وزیراعظم سیٹزن پورٹل: ’صوبے میں شکایات پر کارروائی غیر آئینی‘

وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر ایک نامعلوم شخص کی جانب سے ’حیاتیاتی ہتھیاروں کے حصول اور دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے عنوان سے آنے والی شکایت کی کہانی اور اس پر آنے والا عدالتی فیصلہ۔

شکایت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے سوات منگورہ بینچ میں درخواست دائر کی  گئی جس پر عدالت نے 12 اکتوبر کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا (فوٹو: اے ایف پی)

رواں سال دو فروری کو اسلام آباد میں وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر ایک نامعلوم شخص کی شکایت موصول ہوتی ہے اور اس شکایت کو ’حیاتیاتی ہتھیاروں کا حصول اور دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔

شکایت میں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے سوات سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کے خلاف شکایت درج تھی کہ ان کے پاس بیالوجیکل ہتھیار موجود ہیں اور یہ لوگ دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ہیں۔

سٹیزن پورٹل انتظامیہ کی جانب سے یہ شکایت سوات کے پولیس سربراہ یعنی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی پی او) کو بھیجی جاتی ہے تاکہ اس شکایت کو دیکھ کر اس پر کارروائی کی جاسکے۔

ڈی پی او کی جانب سے شکایت پر 23 فروری کو جواب دیا جاتا ہے کہ شکایات سیل کی جانب سے موصول ہونے والی نامعلوم شخص کی شکایت کو متعلقہ پولیس آفیسر نے دیکھا ہے اور اس پر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بتایا گیا کہ جن کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے، ان کو پولیس نے تفتیش کے لیے بلایا بھی تھا لیکن دوران تفتیش شکایات میں موجود الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔

پولیس کی جانب سے تفتیش کے بعد شکایت کنندہ نے بھی ان افراد کے خلاف شکایت کو ڈراپ کرنے کی درخواست دی اور ساتھ میں شکایت سیل کو یہ بھی بتایا کہ ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے۔

اس کہانی کے بعد جن افراد کے خلاف شکایت کی گئی تھی، انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے سوات منگورہ بینچ میں درخواست دائر کی کہ ایک نامعلوم شخص کی بے بنیاد شکایت پر ان کی عزت کو نقصان پہنچا ہے اور پولیس کی طرف سے ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں لکھا کہ شکایت کنندہ کی شکایت واپس لینے سے ان کی پریشانی اور بے عزتی کا یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا اور نہ اس سے ان کا مداوا ہو سکتا ہے۔

لہذا درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم شکایات سیل کی ان کے خلاف انکوائری کی ہدایت دینے کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور ان کے خلاف شکایت کرنے والے شخص کی شناخت کو ظاہر کیا جائے۔

درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ ’شکایات سیل کی جانب سے ان کے خلاف مقامی پولیس کو انکوائری کی ہدایت کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور ساتھ میں شکایت سیل جو بغیر کسی قانون کے تحت چل رہا ہے، کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے اور شکایت کنندہ کے خلاف بے بنیاد الزمات اور شکایت درج کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

پشاور ہائی کورٹ منگورہ برانچ  کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد شامل تھے، نے اس درخواست پر گذشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا اور 12 اکتوبر کو اس درخواست پر تفصیلی فیصلہ سامنے آگیا۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے میں وزیراعظم شکایات سیل کی ایک صوبائی ادارے کو کسی بھی شکایت پر کارروائی کی ہدایت کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے 27 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ اس کیس میں وزیراعظم شکایات سیل اور سوات کے پولیس سربراہ سمیت نادرا کی جانب سے عدالت میں بیانات جمع کروائے گئے تھے جس میں انہوں نے شکایات سیل کو موصول شکایت اور شکایات سیل کی جانب سے پولیس سربراہ کو کارروائی کی ہدایت کی تصدیق کی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم شکایت سیل بغیر کسی قانونی فریم کے اندر چل رہا ہے کیونکہ اس سیل کو چلانے کے لیے کوئی قانون نہیں بتایا گیا اور اسی سیل کی جانب سے ان کے موکل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصلے کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس سیل کو بنانے کے لیے ’شیڈول آف دی رولز آف بزنس 1973‘ میں ترمیم کی گئی ہے اور شکایت سیل قانونی طریقے سے چل رہا ہے اور سیل کو موصول شکایت کو صرف متعلقہ شعبے کو بھیج دیا جاتا ہے۔ پھر یہ متعلقہ ادارے کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ شکایت کو دیکھ کر کس طرح مطمئن ہوتے ہیں۔

اسی طرح پولیس سربراہ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ پولیس سربراہ نے صرف شکایت سیل کی جانب سے موصول شکایت پر کارروائی کی ہے اور یہ ان کے فرائض میں شامل ہے تاہم بعد میں شکایت میں موجود الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔

وفاق کی صوبائی معاملات میں دخل اندازی

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ آئین و قانون میں ضروری ترامیم کرکے عدالت شکایت سیل کے بنانے کو یا اس کو غیرقانونی قرار نہیں دے سکتی اور نہ اس کو بنانا غیر آئینی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وفاق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنے ایگزیکٹیو اختیار استعمال کرکے کوئی نیا ادارہ بنائے۔

تاہم عدالتی فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ دوسرا سوال اس سیل کے آپریشن چلانے کے حوالے سے ہے اور شکایت سیل کے رولز آف بزنس میں لکھا گیا ہے کہ اس سیل کے آپریشنز کو وزیراعظم دیکھیں گے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ سیل وفاقی حکومت کی ایگزیکٹیو اتھارٹی کے تحت بنا ہے اور وزیراعظم کے ماتحت چل رہا ہے، جس کی قانون میں گنجائش موجود ہے۔

’اس سیل کے اختیارات وفاق تک محدود ہیں اور کیونکہ قانون کے مطابق ایسے معاملات، جس کے لیے صوبائی حکومتیں خود قوانین بنا سکتی ہیں، میں وفاق کا عمل دخل غیر قانونی ہوتا ہے اور اس کا ذکر آئین کی شق نمبر 141 اور شق نمبر 142 میں موجود ہے۔‘

عدالتی فیصلے کے مطابق شق نمبر 141 میں لکھا گیا ہے کہ پارلیمنٹ پاکستان کے کسی بھی حصے کے لیے قوانین بنا سکتی ہے اور صوبائی اسمبلیاں صوبے کے کسی بھی حصے کے لیے قوانین بنا سکتی ہیں۔

تاہم فیصلے کے مطابق شق نمبر 142 میں لکھا گیا ہے کہ پارلیمان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی صوبے کے لیے اس صورت میں قانون بنا سکے، جس کا ذکر کنکرٹ لسٹ یا فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ میں موجود ہو۔

’اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کچھ خاص قوانین صوبے کے دائرہ کار میں ہوں، اس میں وفاق دخل اندازی نہیں کرسکتا، جس میں سے ایک کریمنل قوانین ہیں۔‘

عدالتی فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت کریمنل قوانین میں صوبوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتی کیونکہ قانون کے مطابق کریمنل معاملات میں صوبوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے قوانین خود بنائیں۔

پولیس سربراہ کو شکایت پر کارروائی غیر قانونی قرار

عالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اس ساری بحث سے عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ شکایت سیل کا درخوست گزاروں کے خلاف شکایت پر کارروائی کی ہدایت دینا غیر آئینی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے شکایت پر تفتیش بھی غیر قانونی ہے اور اس میں وفاق نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

تاہم عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے شکایت کنندہ کے خلاف قانونی کارروائی اور اس کی شناخت کو ظاہر کرنے کی درخواست کو رد کر دیا اور بتایا کہ چونکہ شکایت سیل کی جانب سے شکایت کنندگان سے قواعد کے مطابق یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ شکایت کنندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، اس لیے اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

کیا یہ سیل وفاق میں کارروائی کرسکے گا؟

درخواست گزاروں کے وکیل اورنگزیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس فیصلے میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وزیراعظم شکایت سیل کسی صوبے کے حوالے سے شکایت پر کارروائی کی ہدایت نہیں کر سکتا تاہم چونکہ یہ وفاقی ادارہ ہے تو عدالتی فیصلے کے مطابق یہ وفاق کے کسی ادارے کے حوالے سے شکایت پر کارروائی کی ہدایت دے سکتا ہے۔

تاہم اورنگزیب کے مطابق اس میں ایک مسئلہ یہ ضرور ہے کہ مثال کے طور واپڈا ایک وفاقی ادارہ ہے لیکن اگر واپڈا کے کسی صوبائی ملازم  یا مسئلے کے حوالے سے اس سیل پر شکایت موصول ہوتی ہے، تو چونکہ اس سیل کے پاس اپنی کوئی فورس موجود نہیں تو وہ شکایت کو صوبے یا پولیس کو مارک کریں گے تو اس فیصلے کی رو سے وہ بھی غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان