’قینچی زیادہ چلائیں تو لڑائی ہو گی‘، مگر کون سی قینچی؟‘

اس بات میں تو 99 فیصد صداقت ہے کہ لڑائیوں کی بڑی وجہ یہ قینچی ہے جو ہمارے منہ میں ہے۔ یہ اگر سوچ سمجھ کر چلائی جائے تو بہت سی لڑائیوں کا آغاز ہی نہ ہو۔

بات کچھ یوں سمجھ آئی کہ خالی قینچی سے مراد زبان ہو گی (پکسابے)

بچپن میں جب انتہا کی فراغت سر چڑھ کر بولتی تھی تو بہت سی عجیب عجیب حرکتیں کر کے وقت گزارتے تھے۔ ان حرکتوں میں سے ایک قینچی چلانا بھی شامل تھا، مگر جیسے ہی والدہ دیکھتی تو کہتی کہ خالی قینچی مت چلاؤ اس سے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے۔

مجھے والدہ کی یہ بات سمجھ نہ آتی کیونکہ میں قینچی چلاؤں یا نہ چلاؤں بھائی سے لڑائی تو ہوتی تھی اور دن میں کئی بار ہوتی تھی۔

کچھ دور گزرا، گھر میں ایک فنکشن کے سلسلے میں لوگ جمع تھے۔ دور کی پھوپھو اور قریب کی خالہ جن کی آپس میں دو تین قسم کی رشتہ داریاں بھی تھیں، ان کی آپس میں نہیں بنتی تھی اور اس بارے میں پورے خاندان کو خبر تھی، وہ بھی آئیں۔ اچانک سے آوازیں آنا شروع ہوئی اور جب آوازوں کا تعاقب کرتے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ دونوں خواتین ایک دوسروں پر زبانی حملے کررہی ہیں۔

ایسے میں قریب کھڑی بزرگ خاتون نے اپنے بیٹی کو کہا کہ ’دیکھو بھلا دونوں کی زبان کیسے قینچی کی طرح چل رہی ہے۔‘

وہ دن تھا کہ بات دل کو لگی کے بھئی زبان جب قینچی کی طرح چلتی ہے تو پھڈا فساد تو برپا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بات کچھ یوں سمجھ آئی کہ خالی قینچی سے مراد زبان ہو گی۔ یعنی بلاوجہ بولنا اور بے فضول بولنا اور بنا کچھ جانے بولنا اور ایسا بولنا جو فساد کی وجہ بن جائے۔ بڑوں نے ہی دو عورتوں کو لڑتے ہوئے دیکھ کر کہا ہو گا کہ دیکھو دیکھو زبان کیسے قینچی کی طرح چل رہی ہے۔ اب وہاں سے یہ جملہ محاورے کے لباس میں خاندان محاورے کا اہم رکن بن گیا اور پھر بہت بار استعمال ہوا ہو گا۔ لیکن پھر یہ محاورے توہم پرستی کےرنگ میں ڈوب گیا۔

یہ بات عام ہوگئی اور ہر اس گھر میں جہاں بچہ خالی قینچی چلاتا تھا اس پر یہ محاورہ اپنایا جانے لگا کہ ’خالی قینچی نہ چلاؤ ورنہ لڑائی ہو گی۔‘ لیکن اس محاورے کی اصل سے بہت سے لوگ لاعلم تھے۔ بہرحال ہم بڑے ہوتے گئے اور لاتعداد قینچیاں چلتی دیکھی اور پھر قینچی کی دھار ختم ہوتے ہی لڑائی جھگڑے کا آغاز ہو گیا۔ یعنی اکثر لڑائیوں کا اصل یہ ہی قینچی تھی، یعنی یہ زبان۔

اس بات میں تو 99 فیصد صداقت ہے کہ لڑائیوں کی بڑی وجہ یہ قینچی ہے جو ہمارے منہ میں ہے۔ یہ اگر سوچ سمجھ کر چلائی جائے تو بہت سی لڑائیوں کا آغاز ہی نہ ہو۔ یہ قینچی بہت احتیاط سے چلانی ہوتی ہے یہ قینچی کپڑے نہیں لوگوں کے جذبات اور احساس کاٹتی ہے اور ایسے کاٹتی ہے کہ بہت دنوں تک اس کا اثرباقی رہتا ہے۔ اکثر لڑائیوں کی اصل تلاش کریں گے تو 99 فیصد لڑائیوں کی وجہ ہی قینچی نکلیں گی۔

اگر فضول کے فساد اور لڑائی جھگڑے سے بچنا ہے تو فضول میں قینچی نہیں چلانی ہے۔ قینچی جب بھی چلائیں احتیاط کے ساتھ چلائیں کیوں کے کپڑے کاٹنے والی قینچی کی غلط کٹائی کا خمیازہ بھرا جا سکتا ہے مگر زبان والی قینچی سے کٹنے والے دل اور جذبات کا خمیازہ بھرنا بہت مشکل ہوتا ہےاور یہ گہرے داغ و زخم چھوڑ دیتا ہے جو نظر نہیں آتے، مگر تکلیف بہت دیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ