’پہلی سی محبت‘ کا اداس انجام

فلموں اور فیشن ریمپ پر گلیمر کے جلوے بکھیرنے والی مایا نے ڈرامے کے کردار کے مطابق ایک عام سی سادہ لڑکی کا کردار بہت اچھے انداز میں نبھایا۔

پورے ڈرامے کے دوران اسلم اور رخشی کی محبت آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے (اے آر وائی ڈیجیٹل)

محبت میں کامیابی خوش قسمت افراد ہی کو ملتی ہے، کہتے ہیں کہ انسان اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتا، مگر کتنے ہوں گے جنہیں دیدارِ یار کے بعد وصل نصیب ہوا ہو۔

ایسا ہی کچھ اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے ’پہلی سی محبت‘ میں ہوا، جس کا اختتام جدائی کا درد لیے، وقت کی دھول میں لپٹے، بےچین جذبات کے کروٹیں، اور پھر انہیں تھپکی دے کر سلانے پر ہوا۔

سنیچر کی شب فلم ’پرے ہٹ لو‘ کی مشہور جوڑی یعنی مایا علی اور شہریار منور کے پہلے ڈراما سیریل ’پہلی سی محبت‘ کا 37 قسطوں کے بعد ہونے والا اختتام اگرچہ غیر متوقع نہیں تھا، تاہم المیے یا جدائی پر مبنی ڈراموں کی طرح اپنا تاسف بھرا تاثر چھوڑ کر گیا۔

رشتوں کے بھنور میں پھنسے کرداروں گرد چکر کاٹتی اس کہانی نے ابتدا میں تو ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کی، کیونکہ اس ڈرامے کی کی کاسٹ بھی کافی نامور تھی اور یہ اے آر وائی ڈیجیٹل کی بڑی پیشکش تھی۔ اختتام کی جانب بڑھنے کے بعد ڈرامے نے پھر کچھ رفتار پکڑی جس سے دلچسپی واپس لوٹ آئی۔

میری رائے میں یہ ڈراما کچھ غیر ضروری طوالت کا شکار ہوا، اس دوران کہانی بھی مسلسل جمود کا شکار رہی، اس وجہ سے اسے وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کی توقع تھی۔

ابتدا میں اس کی بھرپور تشہیر کی گئی تھی، کہ دونوں مرکزی  کردار یعنی مایا علی پانچ سال بعد اور شہریارمنور تقریبا سات سال بعد ٹیلیویژن سکرین پر واپس آئے تھے۔ مگر جب کہانی کچھ اقساط میں ایک جگہ ٹھہری رہے تو ناظرین چینل بدل ہی لیتے ہیں۔

’پہلی سی محبت‘ متوسط طبقے کی جانب سے سفید پوشی کا بھرم رکھنے، آپس کے رشتوں میں انا اور اس کے افراد کو معاشرے کی روایات میں جکڑے دکھایا گیا۔

اس ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں مگر ان سے جڑے ہر کردار کی اپنی الگ  داستان ہے جو کہانی کے تانے بانے الجھاتی رہتی ہے۔

مختلف یہ رہا کہ کراچی، لاہور یا اسلام آباد کی بجائے یہ کہانی حیدرآباد کے ایک محلے کی کہانی ہے جس میں میں رہنے والی رخشندہ عرف رخشی (مایا علی) اور اس کے ہمسائے اسلم (شہریار منور) کے درمیان پیار سے شروع ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ دونوں اپنے گھر والوں کو بتانا چاہتے ہیں مگر اس دوران رخشی کا باپ فیض اللہ (شبیر جان) ایک طوائف کو بیاہ کر گھر لے آتا ہے۔ یہ عمل محلے والوں خاص طور پر اسلم کے بڑے بھائی اکرم (حسن شہریار یاسین) کے لیے ناقابل قبول ہوتا ہے، جو مذہبی اور تنگ نظر ہے۔

پھر یہ مخالفت نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے یہاں تک کہ فیض اللہ کو دوسرے محلے میں جا کر آباد ہونا پڑتا ہے او رخشی اور اسلم میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

پورے ڈرامے کے دوران اسلم اور رخشی کی محبت آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے۔ پہلے رخشی کے باپ کی شادی کی وجہ سے، کبھی رخشی اسلم کے ساتھ فرار کا منصوبہ عین وقت پر بدل دیتی ہے، پھر کبھی اسلم کے ماموں کی طبیعت خراب ہونے کے باعث۔

اس آنکھ مچولی کا انجام ان دونوں کے لیے اچھا نہیں نکلا، یہ جدا ہو گئے، سالوں بعد ملے مگر پھر بھی مل نہ سکے۔

دوبارہ ملنے پر انہیں احساس ہوا کہ اب ان کے درمیان ’پہلی سی محبت‘ رہی نہیں، اور یہ دونوں اب حالات سے سمجھوتا کر چکے ہیں۔

اس ڈرامے میں مایا علی کا کردار پاکستانی ڈرامے کی روایتی لڑکی کا ہے جو مجبور ہے اور زیادہ تر روتی ہی رہتی ہے، اور ایسا کردار وہ پہلے بھی کئی ڈراموں میں کر چکی ہیں، مگر اس ڈرامے میں انہوں نے یہ کردار بہت پختگی سے ادا کیا ہے۔

کئی مناظر ایسے تھے جن میں ان کے تاثرات نے ہی مکالموں کا کام کر دیا۔ فلموں اور فیشن ریمپ پر جلوے بکھیرنے والی مایا نے ڈرامے کے کردار کے مطابق ایک عام سی سادہ لڑکی کا کردار بہت اچھے انداز میں نبھایا۔

اس سیریل میں رخشی کی سوتیلی ماں نرگس کا کردار ادا کرنے والی رابعہ بٹ کا ذکر ضروری ہے جنہوں نے ایک طوائف سے لے کر وفا شعار بیوی اور محبت کرنے والی ماں تک ہر لمحہ اپنے کردار سے انصاف کیا۔

دوسری جانب شہریار منور نے کالج کے ایک کم عمر لڑکے سے لے کر 30، 32 برس کے ایک مرد کا گیٹ اپ اچھا کیا۔

حسن شہریا یاسین (ایچ ایس وائی) جو ایک معروف فیشن ڈیزائنر ہیں، پہلی بار اداکاری کر رہے تھے، ابتدا میں وہ ذرا مشکل میں نظر آئے مگر پھر اپنے کردار میں ڈھلتے گئے۔

’پہلی سی محبت‘ کی کہانی معروف مصنفہ فائزہ افتخار نے تحریر کی ہے، اور اس کی ہدایات انجم شہزاد نے دی ہیں، جو ’ماہ میر‘ جیسی ایوارڈ یافتہ فلم بنا چکے ہیں۔

اس ڈرامے کا ساؤنڈ ٹریک عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر نے گایا ہے جس سے ڈرامے نے مقبولیت حاصل کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی