کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول اب بھی امریکی فوج کے پاس ہی ہے: جان کربی

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا کنٹرول اب بھی امریکی فوجیوں کے پاس ہی ہے اور طالبان کے کنٹرول کے حوالے سے تمام تر خبریں جھوٹی ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول امریکی فوج کے پاس ہی ہے (اے ایف پی)

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا کنٹرول اب بھی امریکی فوجیوں کے پاس ہی ہے اور طالبان کے کنٹرول کے حوالے سے تمام تر خبریں جھوٹی ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے اب سے کچھ دیر قبل ایک پریس کانفرس نے دوران صحافیوں کے سوال کے جواب میں ایسی کسی بھی قسم کی خبروں کی تردید کی ہے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ ’حامد کرزئی ایئرپورٹ طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے، ایسی تمام خبریں غلط ہیں۔‘

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے کسی بھی گیٹ کا کنٹرول نہیں سنبھالا، تمام تر آپریشن اب بھی امریکی فوجیوں کے کنٹورل میں ہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر ایسی خبریں اچانک سے گردش کرنے لگیں کے طالبان نے کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اس حوالے سے بعض ٹوئٹر اکاؤنٹس سے تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن ساتھ لکھا گیا تھا کہ ’طالبان کابل ایئرپورٹ میں داخل ہو گئے ہیں۔


31 اگست کے بعد لوگوں کو نکالنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیں گے: برطانیہ

برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کا آپریشن ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جس کے بعد اب ’کچھ گھنٹوں‘ میں یہ آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

تاہم برطانوی وزیر دفاع بین ویلس کا کہنا تھا کہ وہ 31 اگست کے بعد لوگوں کو نکالنے کے لیے ’زمین و آسمان ایک کر دیں گے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین ویلس نے سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم ان لوگوں کو ابھی نکالیں گے جنہیں ہم اپنے ساتھ لائے ہیں، یعنی ایئرفیلڈ میں موجود تقریباً ایک ہزار افراد۔‘

’ہم ہجوم میں چند لوگوں کو تلاش کرنے کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں، جہاں تک ہم کر سکے، مگر مجموعی طور پر پراسیسنگ ختم ہو چکی ہے اور اب چند گھنٹوں کی بات ہے۔‘

اس آپریشن کے اختتام پر افغانستان میں ہی رہ جانے والے افراد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں نکالنے کے لیے دوسرے مرحلے میں زمین اور آسمان ایک کر دیں گے۔‘

بین ویلس کے مطابق انخلا کے برطانوی آپریشن کے تحت اب تک تقریباً 14 ہزار برطانوی اور افغان شہریوں کو نکالا گیا ہے، لیکن ’ہمیں افسوس ہے کہ ہر ایک کو نہیں لے جایا کا سکے گا۔‘


برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جمعرات کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے 85 افراد میں دو برطانوی شہری اور ایک برطانوی شہری کا بچہ بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق راب نے ایک بیان میں کہا: ’مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ دو برطانوی شہری اور ایک برطانوی شہری کا بچہ کل کے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہوئے جبکہ مزید دو افراد زخمی ہوئے۔‘

انہوں نے بتایا: ’یہ بے گناہ لوگ تھے اور یہ ایک المیہ ہے کہ جب وہ اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے برطانیہ لانے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں بزدل دہشت گردوں نے قتل کر دیا۔‘

گذشتہ روز کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت سیکڑوں افغان ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

ڈومینک راب نے کہا: ’کل کا قابل نفرت حملہ افغانستان میں ان لوگوں کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ہم لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ ہم ان کے خاندانوں کو قونصلر سپورٹ پیش کر رہے ہیں۔‘


سفارتخانے کےافغان عملے کو پیچھے چھوڑنے پر برطانوی سیاستدان برہم

 اطلاعات کے مطابق برطانوی سیاست دانوں نے جمعے کو اس وقت برطانوی سفارت کاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب انہیں بتایا گیا کہ برطانوی سفارتی عملے نے انخلا کے دوران سفارت خانے میں کام کرنے والے افراد کی تفصیلات کابل ہی میں چھوڑ دی ہیں۔ برطانوی سفارت خانے کا یہ کمپاؤنڈ اب افغان طالبان کی تحویل میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اطلاعات برطانیہ کے اس اعتراف کے بعد سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ برطانوی عملے نے جلدی میں کیے جانے والے انخلا کی وجہ سے سینکڑوں اہل افراد کو افغانستان میں ہی چھوڑ دیا ہے۔

دی ٹائمز میں چھپنے والی خبر میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کابل میں موجود برطانوی سفارت خانے کے کئی ملازمین ابھی تک افغانستان میں ہیں جو وہاں سے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اخبار نے ان افراد کی تفصیل برطانوی وزارت خارجہ کو فراہم کر دی ہیں تاکہ انہیں وہاں سے نکالا جا سکے۔

برطانوی وزیر دفاع بین ویلیس نے ایل بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اس بارے میں دی ٹائمز میں چھپنے والی خبر سے معلوم ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اچھا نہیں ہے۔ میرے خیال میں وزیر اعظم اس حوالے سے سوال کریں گے۔‘

بین ویلیس کے مطابق تقریباً 800 سے 1100 تک اہل افراد کو برطانیہ کی ایئر لفٹ سکیم کے وقت کے ختم ہونے کے قریب ہونے کے باوجود افغانستان سے نکالا نہیں جا سکا۔


داعش افغانستان میں مزید حملے کرسکتی ہے: امریکہ محکمہ دفاع

امریکی محکمہ دفاع نے جمعرات کو خدشہ ظاہر کیا ہے کہ داعش افغانستان میں مزید حملے کر سکتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ فرینک میک کینزی نے پینٹاگان کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ داعش کے ایک گروپ نے کابل ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے پاس کوئی معلومات نہیں کہ طالبان نے کابل ایئر پورٹ پر حملے کی اجازت دی تھی۔’

جنرل میک کینزی نے اس حملے کے لیے طالبان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا لیکن ان کا کہنا تھا انہیں ایئرپورٹ کے اطراف سکیورٹی سخت کرنا ہوگی کیونکہ اس وقت ہزاروں افغان شہری ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ نے طالبان کو ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات سے آگاہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش افغانستان میں اپنے مشن سے امریکہ کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتی۔ ’ہمارے پاس کابل ایئر پورٹ کی حفاظت کے لیے کافی فورس موجود ہے۔‘


کابل حملے میں ہمارے کم از کم 28 ساتھی ہلاک ہوئے: افغان طالبان

افغان طالبان نے کہا ہے کہ جمعرات کو کابل میں ہوائی اڈے کے باہر ہونے والے دو بم دھماکوں میں ان کے کم از کم 28 ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق طالبان کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 72 افغان شہری ہلاک ہوئے۔

انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’امریکیوں سے زیادہ ہمارے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ملک سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن بڑھانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔


داعش کو کابل ایئرپورٹ حملے کی قیمت چکانی ہوگی: صدر بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ جمعرات کی رات کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں کے ذمہ داروں سے بدلہ لیا جائے گا اور انہوں نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر بائیڈن نے دھماکوں کے کچھ دیر بعد وائٹ ہاؤس میں ایک خطاب کے دوران کہا: ’ہم معاف نہیں کریں گے، ہم بھولیں گے نہیں۔ ہم آپ کا شکار کریں گے اور آپ کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔‘

دہشت گرد تنظیم داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس کے بارے میں صدر بائیڈن پہلے کہہ چکے ہیں کہ امریکی انخلا آپریشن کو اس سے خطرہ ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے فوجی قیادت کو حکم جاری کیے ہیں کہ داعش خراسان کے اثاثوں پر جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کریں۔

 

صدر کے بقول: ’ہم ان تک پہنچنے کے لیے اپنی مرضی کے راستے ڈھونڈیں گے بغیر بڑے فوجی آپرین کیے۔‘

خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن کی آواز اور انداز جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے دھماکوں میں مارے جانے والے امریکیوں کو ’ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس اور ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر امریکی پرچم سر نگوں رکھنے کا حکم دیا۔ ’یہ بہت مشکل دن رہا ہے۔‘

صدر نے وعدہ کیا کہ حملے کے باوجود افغانستان سے انخلا جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا: ’ہم دہشت گردوں سے نہیں ڈریں گے، ہم انہیں ہمارا مشن نہیں روکنے دیں گے۔ ہم انخلا جاری رکھیں گے۔‘


2011 کے بعد سے مہلک ترین دن: رپورٹ

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغان حکام نے بتایا کہ حملے میں 60 کے قریب افغان شہری مارے گئے جبکہ 150 کے قریب زخمی ہیں۔

کابل ایئرپورٹ پر گذشتہ رات ہونے والے دھماکے افغانستان میں امریکی فوج کے لیے 2011 سے لے کر اب تک کے مہلک ترین تھے۔

اے ایف پی کے مطابق داعش خراسان کے خودکش حملہ آوروں نے ایئرپورٹ کے ایک اہم داخلی دروازے اور ملک سے نکالے جانے والے افراد کے زیراستعمال ایک ہوٹل پر حملہ کیا۔

امریکی محکمہ دفاع نے مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 13 بتائی۔

اس سے قبل 12 امریکی ہلاکتیں بتائی جا رہی تھیں تاہم ایک اور فوجی زخموں کی تاب نہ لا سکا اور یوں تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میرین کور کے ترجمان میجر جم سٹینگر نے ایک بیان میں کہا کہ کئی زخمیوں اور مارے جانے والوں میں سے 10 کا تعلق یو ایس مرینز سے تھا۔

افغانستان میں 20 سالہ امریکی جنگ میں اب تک 1909 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل سب سے مہلک دن چھ اگست، 2011 تھا جب شدت پسندوں نے واردک صوبے میں رات کے مشن کے دوران ایک چنوک ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔

اس حملے میں 30 امریکی فوجی، بشمول 22 نیوی سیلز، آٹھ افغان اور ایک امریکی فوجی کتا ہلاک ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا