پشتون تحفظ موومنٹ: بلڈی سنڈے اور گڈ فرائیڈے

اگر گولی سے کسی سیاسی تحریک کو ختم کیا جا سکتا توحکومت برطانیہ کو بیل فاسٹ کا گڈ فرائیڈے معاہدہ نہ کرنا پڑتا۔

شمالی وزیرستان کے صدر  مقام میران شاہ میں ایک چوکی پر تعینات فوجی جوان (اے ایف پی)

گذشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک اجتماع کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان سامنے آیا۔

بتایا گیا کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کی سربراہی میں مشتعل ہجوم نے دہشت گرد کے سہولت کار کی رہائی کے لیے ’فوج کی ایک چیک پوسٹ پر دھاوا بول دیا۔‘ تاہم فائرنگ کے تبادلے میں پانچ فوجی اہلکار زخمی جبکہ ہجوم میں سے تین افراد ہلاک ہوئے۔

یہ خبر پاکستان فوج کے لیے حوصلہ افزا ہے نہ پی ٹی ایم کے لیے، اور نہ ہی پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا فیصلہ بعد میں کیجیے گا، پہلے ذرا شمالی آئرلینڈ چلتے ہیں۔

انیس سو سولہ میں آئرش قوم نے حکومت برطانیہ کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1922 میں جمہوریہ آئرلینڈ برٹش حکومت سے الگ ہوکر آزاد ریاست بن گیا۔ اس سے بالکل جڑا ہوا شمالی آئرلینڈ کا علاقہ ہے جہاں کے لوگوں نے تاہم برطانیہ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

شمالی آئرلینڈ کا یہ معاملہ حکومت برطانیہ کے لیے اتنا سیدھا بھی نہیں۔ آئرلینڈ کی ریاست بننے کے کچھ عشروں بعد 1960 میں اس علاقے کے عوام کے حقوق کی پامالی کے بعد آئینی حیثیت کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔

یونینسٹ اکثریت میں تھے جو حکومت برطانیہ کے ساتھ رہنا چاہتے تھے اور اب بھی ہیں۔ دوسری جانب آئرش ری پبلکن تھے جو اقلیت میں تھے مگر حکومت برطانیہ سے آزادی اور جمہوریہ آئرلینڈ سے الحاق اور اپنی آئرش شناخت چاہتے تھے۔

ری پبلکن نے اپنے حقوق کے لیے ایک ریلی نکالی جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ اس واقعے میں کئی ہلاکتیں ہوئیں اور ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اُس دور کو ’دی ٹربلز‘ یعنی پریشانیوں کا دور کہتے ہیں۔

اس چھوٹے پیمانے کی جنگ میں حکومت برطانیہ نے اپنے ہی شہریوں پر برطانوی فوج تعینات کردی تھی۔ فوج کے بیچ میں آنے سے معاملہ سیاسی سے عسکری بن گیا۔ فسادات کی آگ صرف شمالی آئرلینڈ تک نہ رہی اور پھیلتے پھیلتے برطانیہ کے دیگر علاقوں یہاں تک کہ لندن بھی پہنچی۔

حالات اس نہج پر بھی پہنچے کہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ یعنی برطانوی وزیراعظم کی رہائش پر بھی مارٹر گولے فائر ہوئے۔ اس خانہ جنگی میں برطانوی فوجیوں سمیت 3600 سے زائد افراد مارے گئے، ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے، کئی سو افراد آج بھی لاپتہ قرار ہیں۔

ان آئرش قومیت پسندوں پر الزام لگتا رہا کہ انہیں امریکہ اور لیبیا سے اسلحے کی سپورٹ دی گئی۔ آئرش لوگ جہاں کہیں برطانوی فوجی نظر آتا مشتعل ہوجاتے۔ جو غیر مسلح تھے وہ صرف نعرے بازی کرتے۔

برطانوی فوج نے بغیر ٹرائل کے قید میں رکھنے کا سلسلہ شروع کیا تو ہزاروں افراد نے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 1972 میں ہونے والے اس مظاہرے پر برطانوی فوج نے فائر کھول دیے جس سے 14 مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ اسے ’بلڈی سن ڈے‘ کہتے ہیں۔

اگرچہ 2010 میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے آئرش عوام سے ’بلڈی سنڈے ‘کے قتل عام پر معافی مانگتے ہوئے اسے ناحق قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئرلینڈ کی اس جنگ کا اختتام نہ تو برطانوی فوج کرسکی نہ ہی مسلح قومیت پسند یہ معرکہ جیت سکے۔ 1998 میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے کئی حکومتی ارکان کو اس مسئلے کے سیاسی حل کے لیے شمالی آئرلینڈ کے مرکز بیل فاسٹ بھیجا، جہاں تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ رضامندی سے ایک معاہدہ ’گڈ فرائیڈے‘ طے پایا۔

اس معاہدے میں آئینی ترامیم، حقوق و وسائل کا استعمال، اقتدار اور قوانین کے مسائل سے نمٹا گیا۔ گڈ فرائیڈے کے معاہدے کو صرف سیاست دانوں نے عجلت میں فائنل نہ کیا بلکہ ایسی خانہ جنگی کے حالات میں بھی ریفرنڈم کے ذریعے نافذ العمل ہوا۔

اب یہ عالم ہے کہ شمالی آئرلینڈ برطانیہ کا حصہ ہے جسے کچھ برطانوی صوبہ بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ اس کی اپنی خودمختار اسمبلی ہے مگر یہاں آج بھی ’گاڈ سیو دی کوئین‘ کا ترانا گایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس علاقے میں اب بھی کبھی کبھی بدامنی انگڑائی لیتی ہے مگر آگ و خون کا دور سیاسی تدبیر سے ختم ہوچکا ہے۔

قارئین کو شمالی آئرلینڈ کا قصہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پشتون تحفظ موومنٹ کو سمجھ سکیں۔ منظور پشتین کی باتوں کو ہوا میں اڑانے کے بجائے انہیں سُنیں، محسن داوڑ اور علی وزیر کو پاکستانیوں کا ہی ووٹ ملا ہے۔

ان کے مطالبات کو کم از کم سنیں تو سہی، کسی سیاسی عمل میں تو لائیں۔ اگر لگتا ہے کہ پشتین، داوڑ اور ان کا گروپ ریاست پاکستان سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں تو آئین موجود ہے، آئین کے رکھوالے موجود ہیں، ان افراد کا محاسبہ قانون کی عدالت میں کیا جائے اور قانون کے مطابق غداری کی کڑی سزا دی جائے۔

اگر گولی سے کسی سیاسی تحریک کو ختم کیا جا سکتا تو حکومت برطانیہ کو بیل فاسٹ کا گڈ فرائیڈے معاہدہ نہ کرنا پڑتا۔

پاکستان کو جن بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے اس کا فائدہ دشمن اٹھا رہا ہے۔ عالمی ایجنسیاں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے پی ٹی ایم کے بیانئے کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں، پاکستان فوج کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

اللہ اللہ کرکے ہمارے فوجی جوانوں کی قربانیوں سے جہاں امن واپس آیا ہے، ہمارے دشمن ان قبائلی علاقوں میں بدامنی کی آگ پھر لگانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے پختون جوانوں کو بھڑکایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پرسقوط ڈھاکہ کے قصے دہرائے جارہے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ کون ہمیں اس لڑائی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

سیلاب آئے تو فوج، مردم شماری ہو تو فوج، پولیو کے قطرے پلائے جائیں تو فوج، محرم کا جلوس نکلے تو فوج، بھارت تڑی لگائے تو فوج، دہشت گرد سامنے آئے تو فوج۔

ہماری بہادر افواج پہلے ہی چومکھی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ انہیں مزید کسی مہم جوئی میں الجھانا سراسر زیادتی ہوگی۔ یہی وقت ہے کہ پی ٹی ایم، ہمارے عالی دماغ سیاست دان اور فوج کے بڑے مل بیٹھیں، بات کریں، کوئی معاہدہ کریں، سیاسی حل ڈھونڈیں اور ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر