ایئرپورٹ پرکوئی استقبال کو نہ آیا:مکس مارشل آرٹس کھلاڑی

کرغزستان میں منعقدہ ایشین چیمپیئن شپ میں گذشتہ ماہ پاکستان کے لیے سلور میڈل حاصل کرنے والے لیاقت علی نے بتایا کہ جب وہ کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں حیرت ہوئی کہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

’کراچی سے فلائٹ کا وقت تبدیل ہوا اور میں کچھ وقت پہلے کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچ گیا، لیکن یہاں پہنچ کر مجھےحیرت ہوئی کہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔‘

’میں نے سوچا کہ شاید فلائٹ کے وقت میں تبدیلی  کے باعث ساتھی اور دیگر لوگ نہیں آئے، اس لیے میں وہاں بیٹھ گیا کہ کوئی استقبال کے لیے آئے گا۔ میں نے دن 12 بجے تک انتظار کیا لیکن استقبال کے لیے صرف میرے استاد اور بھائیوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں آیا۔‘

یہ کہنا تھا کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مکس مارشل آرٹ کے عالمی کھلاڑی لیاقت علی کا، جنہوں نے گذشتہ ماہ ایشین چیمپیئن شپ میں پاکستان کے لیے سلورمیڈل حاصل کیا۔ پاکستان نے اس مقابلے میں پہلی دفعہ شرکت کی تھی۔

لیاقت علی نے بتایا کہ گذشتہ ماہ ایشین مکس مارشل آرٹ کے مقابلے کرغزستان میں ہوئے، جن میں پاکستان سمیت 26 ممالک کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔

لیاقت کے مطابق اس کھیل کے دوران آپ کہنی، پنچ، کک اور دوسری تمام تکنیک استعمال کرسکتے ہیں، اس میں پوائنٹ نہیں ہوتے بلکہ حریف کھلاڑی کو ہرانا ہوتا ہے۔ اس کھیل کے دوران مخالف کو چوک لگانا، لاک لگانا یا گرپ کرنا ہوتا ہے، جو سب سے اہم گُر ہے۔ اس طرح اگر آپ نے مخالف کھلاڑی کو گرپ کرلیا تو آپ کا حریف جلد شکست کھاجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ باکسنگ اور کراٹے سے مختلف کھیل ہے، اس لیے اس میں مکمل گلوز (دستانے) نہیں بلکہ ہاف گلوز استعمال ہوتے ہیں۔ اس کھیل کے دوران اگر آپ  نےمخالف کھلاڑی کو گرالیا تو اس پر بیٹھ کرآپ مختلف زاویوں سے حملے کرسکتے ہیں نیز اس میں کھیل کا دورانیہ پانچ منٹ ہوتا ہے، جس کے پانچ راؤںڈز ہوتے ہیں۔

لیاقت علی مکس مارشل آرٹ کا کھیل 2011 سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے لیے کئی اعزاز حاصل کیے ہیں بلکہ ترکی میں بھی ایک مقابلہ جیت چکے ہیں۔

لیاقت نے بتایا کہ اس کھیل کے دوران آپ کو کچھ وقت پہلے آپ کے مدمقابل کھلاڑی کے حوالے سے بتادیا جاتا ہے تاکہ آپ اس کے کھیل سے واقفیت حاصل کرسکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیتنے والے مقابلے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ مقابلہ اور فریق دونوں سخت تھے۔ ’جب ہماری فائٹ سے قبل ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے دیکھ میرے بائسپس کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ان کےساتھ تم میرا مقابلہ کرو گے۔ اس نے نہ صرف طنز کیا بلکہ وہ ہنس بھی رہا تھا۔ جب فائٹ شروع ہوئی تو میرے ساتھ قوم، استادوں اور والدین کی دعائیں تھیں، جس کے باعث میں نے اسے صرف 15 سیکنڈز میں ناک ڈاؤن کردیا۔‘

اس مقابلے میں انہوں نے سلور میڈل حاصل کیا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس کھیل کے دوران ہاتھ، پیر اور آنکھ وغیرہ کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے لیکن کھلاڑی کو اس دوران حادثات کی پرواہ نہیں ہوتی۔

لیاقت نے بتایا کہ ’اس کھیل کے لیے کافی زیادہ سہولیات اور سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے اہم چیز میٹ کا ہونا لازمی ہے جو اس لیے ضروری ہے تاکہ کوئی کھلاڑی کھیلتے ہوئے گرکر زخمی نہ ہوجائے۔ دوسرا اس کھیل کے لیے آپ کو شن پیڈز، ہینڈ پیڈز، گلوز اورہیڈ گارڈ، گم شیٹ وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ سمجھ لیں کہ جتنا زیادہ سامان ہوگا اتنا اچھا کھلاڑی بن سکتا ہے۔‘

لیاقت کہتے ہیں کہ انہیں سپانسر ملتے ہیں نہ حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے بلکہ وہ مقابلوں کے لیے اکثر اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ اس بار ایشین چیمپیئن شپ کے مقابلے کے لیے فیڈریشن کی طرف سے کچھ مدد کی گئی۔ ’اب اس سال کے آخر میں عالمی مقابلے ہونے جارہے ہیں، جس کے لیے میں تیاری کررہا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان