پنجاب میں پہلے دلت وزیر اعلیٰ کا انتخاب کانگریس کا ’ماسٹر سٹروک‘؟

چرن جیت سنگھ چنی کے انتخاب سے پہلے خبریں تھی کہ نوجوت سنگھ سدھو کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا جائے گا، مگر امریندر سنگھ نے اس کی مخالف کی تھی کیونکہ ان کے بقول سدھو کے پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف سے اچھے تعلقات ملکی مفاد میں نہیں۔

20 ستمبر کو  امرتسر میں کانگریس پارٹی کے ورکر چرن جیت سنگھ چنی کے پنجاب کے پہلے دلت  وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر جشن منا رہے ہیں (اے ایف پی)

بھارت میں صوبہ پنجاب میں کانگریس پارٹی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے چرن جیت سنگھ چنی کا انتخاب کیا ہے جو صوبے کے پہلے دلت وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

اس فیصلے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کانگریس کا ’ماسٹر سڑوک‘ ہے جس سے پارٹی کی سکھ اور ہندو دلتوں میں مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ 

سابق وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ کے استعفے کے بعد کانگریس نے چرن جیت سنگھ چنی کا دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں پنجاب کے پہلا دلت وزیر اعلیٰ کے طور پر انتخاب کیا۔

ان کے انتخاب سے پہلے خبریں تھی کہ نوجوت سنگھ سدھو وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا جائے گا، مگر امریندر سنگھ نے اس کی مخالف کی تھی کیونکہ ان کے بقول سدھو کے پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف سے اچھے تعلقات ملکی مفاد میں نہیں۔

کانگریس کو کیا فائدہ ہوگا؟

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں سینٹر فار دا سٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز کے ماہر سیاسی امور سنجے کمار لکھتے ہیں کہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چنی پارٹی کا متفقہ انتخاب ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ یہ سچ ہو لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پنجاب کے پہلے دلت وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا انتخاب ریاست میں دلتوں کے بڑے ووٹ پر نظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

ان کے مطابق 2011 کی مردم شماری کے تخمینوں کے مطابق پنجاب کی کل آبادی کا 32 فیصد چھوٹی ذاتوں پر مشتمل ہے جن میں ایک تہائی دلت سکھ ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ’دلت ووٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاستی اسمبلی کے 54 حلقے ایسے ہیں جہاں کل ووٹرز کا 30 فیصد سے زیادہ دلت ہیں۔ مزید 45 اسمبلی حلقوں میں20 فیصد سے 30 فیصد ووٹر دلت ہیں۔‘

اگلے سال پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں جن میں کانگریس، شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اتحاد اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے درمیان مقابلہ ہو گا اور کسی بھی برادری کے ایک تہائی ووٹ کسی بھی سیاسی جماعت کی جیت یا شکست میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سنجے کے مطابق پنجاب میں دلتوں کی تعداد نمایاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند مہینوں میں تمام سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنےحق میں متحرک کرنے کی کوششش کی ہے۔ ’ہر پارٹی نے کسی نہ کسی طرح اشارہ دیا  کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو وہ دلتوں کو اقتدار میں معقول حصہ دے گی۔ اگرچہ عام آدمی پارٹی نے اقتدار ملنے کی صورت میں دلت نائب وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ایس اے ڈی نے دلتوں کو راغب کرنے کے لیے بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ امریندر سنگھ کے استعفے سے کانگریس کو موقع ملا اور  پارٹی چنی کو پنجاب کا پہلا دلت وزیر اعلیٰ مقرر کر کے حریفوں سے دوڑ میں آگے نکل گئی۔ 

’ فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی پارٹی دلت ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کے قابل ہو گی لیکن بہت سے لوگوں کی رائے میں چنی کا انتخاب کر کے کانگریس نے ماسٹر سٹروک کھیلا ہے۔‘

2012 اور 2017 کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے سنجے لکھتے ہیں کہ کانگرس نے 2012 میں کم درجے کی ذاتوں (scheduled castes) کے لیے 34 ریزرو حلقوں میں سے 10 جیتے تھے جبکہ 2017 میں اس نے 34 میں سے 21 حلقے جیتے۔

ان کا کہنا تھا دلت ووٹ زیادہ تر کس پارٹی کو گئے اس بارے میں حتمی تعین کرنا مشکل ہے مگر اپنے ادارے کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کانگریس سکھ اور ہندو دلت کے ووٹ جمع کرنے میں کامیاب رہی ہے۔  

سنجے کمار کے تجزیے کے مطابق اگر پارٹی 2022 میں اسمبلی انتخابات جیتنا چاہتی ہے تو اسے دلت ووٹروں پر اثرورسوخ قائم رکھنا ہوگا۔

چرن جیت سنگھ چنی کون ہیں؟

اخبار فنانشل ایکسپریس کے مطابق چنی، سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی کابینہ میں فنی تعلیم کے وزیر تھے۔ ان کا تعلق سکھ  دلت برادری سے ہے جسے رامداسیا سکھ برادری کہا جاتا ہے۔

وہ پنجاب کے چمکور صاحب اسمبلی حلقہ سے تین بار ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 2007، 2012 اور 2017 میں الیکشن جیتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چنی 2015 سے 2016 تک پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔

چرن جیت سنگھ چنی دو اپریل 1972 کو چمکور صاحب کے نزدیک مکرونا کلاں نامی گاؤں کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی سرکاری سکول میں حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون پڑھا جبکہ پنجاب ٹینیکل یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔

چنی خاندان کی جدوجہد کے بارے میں بھارتی پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ خاندان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے ان کے والد ایس ہرسا سنگھ کو بہت محنت کرنی پڑی۔ اس مقصد کو پانے کے لیے انہوں نے ملائشیا جا کر محنت کی اور بالآخر کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ 

انہوں نے بھارت واپس آ کر پنجاب کے قصبے کھارڑ میں رہائش اختیار کرنے کے بعد ٹینٹ ہاؤس کا کاروبار شروع کر دیا۔ چنی بھی اسی کام میں لگ گئے۔

چنی کے حالات زندگی کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ وہ ہینڈبال کے بڑے کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ اس کھیل میں انہوں نے کئی انعامات جیتے۔ انہوں نے ہینڈ بال میں پنجاب یونیورسٹی کی تین مرتبہ نمائندگی کی اور انٹر یونیورسٹی ہینڈبال ٹورنامنٹ میں سونے کا تمغہ جیتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا