ہونڈا سوک کی 11ویں جنریشن کار پاکستان میں

سوک کی 10ویں جنریشن 2016 میں پاکستان میں لانچ ہوئی تھی اور اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا، مگر کیا کراس اوور کے دور میں سیڈان کو وہی مقبولیت مل سکے گی؟

ہنڈا سوک کا ڈیزائن اسی کمپنی کی زیادہ مہنگی گاڑی اکورڈ سے متاثر ہے (فوٹو: ہنڈا)

ہونڈا سوک کا شمار دنیا کی مقبول ترین کاروں میں ہوتا ہے۔ یہ گاڑی 1972 میں پہلی بار سامنے آئی تھی، جس کی اب تک 10 جنریشنز منظرِ عام پر آ چکی ہیں اور اب 11ویں جنریشن کا ماڈل بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

گاڑیوں کی معروف ویب سائٹ پاک ویلز کے مطابق سوک کی 11 ویں جنریشن کی کم از کم ایک کار تھائی لینڈ سے پاکستان پہنچا دی گئی ہے اور چھ سے آٹھ ماہ کے بعد یہ گاڑی پاکستان میں لانچ ہونے کی توقع ہے۔ 

تھائی لینڈ کا شمار ان گنے چنے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پاکستان کی طرح گاڑیاں سڑک کے بائیں ہاتھ پر چلتی ہیں۔

پاکستان میں 10ویں جنریشن 2016 میں لانچ ہوئی تھی اور اس نے آتے ہی مارکیٹ کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ دور سے پہچانے جانے والے شوخ اور دوسری گاڑیوں سے بالکل مختلف ڈیزائن کو پاکستان میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

اس کے چھ سال بعد اپریل 2021 میں 11ویں جنریشن شمالی امریکہ میں لانچ ہوئی اور ایک بار پھر اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ 

گاڑی کا پلیٹ فارم وہی ہے، جو 10ویں جنریشن کا ہے اس لیے اسے اسی اسمبلی لائن پر بنایا جاسکے گا، جس پر حالیہ گاڑی بن رہی ہے۔

اس کا ڈیزائن ہونڈا ہی کی ایک اور گاڑی اکورڈ سے خاصا متاثر ہے۔ 10ویں جنریشن کی سب سے نمایاں بات اس کی لائٹس تھیں، خاص طور پچھلی بتیاں جو تکون کی شکل میں گاڑی کی باڈی سے باہر چلی گئی تھیں۔

پہلی بار جب یہ گاڑی آئی تھی تو بہت سے لوگوں کو اس کی شکل عجیب لگی تھی، مگر اب جبکہ یہ ہر طرف نظر آتی ہے، شاید اتنی عجیب نہیں لگتی۔

البتہ نئی جنریشن میں بتیوں کا ڈیزائن تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس میں پچھلی جنریشن کے مقابلے میں زیادہ سادگی اختیار کی گئی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پہلی سوک ہے جس میں مکمل ڈیجیٹل سپیڈومیٹر دیا گیا ہے۔ البتہ اس سے قطع نظر گاڑی کا انٹیریئر بہت ریٹرو ڈیزائن کا ہے۔

 بعض نئی گاڑیوں میں یہ ٹرینڈ شروع ہوا ہے کہ ان میں ہر طرح کے بٹن ختم کر دیے گئے ہیں اور اگر آپ نے اے سی آن کرنا ہے یا سپیکر کی آواز کم کرنی ہے، ہر چیز کے لیے ڈیجیٹل سکرین استعمال کرنا پڑتی ہے، جو گاڑی چلاتے ہوئے نہ صرف بہت مشکل ہے بلکہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن نئی ہونڈا سوک میں بہت سے بٹن اینالاگ دیے گئے ہیں اور ڈیجیٹل سکرین استعمال کیے بغیر کئی چیزیں کنٹرول کی جا سکتی ہیں جو ہمارے خیال سے خوش آئند ہے۔

پاکستان میں آج کل کراس اوور یا منی ایس یو وی گاڑیوں کا دور دورہ ہے اور متعدد کمپنیاں اس سیگمنٹ میں گاڑیاں بیچ رہی ہیں، جن میں ٹویوٹا، کِیا، ہونڈائی، ایم جی، ڈی ایف ایس کے، پروٹان، وغیرہ شامل ہیں، اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہونڈا سوک ماضی کی طرح مقبولیت حاصل کر پائے گی یا نہیں۔

اس کے علاوہ سیڈان کے شعبے میں پاکستان میں ہونڈا سوک کو ٹویوٹا کرولا اور ہونڈائی الینٹرا سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی