دنیا کو ’لافانی خلیے‘ دینے والی خاتون کے لیے موت کے بعد ایوارڈ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک خاتون کے دنیا بدل دینے والے ورثے کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں خصوصی ایوارڈ سے نوازا ہے۔

ہینری ایٹا لیکس رحم کے سرطان کے باعث صرف 31 سال کی عمر میں ہی جان کی بازی ہار گئی تھیں  (ڈبلیو ایچ او/ ٹوئٹر)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک خاتون کے دنیا بدل دینے والے ورثے کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں خصوصی ایوارڈ سے نوازا ہے۔

ہینری ایٹا لیکس نامی سیاہ فام خاتون کو یہ ایوارڈ ان کے مرنے بعد دیا گیا ہے۔ ان کی جانب سے یہ ایوارڈ بدھ کو ان کے 87 سالہ بیٹے نے وصول کیا ہے۔

انہیں یہ ایوارڈ کیوں دیا گیا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہینری ایٹا لیکس کو رحم کا کینسر لاحق تھا اور اسی سلسلے میں 1951 میں جب وہ اپنا علاج کروا رہی تھیں تو ڈاکٹرز نے بیاپسیز کیں۔

ان کے جسم سے خلیے نکالنے کا ہینری ایٹا کو نہ تو علم تھا نہ ہی ان سے اجازت لی گئی تھی۔ تاہم بعد میں یہی خلیے سب سے پہلے ’لافانی‘ خلیے بن گئے جنہیں آج ’ہیلا سیلز‘ کہا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہینری کے انہی خلیوں کی مدد سے گذشتہ سات دہائیوں میں نہ صرف لاتعداد لوگوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں بلکہ کئی سائنسی تجربات بھی ممکن ہوئے ہیں۔

ان تجربات میں کامیابی حاصل ہوئی ان میں ایچ پی وی اور پولیو ویکسینز، ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ کینسر کی ادویات سمیت  کووڈ19 کی ریسرچ شامل ہیں۔

ناانصافی کا ’ذکر‘

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ عالمی سائنسی برادری نے ہینری ایٹا لیکس کی نسل اور اصل کہانی کو بھی پوشیدہ رکھا تھا کیونکہ وہ ایک سیاہ فام خاتون تھیں۔ تاہم اب امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ایوارڈ اس تاریخی غلطی کو سدھار نے کی ایک کوشش ہے۔

اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس ایڈہارنم گیبریسز نے کہا کہ ’یہ ایوارڈ میڈیکل سائنس میں خواتین اور خاص طور پر غیر سفید فام خواتین نے جو حصہ ڈالا اسے تسلیم کرنے کا موقع ہے۔‘

ورثہ

ہینری ایٹا لیکس کو ملنے والا ایوارڈ ان کے 87 سالہ بیٹے لارینس لیکس نے جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے دفتر میں وصول کیا۔

لارینس لیکس ان کے آخری زندہ رشتہ دار ہیں جو انہیں قریب سے جانتے ہیں۔ ایوارڈ وصول کرنے کے موقع پر لارینس کے ہمراہ ہینری ایٹا کے کئی پوتے پوتیوں سمیت خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

اس موقع پر لارینس لیکس نے کہا کہ یہ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے سارا خاندان ہل کر رہ گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میری والدہ نے جو حصہ ڈالا اسے پوشیدہ رکھا گیا تھا لیکن اس کے عالمی اثرات کے بعد صحیح طرح سے تسلیم کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری والدہ زندگی میں بانی تھیں، اپنی برادری کو واپس زندگی دینے والی، دوسروں کو بہتر زندگی جینے میں مدد دینے اور خیال رکھنے والی۔ وہ موت کے وقت بھی دنیا کی مدد کرتی رہیں۔ ان کا ورثہ ہمارے اندر زندہ ہے اور ان کا نام لینے کے لیے شکریہ۔ ہینری ایٹا لیکس۔‘

گراں قدر خدمات

بطور ایک نوجوان والدہ کے ہینری ایٹا لیکس نے بیمار ہونے کے باوجود اپنے شوہر کے ہمراہ پانچ بچوں کی پرورش کی۔

وہ رحم سے خون رسنے پر بالٹیمور میں جان ہاپکنز سینٹر گئیں جہاں ان میں رحم کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ تاہم علاج کے باوجود وہ چار اکتوبر 1951 میں صرف 31 سال کی عمر میں جان کی بازی ہار گئیں۔

ان کے علاج کے دوران محققین نے ان کے ٹیومر کے نمونے حاصل کر لیے تھے۔ جو واحد ’لافانی خلیے‘ تھے بعد میں پانچ کروڑ میٹرک ٹن ہیلا خلیے دنیا بھر میں بھیجے گئے جن پر 75 ہزار تحقیقات بھی ہو چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین