امریکی فوج کے خصوصی یونٹ پر ’ننجا کا حملہ‘

لاس اینجلس کے شمال میں واقع ایک صحرا میں آدھی رات کو ’ننجا‘ کا لباس پہنے ہوئے ایک شخص نے فوج کے سپیشل آپریشن یونٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔

سارجنٹ اور وہاں موجود ایک کپتان نے تمام دروازے بند کر دیے اور 911 پر کال کی کیونکہ ننجا کا لباس پہنے حملہ آور دروازوں اور کھڑکیوں کو لاتیں مار رہا تھا(فائل فوٹو: اےیف پی )

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے شمال میں واقع ایک صحرا میں آدھی رات کو ’ننجا‘ کا لباس پہنے ہوئے ایک شخص نے امریکی فوج کے سپیشل آپریشن یونٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوگئے۔

ریجکریسٹ میں سکیورٹی اہلکاروں کو 18 ستمبر کی نصف شب ایک بجے کے بعد آگاہ کیا گیا کہ ایک شخص، جو ننجا کا لباس پہنے ہوئے تھا، کیرن کاؤنٹی کے انیوکرن ہوائی اڈے پر تلوار سے حملہ کر رہا تھا۔

کیرن کاؤنٹی کے شیرف کے دفتر نے جمعے کو جاری ایک بیان میں کہا: ’ملزم نے ایک شخص کو جائے وقوعہ پر تلوار سے حملہ کرکے زخمی کر دیا تھا اور ایئرپورٹ کے ہینگر کی کھڑکی سے ایک دوسرے شخص کے سر پر پتھر مار کر اسے بھی زخمی کر دیا۔

امریکی فوجی اخبار ’سٹار اینڈ سٹریپس‘ کی رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے دونوں افراد 160 ویں سپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ (SOAR) کے رکن ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس رجمنٹ کے فوجی ایئرپورٹ پر مشق کر رہے تھے۔

انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی اس واقعے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سٹاف سارجنٹ ہوائی اڈے پر ایک ہینگر کے قریب سگریٹ پی رہا تھا، جب ننجا کے مکمل لباس پہنے ہوئے ایک شخص کا ان سے سامنا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس شخص نے سارجنٹ سے پوچھا: ’کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟‘

سارجنٹ نے انہیں بتایا کہ وہ اسے نہیں جانتا۔

’کیا آپ جانتے ہیں کہ میرا خاندان کہاں ہے؟ اس شخص نے دوبارہ پوچھا۔ سارجنٹ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتا۔

اس وقت ننجا کے لباس میں موجود شخص نے سارجنٹ پر کاٹ دار تلوار سے حملہ کرتے ہوئے ان کے فون، گھٹنے اور ٹانگ کو نشانہ بنایا۔

سارجنٹ نے بھاگ کر باڑ کے اوپر سے چھلانگ لگا دی اور آخر کار ایک عمارت میں پہنچ گیا، جہاں دوسرے سروس ممبرز موجود تھے۔

سارجنٹ اور وہاں موجود ایک کپتان نے تمام دروازے بند کر دیے اور 911 پر کال کی کیونکہ ننجا کا لباس پہنے حملہ آور دروازوں اور کھڑکیوں کو لاتیں مار رہا تھا۔

ریجکریسٹ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ننجا کے لباس میں حملہ آور شخص کے بارے میں پہلی رپورٹ رات ایک بج کر 19 منٹ پر موصول ہوئی اور یہ کہ حملے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا تھا۔

ایک اور کال رات ایک بج کر43 منٹ پر آئی، جس میں بتایا گیا کہ 26 ویں سپیشل آپریشنز کے فوجی ارکان پر ہینگر میں حملہ کیا گیا ہے اور وہ پریشان ہیں کہ مدد ابھی تک کیوں نہیں پہنچی۔

پولیس نے ننجا کے لباس میں ملبوس شخص کو ہینگر کے قریب سڑک پر موجود پایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیرف کے دفتر نے کہا کہ اس نے پولیس کے احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا اور اہلکاروں کی جانب تلوار لہرانا شروع کر دی۔

اہلکاروں کے زیر استعمال پروجیکٹائل راؤنڈز (گولیاں) ’غیر موثر‘ ثابت ہوئے اور ملزم بھاگ کھڑا ہوا، لیکن اس کے بعد اہلکاروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جس کی وجہ سے اس نے تلوار پھینک دی اور افسران نے اسے حراست میں لے لیا۔ اس شخص کی شناخت 35 سالہ گینو رویرا کے طور پر ہوئی ہے۔

شیرف دفتر نے مزید کہا کہ ملزم کو ’قتل کی کوشش، مہلک ہتھیار سے حملے، ہتھیار لہرانے، گرفتاری کے خلاف مزاحمت یا گرفتاری سے بچنے کی کوشش نیز توڑ پھوڑ اور افسران کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

واقعے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سارجنٹ اور کپتان دونوں کے زخموں کو ٹانکے لگے لیکن وہ کام پر واپس آنے کے قابل تھے۔

امریکی فوج کے 160 ویں سپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ کا مشن ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نیوی سیل ٹیمز اور دیگر افراد کو منتقل کرنا ہے۔

وہ رات کو ٹریننگ کرتے ہیں کیونکہ ان کے بہت سے مشن اندھیرے میں انجام دیے جاتے ہیں۔ لاس اینجلس  کے شمال میں مشق کرنے والے فوجی ارکان رجمنٹ کی دوسری بٹالین کا حصہ تھے جو کینٹکی کے فورٹ کیمبل میں تعینات ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ