل تالیاں بجا رہے ہیں۔ اس معاہدے کی رو سے بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا (اے ایف پی)

اسرائیلی جارحیت کے تسلسل سے یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ’معاہدوں‘ کا قیام امن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ کشیدگی 2020 کے دوران اسرائیل کے چار عرب ملکوں کے ساتھ طے پانے والے نارملائزیشن معاہدوں ۔ بالخصوص معاہدہ ابراہیمی کی ناکامی پر دلالت کرتی ہے۔ معاہدوں پر دستخط کے وقت کی جانے والی تشہیر میں ان معاہدوں کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ضامن قرار دیا جاتا رہا۔ ان کے ذریعے فلسطین میں اسرائیل کے توسیع پسند عزائم کی راہ میں بند باندھنے کی امید دلائی جاتی رہی۔

سفارتی تعلقات کا ثمر؟

نارملائزیشن معاہدوں کی بساط پچھانے والوں نے امن کا لالی پاپ دے کر عوام کو بہلایا پھسلایا لیکن اس کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کا عفریت فلسطینی علاقوں کو مسلسل نگلتا جا رہا ہے۔ معاہدوں کے بعد کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ معاہدہ ابراہیمی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رعیت میں طے پانے والا ’کاروباری سودا‘ تھا۔ ٹرمپ نے سارا میلہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی خواہشات کی تکیمل اور ان کا اقتدار بچانے کے لیے سجایا۔

معاہدہ ابراہیمی کے بعد متحدہ عرب امارات، اسرائیل کا بڑا تجارتی شریک بن کر ابھرا ہے۔ ابوظہبی نے اسرائیل کی سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ لگایا۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بعد سے اب تک 60 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حالیہ حجم 60 سے 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اس میں آئندہ برسوں مزید اضافے کا امکان ہے۔ امارات اور اسرائیل کے درمیان صحت، ہوابازی، سیاحت، فوڈ سکیورٹی، زراعت اور دفاع سمیت دیگر کئی اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔

یو اے ای نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کی مخالفت کے باوجود وہاں پر بننے والی غیر قانونی یہودی بستیوں میں تیار ہونے والے مصنوعات کو اپنی منڈیوں میں کھلے عام فروخت کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان مصنوعات پر ’میڈ ان اسرائیل‘ کی تحریر فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے لیے کافی ہے۔

ادھر بحرین اور اسرائیل کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کی بھی امید ہے۔ رواں برس کے اختتام تک منامہ اور تل ابیب کے درمیان غیر فوجی تجارت کا حجم 220 ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسرائیل، بحرین کو فوجی اور سکیورٹی ہارڈ ویئر بھی فروخت کرنے میں سنجیدہ ہے۔

نارملائزیشن معاہدوں سے سوڈان اور مراکش کو کسی بڑے تجارتی فائدے کی توقع نہیں تھی، تاہم امریکہ کہ سہولت کاری سے فیض پا کر دونوں ملکوں کو محدود دائرے میں سیاسی فتوحات کا پھل ضرور ملا ہے۔

امریکہ نے سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکال دیا جس کے بعد غربت میں گھرے اس افریقی ملک کو سرمایہ کاری اور قرضے ملنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے مغربی صحارا پر رباط کی سیادت تسلیم کر لی۔ مراکش 1970 سے اس کنڑول کی عالمی سطح پر تائید کا خواہش مند چلا آ رہا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ اور تنازعات کی آگ میں جلنے والے علاقوں میں نارملائزیشن معاہدوں کے بعد بھی صورت حال جوں کہ توں برقرار ہے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کی منظم نسلی تطھیر کر رہا ہے۔

اسرائیل، فلسطنیوں کے مذہبی حقوق پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو مسجد اقصی اور مسجد ابراہیمی تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب فلسطینی مسیحیوں کو بھی چرچ آف ہولی سپلشر میں ایسٹر سروسز میں شرکت کے لیے جانے سے روکنا معمول بن چکا ہے۔ دوسری جانب معاہدہ ابراہیمی کے بعد متحدہ عرب امارات میں یہودی معبد کی تعمیر کی ’نوید‘ فلسطینیوں کا منہ چڑا رہی ہے۔

نارملائزیشن کی قمیت

اندریں حالات اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے والے عرب ملک کیونکر یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ معاہدہ ابراہیمی نے مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی؟

عرب عوام نے بار دگر فلسطین کاز کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ حالیہ عرب رائے عامہ انڈیکس 2019-2020 میں 13 عرب ملکوں کے 300 ملین افراد میں سے 88 فیصد اسرائیل سے تعلقات نارملائز کرنے کے خیال کو مسترد کر چکے ہیں۔

سوڈان میں 79 فیصد رائے دہندگان نے مسئلہ فلسطین کے حل سے پہلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی مخالفت کی جبکہ خرطوم نے معاہدہ ابراہیمی کی پہلی برسی کے دو روز قبل ہی اسرائیل کو اگلے مہینے [اکتوبر] میں تسلیم کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

مسلسل اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں عرب عوام، بشمول ان چار ملکوں جنہوں نے صہیونی ریاست کے ساتھ امن کا خواب آنکھوں میں سجا رکھا ہے، فلسطینیوں کے دفاع میں متحد ویکسو ہیں۔

رائے عامہ کے اشاریوں اور حالیہ اسرائیلی اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہنا مشکل ہے کہ معاہدہ ابراہیمی کے قضیہ فلسطین پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس معاہدے کا انجام بھی مصر اور اردن سے سفارتی تعلقات کے بعد اسرائیلی رویے میں پیدا ہونے والی سرد مہری کا پیش خیمہ دکھائی دیتا ہے۔

معاہدہ کے علاقائی مضمرات

معاہدہ ابراہیمی کے دوطرفہ تعلقات سے ہٹ کر خطے کے لیے دور رس مضمرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ترکی اور ایران نے اس پر کافی ناک منہ چڑھایا۔ تاہم رواں برس موسم بہار میں اسرائیل ۔ فلسطین بحران کے موقع پر امن معاہدے کی وجہ سے ناراض ملک صہیونی ریاست سے سفارتی تعلقات کے قیام پر خوب گرجے، لیکن اس سب کے باوجود معاہدہ برقرار رہا۔ اسے برقرار رکھنے میں ٹرمپ کی کمال درجہ سہولت کاری کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔

امن معاہدہ کے حوالے سے چین کا نقطہ نظر سب سے منفرد رہا۔ بیجنگ وزارت خارجہ نے امن معاہدے پر ’خوشی‘ کا اظہار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی کاوشوں کو سراہا۔‘ تاہم بیجنگ نے قضیہ فلسطین کے حل کی خاطر ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ چین کی توجہ اپنے ’وسیع البنیاد علاقائی ایجنڈے‘ پر مرکوز ہے۔

چین ۔ امریکہ مخاصمت

امریکہ ۔ چین بڑھتی ہوئی مخاصمت رواں عشرے کی سب سے اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے، جسے دیکھتے ہوئے ابراہمیی معاہدے کے اثرات کو صرف مشرق وسطیٰ تک محدود سمجھنا کوتاہ بینی ہو گی۔ امن معاہدے کی خاطر ٹرمپ کے موٹیویشنل کردار کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو روک کر علاقے میں موجود ملکوں کو امریکی چھتر چھایہ میں نیا اقتصادی اور سکیورٹی فریم ورک فراہم کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب چین بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے تاکہ اس کے فلیگ شپ ’دی بلٹ اینڈ روڈ‘ گلوبل انفراسٹرکچر پروگرام کے لیے توانائی کے ذرائع بحال رہیں۔ ایران اور چین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے 25 سالہ تعاون کا معاہدہ علاقے میں بیجنگ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا غماز ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے رواں برس جولائی میں کیے جانے والے دورہ شام میں واضح کیا تھا کہ ’چین اور شام نے ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے اعتماد اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ رویہ خطے میں امریکہ ۔ شام تعلقات سے بالکل ہٹ کر ہے، جس سے علاقے میں چین کے وسیع البنیاد عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

کلائنٹ ریاستیں

چین اور امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ علاقے میں اپنی زیادہ سے زیادہ ’کلائنٹ ریاستیں‘ بنا لیں۔ امریکہ کی افغانستان سے واپسی کے بعد خلیج کے طول وعرض میں یہی صورت حال نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔

یو اے ای اور قطر کے درمیان ایک عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی جبکہ امریکہ اور چین دونوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل، بحرین، مراکش وغیرہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا یو اے ای ان دنوں افغانستان کے بھگوڑے سابق صدر اشرف غنی کی میزبانی کر رہا ہے۔

دوسری جانب چین، ایران، ترکی وغیرہ کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ملک قطر ایک عرصے سے طالبان کا میزبان چلا آ رہا ہے اور حالیہ چند ہفتوں سے افغان امن مذاکرات کی میز بھی دوحہ ہی میں سجی دکھائی دی۔ ایسے میں یہ ملک بذات خود تو نہیں بلکہ ان سے متعلق چین اور امریکہ کی پالیسی زیادہ اہم ہے۔ معاہدہ ابراہیمی اگر برقرار رکھنا ہے تو ان ملکوں کو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا ہو گی بصورت دیگر واشنگٹن کو ان معاہدوں میں زیادہ دلچسپی نہیں۔

یہ بات بھی نوشتہ دیوار ہے کہ سفارتی تعلقات استوار کرنے والے کسی بھی عرب ملک کے دفاع میں اسرائیل اپنی سلامتی کو کبھی داؤ  پر نہیں لگائے گا۔ معاہدہ ابراہیمی کے موقع پر ٹرمپ ایران کے خلاف عرب ملکوں کے اتحاد کا پرچار کیا کرتے تھے۔

ذرا سوچئے! فلسطین میں یہودی آبادکاروں کے استعماری منصوبے کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی دینے والا اسرائیل کسی عرب ملک کی مدد کو کیوں کر آئے گا؟ اسرائیل کو اپنی سلامتی سے غرض ہے، وہ عربوں کی خاطر ایران سے لڑنے میدان جنگ میں کیوں اترنے گا۔

 امن معاہدے کو جھٹکا

فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان رواں سال ہونے والی جنگ کے بعد متعدد عرب ریاستیں تل ابیب سے اپنے رابطوں میں محتاط ہو گئیں جس کے بعد واشنگٹن نے بھی اسرائیل کو امریکی سینٹرل کمان US CENTCOM کا حصہ بنانے کی کوششوں کو وقتی طور پر روک لیا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیل، امریکہ کے یورپی کمان میں شامل تھا۔ اردن، عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، لبنان اور چند دوسرے ملک سینٹرل کمان میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے مذکورہ پیش رفت پر فوری تبصرے سے گریز کیا ہے۔ اس صورت حال میں معاہدہ ابراہیمی کے بعد ’سب ٹھیک‘ کا تاثر رنگ جما نہیں سکا۔ امریکہ، اسرائیل اور علاقے کے ملکوں کو اس پر تشویش ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد واشنگٹن میں بھی نارملائزیشن کے ثمرات پر مایوس کن بحث مباحثے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس میں دو رائیں نہیں کہ جو بائیڈن بھی اسرائیل کے دفاع میں خم ٹھونک کر کھڑے ہیں، تاہم وہ اپنے پیش رو کے ’نئے دوستوں‘ پر بلاوجہ ہن برسانے کے لیے کسی طور پر راضی نہیں۔

امریکی کانگریس یو اے ای کو F-35 طیاروں کی فروخت اب بھی منسوخ کر سکتی ہے۔ انکل سام کے یہی پالیسی ساز ادارے مغربی صحارا پر مراکشی سیادت تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے کو بیک جنبش قلم واپس بھی لے سکتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل تک سعودی عرب بھی اسرائیل سے کسی قسم کے سفارتی تعلقات کو خارج از امکان قرار دے چکا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات اور مقامات مقدسہ کی بے حرمتی پر مبنی کارراوئیوں کے تسلسل میں سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے مملکت کی سیاسی قیادت اس میدان میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ