کابل کے بیوٹی سیلون خواتین کی پناہ گاہیں

دو ماہ قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بہت سی خواتین عوامی مقامات کا رخ نہیں کرتیں اور بعض اوقات بہت ہی حقیقی خطرات کے باعث نجی جگہوں تک محدود ہو گئی ہیں۔

بیوٹی سلیون اب بھی کابل کی ان آخری جگہوں میں سے ایک ہیں جہاں خواتین گھروں سے باہر مل سکتی ہیں، مردوں کی نگاہوں سے دور آزادی کے لمحات محسوس کر سکتی ہیں۔

محدثہ ایسی ہی ایک خاتون ہیں جنہوں نے طالبان کی دھمکیوں کے باوجود اپنے بیوٹی سیلون کو اب تک کھولا ہوا ہے۔

دو ماہ قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بہت سی خواتین عوامی مقامات کا رخ نہیں کرتیں اور بعض اوقات بہت ہی حقیقی خطرات کے باعث نجی جگہوں تک محدود ہو گئی ہیں۔

لیکن محدثہ کا بیوٹی سیلون فی الحال ایک ایسی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں خواتین گھر کے باہر آپس مل کر سکون کا سانس لے سکتی ہیں اور اپنی پریشانیوں کو بانٹ سکتی ہیں یا کم از کم تفریح اور فیشن کے حق کو ان لمحات میں بھول جاتی ہیں۔

یہ سیلون خواتین کے لیے نخلستان بنا ہوا ہے جو عملے کے لیے آمدنی اور گاہکوں کے لیے خوشگوار لمحات مہیا کرتا ہے لیکن اب شاید اس کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔

32 سالہ سیلون کی مالکہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم ہار نہیں ماننا چاہتے اور نہ ہی اپنا کام چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم خوش ہیں کہ ہمارے پاس روزگار ہے اور خواتین کے لیے افغان معاشرے میں کام کرنا ضروری ہے، ان میں سے بہت سی اپنے خاندان کی کفالت کرتی ہیں۔‘

خواتین گاہکوں کو سیلون کے باہر چھوڑ دیا جاتا ہے جو سیلون کے پوسٹر لگے دروازے، جن پر اب سفیدی کی جا چکی ہے، پر دستک دیتی ہیں اور جلدی سے ایک بھاری پردے کے پیچھے دکان میں غائب ہو جاتی ہیں۔

یہاں داخل ہونے کے بعد خواتین اپنے سروں پر سکارف اور چادریں وغیرہ اتار دیتی ہیں اور وہ پرجوش آوازوں میں اپنے نئے سٹائل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

سیلون میں کام کرنے والی خواتین

طالبان کے افغانستان پر 1996 سے 2001 تک پہلے دورہ حکومت کے دوران خواتین کو برقع پہننے کا پابند کیا گیا تھا جب کہ بیوٹی سیلون پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

خواتین کے لیے صرف ناخن پالش کرنے کا مطلب اپنی انگلیاں کٹوانے کا خطرہ مول لینا تھا۔

لیکن جب سے طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں اس گروپ نے دنیا کے سامنے اپنا ایک زیادہ لبرل چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

معاشی تباہی سے بچنے کے لیے طالبان کو بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے اس لیے بھی انہوں نے خواتین اور روز مرہ کی زندگی پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے لیے عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ محدثہ کو دھمکیاں نہیں ملی ہیں۔

ایک طالبان ہجوم نے ان کے سلیون کے باہر دھمکی آمیز نعرے لگائے لیکن انہوں نے اپنا کام جاری رکھنے کے لیے قانونی حربے کا استعمال کیا۔

انہوں نے کہا: ’میں کہہ سکتی ہوں کہ اس سیلون کی خواتین بہادر ہیں کیونکہ وہ دھمکیوں اور خوف کے باوجود ہر روز کام پر آتی ہیں۔‘

'مزاحمت کا پیغام‘

جس روز اے ایف پی نے یہ رپورٹ بنائی اس دن سیلون پر تقریباً 30 خواتین شادی کی تقاریب کے لیے تیار ہونے پہنچی تھیں۔ یہ ایک طرح سے دلیری کا مظاہرہ تھا۔

خواتین واضح طور پر شادی کے شوخ کپڑے پہننے اور میک کرانے کے نادر موقع سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔

دلہن کی بہن فرخندہ، جو ایک ٹیچر ہیں، نے ایک گھنٹے سے جاری میک اپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’ہاں یہ اچھا ہے۔ یہ خوبصورت ہے۔ اگست کے اختتام کے بعد یہ میرا پہلا حقیقی دن ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ان کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں سے ایک کی بینائی اس وقت ضائع ہو گئی تھی تھی جب نوعمری میں طالبان نے ان پر حملہ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’آپ نے میری آنکھ دیکھی؟ سکول جاتے ہوئے میں نے اسے اس وقت کھو دیا تھا جب طالبان نے ہم پر حملہ کیا۔ لیکن میں ان سے نہیں ڈرتی۔ میں ان کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ آج کا دن خوشیوں بھرا ہے۔‘

اور 22 سالہ مروہ (جو ان کا اصل نام نہیں) کے چھوٹے ہیئر کٹ اور سٹائلنگ میں ’مزاحمت‘ کا پیغام نظر آیا۔

انہوں نے کہا: ’ہم نیلے برقعے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم کالے برقعے والے لوگ بھی نہیں ہیں۔ ہم وہ نہیں ہیں۔

'میں یہیں رہوں گی'

کچھ خواتین ملک چھوڑنے اور کچھ تبدیلی کا خواب دیکھ رہی ہیں۔

فرخندہ کو امید ہے کہ وہ واپس کام پر آسکیں گی جبکہ محدثہ اپنے کام کی وجہ سے اپنی زندگی کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو ایک خط دکھایا جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ طالبان کی نئی وزارت ’ امر بالمعروف والنہی عن المنكر‘ کی جانب سے آیا ہے جس میں اسے بند کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

لیکن انہوں نے کہا: ’جب تک وہ آئیں اور میرے گلے پر چھری نہ رکھ دیں میں یہیں رہوں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین