راولپنڈی کا سرکاری زرعی مرکز جہاں بھنگ کاشت کی جا رہی ہے

زرعی تحقیقاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد محمود نے کہا کہ بھنگ پالیسی کی تیاری اور ان کے تجربے کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں عام کسانوں کو بھنگ کاشت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھنگ، جسے بر صغیر میں ملنگی بوٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، گذشتہ کئی صدیوں سے نشے کے غرض سے استعمال ہونے والی چیز تصور کی جاتی ہے۔

بھنگ دراصل ایک پودے کا نام ہے جو اکثر اوقات خودرو بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کے اکثر علاقوں میں برسات کے موسم میں بھنگ کے پودے جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔

لیکن بھنگ صرف نشے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس کے سینکڑوں دوسرے استعمال بھی ہیں جن میں سب سے اہم اس کا دواؤں کی تیاری میں استعمال ہونا ہے۔

بھنگ کا تیل مادہ پودے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ درد دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے خصوصاً کینسر کے مریضوں کو افاقہ پہنچاتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں بھنگ کی کاشت کی اجازت دی ہے لیکن فی الحال ملنگی بوٹی صرف تجرباتی طور پر راولپنڈی میں ایک زرعی تحقیقاتی مرکز میں اگائی گئی ہے۔

اس زرعی تحقیقاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق پاکستان بھی بھنگ کا تیل درآمد کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی منڈی میں اس کی سالانہ تین کھرب امریکی ڈالر کی کھپت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ زمین پر کاشت کیے گئے بھنگ کے پودوں سے 10 لیٹر تیل حاصل ہوتا ہے جس کی فی لیٹر قیمت 10 ہزار امریکی ڈالر ہے۔

راولپنڈی میں جی ٹی روڈ سے ہٹ کر واقع زرعی تحقیقاتی مرکز میں ایک ایکڑ زمین پر گرین ہاؤس لگایا گیا ہے جس میں بھنگ کے چھوٹے بڑے پودے قطاروں کی شکل میں نہایت ترتیب سے گملوں میں لگائے گئے ہیں۔

ان پودوں کو ڈرپ اریگیشن کے ذریعے پانی دیا جاتا ہے۔

گرین ہاؤس میں بڑے بڑے ایگزاسٹ فین لگا کر وہاں ہوا کے بہاو کا انتظام کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زرعی شعبے کے ماہرین ان پودوں کی باریکی سے نگہداشت کرتے ہیں جبکہ دوسرے اہلکار بھی بھنگ کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود نے کہا کہ تجرباتی طور پر بھنگ کی کاشت کا مقصد اس پودے سے تیل کا حصول ہے جو دواؤں کی تیاری کے علاوہ دوسرے کئی مقاصد مثلاً دھاگے، کپڑے اور جینز کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ دیگر صنعتی اور تعمیراتی شعبوں میں بھی عام طور پر استعمال  کیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ تجرباتی طور پر بھنگ کی وہ قسم استعمال کی گئی ہے جس میں نشے کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زرعی تحقیقاتی مرکز میں بھنگ کی پیداوار پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹرئیل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کو حکومت کی جانب سے ملنے والے لائسنس کے تحت کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں بھنگ پالیسی پر بھی کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق بھنگ کی تجرباتی کاشت کا مقصد دراصل اس پودے کی خصوصیات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسی قسم کو الگ کرنا ہے جو پاکستان میں پیداوار کے لیے موزوں ہو اور جس سے تیل زیادہ سے زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکے جبکہ بھنگ کی کاشت کے پروٹوکولز بنانا بھی اسی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھنگ پالیسی کی تیاری اور ان کے تجربے کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں عام کسانوں کو بھنگ کاشت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق پاکستان کی آب و ہوا اور زمین بھنگ کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے اور امید ہے کہ کاشت کی صورت میں اس کی اچھی فصل ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا