’ایم بی اے وڑا پاؤ‘: اسلام آباد کے نوجوان کی بے روزگاری کا توڑ

ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بے روزگاری کا سامنا کرنے والے عمر ایوب نے اپنا کاروبار کرنے کی ٹھان لی۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اسلام آباد کے علاقے ایف الیون میں ایک پوش پلازے کے عین سامنے چھوٹے سے ٹھیلے پر ممبئی کا مشہور ’برگر‘ بنا کر فروخت کرتے نظر آتے ہیں، جس کا نام انہوں نے ’ایم بی اے وڑا پاؤ‘ رکھا ہے۔

عمر ایوب نامی اس نوجوان نے بحریہ یونیورسٹی سے 2019 میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، لیکن انہیں ملازمت حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جب کرونا وبا کی وجہ سے معاشی حالات اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا تو انہوں نے اپنا کام کرنے کی ٹھانی۔

ایم بی اے وڑا پاؤ کی کہانی سناتے ہوئے عمر ایوب نے بتایا: ’میں نے 2019 میں اپنی ڈگری مکمل کی تھی، لیکن مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہیں۔ بہت کم ہیں۔ ایم بی اے سے متعلقہ نوکری نہیں ملتی۔ مشقت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر کرونا کی وبا آگئی۔ جو بے چارے کام کر رہے تھے انہیں بھی نکال دیا گیا تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ کوئی اپنا کام کریں۔ ساتھ ایم بی اے جوڑ دیتے ہیں۔ نوکری تو ہے نہیں۔ اپنا کوئی چھوٹا سا کام شروع کرکے کوشش کرتے ہیں۔‘

عمر ایوب نے 12 ستمبر سے ایم بی اے وڑا پاؤ کا ٹھیلا لگایا۔ وہ ہر روز شام چار بجے یہاں پہنچتے ہیں اور رات ایک بجے تک وڑا پاؤ فروخت کرتے ہیں۔ یہ ایک بھارتی سٹریٹ فوڈ ہے جس میں آلو کی ٹکیہ کو بن میں مختلف چٹنیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمر نے بتایا: ’بریانی بھی عام ہے۔ انڈہ شامی برگر بھی عام ہے۔ وڑا پاؤ ایک مختلف چیز ہے جو راولپنڈی اسلام آباد میں موجود نہیں تھا۔ میں نے یہ چیز سیکھی تھی کہ اگر مارکیٹ میں جلدی نام بنانا ہے تو کسی منفرد چیز کو لے کر آئیں۔ تو میں نے وڑا پاؤ کے ساتھ اپنی ڈگری کا نام لکھ دیا کہ میں بے روزگار ہوں۔‘

جب عمر نے کام کا آغاز کیا تو پورے دن میں صرف دو وڑا پاؤ ہی فروخت کرسکے، مگر ایک ہفتے بعد اب ان کا تمام سٹاک بِک جاتا ہے۔ وہ روزانہ 70 سے 80 وڑا پاؤ بیچتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے ان کی بہت مدد کی اور انہیں چٹنیاں بنا کر دیں۔ 

عمر اپنے کام اور اس سے جڑی خود مختاری سے مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید اب وہ کبھی نو سے پانچ کی لگی بندھی نوکری نہ کریں۔ ’میں اپنے کام میں زیادہ مطمئن ہوں کہ میں خود کام کر رہا ہوں۔ میں اس سے خوش ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا