اسلامیہ کالج ہراسانی کیس پہلی ترجیح: قومی کمیشن برائے وقار نسواں

اسلامیہ کالج ہراسانی کیس میں تاخیر پر افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے کہا کہ ’ہر معاملے میں وزیراعظم خود چل کر نہیں جائیں گے، کچھ فیصلے اداروں کو خود بھی کرنے چاہییں۔‘

قومی کمیشن برائے وقار نسواں  کی نومنتخب سربراہ نیلوفر بختیار خیبر پختونخوا میں خواتین کی خود مختاری کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی مشاورتی اجلاس میں شریک ہیں (فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی نومنتخب سربراہ نیلوفر بختیار نے پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں سامنے آنے والے ہراسانی کیس میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں تو عملدرآمد کیوں نہیں کیا جارہا۔

نیلوفر بختیار نے خیبرپختونخوا کی خواتین کی خود مختاری ممکن بنانے اور ان کے مسائل جاننے کے لیے 28 ستمبر کو صوبے کے تین روزہ دورے کا آغاز کرتے ہوئے حکومتی و اپوزیشن نمائندوں، صحافیوں اور حقوق نسواں کے اداروں سمیت  کئی دیگر اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

خواتین کی خود مختاری کے موضوع پر منعقدہ ایک علیحدہ خصوصی مشاورتی اجلاس میں نیلوفر بختیار نے کہا کہ وہ باقی صوبوں میں بھی جانےکا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ ہر صوبے سےخواتین کے مسائل پر معلومات اکھٹی کی جائیں اور اگلے تین سالوں میں زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کیے جاسکیں۔

مشاورتی اجلاس میں خواتین کے لیے بنائے گئے قوانین، جیلوں میں خواتین کی حالت زار اور سرکاری جامعات میں خواتین اساتذہ و طالبات کو درپیش مسائل پر بھی سوالات وجوابات ہوئے۔

 انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار انیلاخالد نے نیلوفر بختیار کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی ہراسانی کیس کی تازہ صورت حال سے آگاہ کیا، جس میں گذشتہ سال ایک طالبہ نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پر ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔

 نیلوفر بختیار کو بتایا گیا کہ باوجود اس حقیقت کے کہ احتساب عدالت نے  پانچ ماہ قبل پروفیسر امیراللہ کوجنسی ہراسانی کی پاداش میں عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے، یونیورسٹی، سنڈیکیٹ اور چانسلر گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر سے کام لیا جارہا ہے۔

نامہ نگار نے معاملے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے دو ماہ بعد پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس کیس کو جلد ازجلد نمٹانے کے احکامات جاری کیے تھے، لیکن یونیورسٹی نے معاملہ سنڈیکیٹ اور چانسلر کی صوابدید پر چھوڑ دیا، جب کہ سنڈیکیٹ کی رواں ماہ ہونے والی ایک حالیہ میٹنگ میں ملزم کے خلاف کوئی فیصلہ صرف اس لیے نہیں لیا گیا کیونکہ ان کے مطابق یونیورسٹی کے چانسلر گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے احکامات آنے کا انتظار کیا جارہا ہے جو کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہیں۔

جس پر چیئرپرسن کمیشن برائے وقار نسواں نے افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں تو عملدرآمد کیوں نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے کہا: ’ہر معاملے میں وزیراعظم خود چل کر نہیں جائیں گے، کچھ فیصلے اداروں کو خود بھی کرنے چاہییں۔ اگر سنڈیکیٹ اتنا ہی کمزور ہے تو پھر ایسے سنڈیکیٹ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر محتسب عدالت نے پروفیسر کو قصوروار ٹھہرا دیا ہے تو انہیں فوراً برطرف کرنا چاہیے تھا تاکہ کل کوئی اور ایسی جرات نہ کرسکے۔‘

نیلوفر بختیار نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے اس معاملے سے بڑھ کر اہم کیا ہوگا کہ یونیورسٹی جیسی مقدس جگہ پر ایک طالبہ کو اپنے چیئرمین سے جنسی ہراسانی کی شکایت ہے اور اسے حل نہیں کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’اب میں سب سے پہلے اسلامیہ کالج یونیورسٹی جاؤں گی، میں گورنر سے بھی بات کروں گی اور خیبر پختونخوا ویمن پارلیمنٹری کاکس کی رکن خواتین سے بھی توقع کرتی ہوں کہ وہ اس کا حل فوری اور اولین ترجیح میں شامل کریں۔‘

اجلاس میں شامل خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں کی سربراہ رفعت سردار، ویمن پارلیمنٹری کاکس کی اراکین رکن صوبائی اسمبلی سمیرا شمس اور مدیحہ نثار نے بھی کہا کہ وہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی جنسی ہراسانی کیس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اس کو جلد ہی منطقی انجام تک پہنچائیں گی۔

صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں نیلوفر بختیار نے کہا کہ وسیع تر مفاد کی خاطر وہ مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور خواتین سے بھی ملاقاتیں کر رہی ہیں، تاکہ انہیں خواتین کے مسائل پر ایک پیج پر یکجا کرسکیں۔ ’میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی کو ویمن پارلیمنٹری کاکس میں شامل ہونے پر راضی کیا۔اگرچہ یہ آسان نہیں تھا، لیکن اسی طرح آہستہ آہستہ برف پگھلے گی اور خواتین کے معاملے میں مزید سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر لانے کے لیے ہم کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ قومی کمیشن برائے وقار نسواں ایک جینڈر پورٹل کا آغاز کر رہا ہے، جس میں تمام صوبوں سے متعلق خواتین کے تمام مسائل کے بارے ڈیٹا مہیا کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، ملک بھر سے 40 صحافیوں کو جینڈر ایشوز پر 15 دن کی خصوصی تربیت دی جائے گی، جو پھر آگے دوسرے صحافیوں کی تربیت کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین