کوئٹہ: بے بی فیڈنگ کارنرز کے قیام کی خواتین میں پذیرائی

اب تک کوئٹہ میں چھ مقامات پر بے بی فیڈنگ کارنرز قائم کیے جاچکےہیں جبکہ صوبائی حکومت مزید 25 مراکز قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

کوئٹہ کی ضلع کچہری میں بچوں کو سلانے کے لیے جھولا بھی موجود ہے (فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

کوئٹہ کی ضلع کچہری میں خواتین کے لیے ایک بے بی فیڈنگ کارنر مختص کردیا گیا ہے، جہاں پیشی کے سلسلے میں عدالت آنے والی خواتین نہ صرف خود سکون سے بیٹھ سکتی ہیں بلکہ یہاں وہ اپنے بچوں کو دودھ بھی پلا سکتی ہیں۔

کوئٹہ کی رہائشی فریدہ، ضلع کچہری کی فیملی کورٹ میں اپنے شوہر کے خلاف مقدمے کی پیروی کے لیے گذشتہ دو سال سے یہاں آرہی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’عدالتوں میں پیش ہونے والی خواتین کو بہت سی مشکلات درپیش آتی ہیں۔ ایک تو انہیں باہر برآمدے میں مردوں کے ساتھ پیشی کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا دوسرا اگر چھوٹے بچے ساتھ ہوں تو انہیں کھلانے پلانے کے حوالے سے کوئی الگ جگہ مخصوص نہیں تھی۔‘

تاہم بے بی فیڈنگ کارنر بننے کے بعد اب فریدہ اور ان جیسی دوسری خواتین کو بیٹھنے کی جگہ مل گئی ہے جہاں وہ سکون سے بیٹھ کر عدالت میں پیش ہونےکا انتظار کرسکتی ہیں۔

ایسی خواتین جن کے پاس بچے ہوں ان کو بھی یہاں کچھ وقت کے لیے بٹھانے اور بچوں کو سلانے کے لیے جھولے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

کارنر میں بچوں کے لیے دودھ اور واش روم کے علاوہ پیمپرز بھی رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔

بلوچستان کی پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی اس جیسے مزید 25 مراکز قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب تک کوئٹہ میں چھ مقامات پر ایسے کارنر قائم کیے جاچکےہیں۔

ان میں سیشن کورٹ، بلوچستان یونیورسٹی، کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کچہری، سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ اور سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی شامل ہیں۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے قیام سے نہ صرف بریسٹ فیڈنگ کی ترویج ہوگی بلکہ نوزائیدہ بچوں کی بیماریوں میں نمایاں کمی ہوگی۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے ویمن یونیورسٹی کے کارنر کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ کوئٹہ کے بعد بے بی فیڈنگ اینڈ نرسنگ کارنرز ڈویژن اور ضلعی سطح پرقائم کیے جائیں گے جس سے عوامی مقامات پر خواتین کو بریسٹ فیڈنگ کے ساتھ ساتھ ٹوائلٹ، نماز اور مختصر آرام کی سہولت حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے لیے اس سہولت کا آغاز بلوچستان سے کیا گیا ہے، جس کو وفاقی وزارت صحت نے بھی سراہا ہے اور وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے دیگر صوبوں میں بھی اس طرح کے بے بی فیڈنگ اینڈ نرسنگ کارنرز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسف بلوچستان کی سربراہ مس گیریڈا نے کہا کہ عوامی مقامات پر بے بی فیڈنگ کی سہولیات مہیا کرنا محکمہ صحت بلوچستان کی غیر معمولی پیش رفت ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں خاتون رکن ماہ جبین شیران کے اپنے بچے کو اسمبلی کے اندر لانے کے بعد انہیں مرد اراکین کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد انہوں نے نہ صرف ایک مہم شروع کی کہ ایسے مقامات جہاں شادی شدہ خواتین کام کرتی ہیں اور اپنے نوزائیدہ بچوں کو لاتی ہیں ان کے لیے ایک الگ جگہ کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔

ماہ جبین شیران کی اس جدوجہد کے بعد نہ صرف حکومت نے اس کو سنجیدگی سے لیا بلکہ اس پر عمل درآمد کا آغاز ہوا، جس کے تحت اب تک چھ بی بی فیڈنگ کارنرز قائم کیے جاچکےہیں۔

خاتون وکیل جمیلہ کاکڑ سمجھتی ہیں کہ ضلع کچہری میں ایسے مزید مراکز کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ جگہ صرف فیملی کورٹ میں آنے والی خواتین کے لیے فائدہ مند ہے، باقی خواتین کو اب بھی  مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ضلع کچہری میں فیملی کورٹ کے علاوہ جرائم اور بینکنگ سمیت دیگر عدالتیں بھی قائم ہیں، جہاں مختلف مقدمات کے حوالے سے خواتین پیش ہوتی ہیں، جن کے بیٹھنے یا انتظار کرنے کے لیے مخصوص اور پردے والی جگہ موجود نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’خصوصاً ان خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جن کے پاس شیر خوار بچے ہوتے ہیں، جن کو سنبھالنا بھی ان کے لیے ایک مشکل کام ہوتا ہے اور انہیں عدالت میں بھی پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘

جمیلہ کے مطابق: ’ضلع کچہری میں اس وقت مزید بی بی فیڈنگ کارنرز کی ضرورت ہے اور ہماری کوشش بھی ہے کہ یہ قائم ہوں تاکہ یہاں آنے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین