’ظاہر جعفر کے والدین کا پولیس کو اطلاع نہ دینا اعانت جرم نہیں‘

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کے وکیل خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قتل کا یہ مقدمہ بہت زیادہ پیچیدہ نہیں تھا، لیکن پولیس کو تفتیش کے دوران کڑیاں ملانا نہیں آتا۔ 

وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا پولیس کو دیا گیا اعترافی  بیان پڑھ کر سنایا(فائل فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ان کے موکلین کو علم تھا کہ پولیس کو اطلاع دینے سے مذکورہ قتل رک سکتا ہے اور انہوں نے دانستہ قانون کو بے خبر رکھا، تو تب بھی یہ اقدام اعانت جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔   

خواجہ حارث ایڈوکیٹ نے جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ کے سامنے مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اپنے دلائل مکمل کیے۔ 

عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی جرم میں اعانت دانستہ اور منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی جبکہ اس قتل کیس میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس سے منصوبہ بندی کو ثابت کیا جا سکے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ’جرم میں ایسی اعانت کے ثابت ہونے کی صورت میں قانون کی الگ دفعات کا اطلاق ہوگا۔‘

جرم میں اعانت فراہم کرنے سے متعلق انہوں نے مزید بحث کرتے ہوئے کہا کہ کال ڈیٹا ریکارڈ میں پولیس نے صرف ظاہر جعفر کی اپنے والدین کو اس رات کی جانے والی کالز کا ریکارڈ پیش کیا ہے، جبکہ گفتگو کیا ہوئی اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’ابھی تک فون پر بات چیت کا ٹرانسکرپٹ سامنے نہیں آیا کہ ظاہر جعفر نے اپنے والد کو ان فون کالز میں کیا کہا؟ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا۔‘ 

اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ کال پر ہونے والی بات چیت کا ٹرانسکرپٹ تو تب ہوگا جب کال ریکارڈ ہوئی ہوگی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بدل رہی ہے، قانون کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اس موقع پر خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے پراسیکیوشن یا وہ خود ٹرائل کے دوران اس حوالے سے کوئی شہادت پیش کریں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ قتل کا یہ مقدمہ بہت زیادہ پیچیدہ کیس نہیں تھا، لیکن پولیس کو تفتیش کے دوران کڑیاں ملانا نہیں آتا۔ 

اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’اس کیس سے ہٹ کر بات کی جائے تو عام طور پر تاثر یہ ہوتا ہے کہ ٹرائل میں تاخیر ہوگی اور ملزم کو ضمانت پر رہائی نہیں مل پائے گی اور ضمانت نہ ملنے پر کم از کم ملزم جیل میں یہ سزا تو کاٹے۔‘ 

خواجہ حارث نے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیس تیار کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے عدالتوں کے وہ فیصلے پڑھے جائیں جو آپ کے خلاف جاتے ہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے عدالت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا پولیس کو دیا گیا اعترافی بیان پڑھ کر سنایا، جس میں وہ (ملزم) کہتے ہیں کہ نور مقدم نے ان سے شادی کرنے سے انکار کیا تو دونوں کے تلخی اور لڑائی ہو گئی اور مقتولہ نے ملزم کو پولیس کیس کے ذریعے ذلیل کرنے کی دھمکی دی۔   

بیان کے مطابق ظاہر جعفر نے اپنے والد کو فون کرکے کہا کہ وہ نور مقدم کو ختم کرکے اس سے جان چھڑوا رہے ہیں۔ 

خواجہ حارث نے کہا کہ مقتولہ سے جان چھڑانے والا جملہ ظاہر جعفر کے ابتدائی بیان میں شامل نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ابتدائی اعترافی بیان کے مطابق ظاہر جعفر نے قتل کے بعد گھر والوں کو واردات سے آگاہ کیا۔ 

بقول خواجہ حارث: ’اب یہ بات ٹرائل کے دوران شہادت میں ثابت ہوگی کہ کون سا بیان درست ہے اور کون سا غلط۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ایک جملے کے اضافے سے پورے کیس کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے کہ والد کا اس پورے واقعے میں کیا کردار تھا۔ 

خواجہ حارث نے مزید کہا کہ پولیس میمو آف ریکوری میں صرف ریکوری کا بتاتی ہے کہ ملزم تفتیشی افسر کو کہاں لے کر گیا اور کیا کچھ ریکور کروایا؟ 

ظاہر جعفر کے والدین کے وکیل صفائی نے سوال اٹھایا کہ میمو آف ریکوری میں بیان کیسے آ گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ’پولیس کی تحویل میں ریکارڈ کروائے گئے ملزم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، ملزم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرانا ضروری ہوتا ہے۔‘

اس موقعے پر خواجہ حارث نے ملزم کے بیان کی قانونی حیثیت سے متعلق عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات عدالت کے سامنے پیش کیے۔ 

سماعت کے دوران ایک موقعے پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ امریکہ میں ٹرائل کو ٹیلی وائز بھی کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں ابھی رولز بننا ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ قتل کی واردات کو سال ڈیڑھ سال گزر جائے تو اس پر دہشت گردی کی دفعات لگا دی جاتی ہیں، تاہم سپریم کورٹ کی تشریح کے بعد اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے ہاں ماب جسٹس (mob justice)کا بھی رواج ہے، کچھ ہو جائے تو سڑک پر ہی حساب برابر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘ 

جمعرات کو خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس میں خصوصاً ان کے موکلوں سے متعلق کئی گرے ایریاز موجود ہیں۔ 

انہوں نے کہا تھا کہ ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی بیان لیے بغیر ان کے موکلوں کو مرکزی ملزم کے بیان کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ 

جمعے کی سماعت میں ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کر لیے جبکہ 21ستمبر کو نور مقدم کے والد کے وکیل شاہ خالد اپنے دلائل پیش کریں گے۔ 

نور مقدم قتل کیس

یاد رہے کہ 20 جولائی کو سابق پاکستانی سفارت کار کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک گھر سے برآمد ہوئی تھی، جبکہ پاکستان کی ایک بڑے کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے ظاہر جعفر کو بھی وہاں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 

نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر مرکزی ملزم ہیں جبکہ ان کے والدین اور تین گھریلو ملازمین پر جرم کی اعانت اور حقائق چھپانے کے الزامات لگائے گئے ہیں اور وہ زیر حراست ہیں۔ 

تھراپی ورکس نامی ادارے کے مالک سمیت چھ اہلکاروں پر بھی اعانت کے الزامات ہیں، تاہم وہ ضمانت پر ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان