طالبان کا وفد چند دنوں میں اسلام آباد آکر معاملات طے کرے گا: شاہ محمود

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے ہمراہ افغانستان پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی طالبان کی عبوری حکومت کے وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ملاقات ہوئی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں طالبان کا ایک وفد اسلام آباد آئے گا جو آج پاکستانی وزارتوں کے مختلف ورکنگ گروپس کے ساتھ جمعرات کو ہونے والے اجلاس پر معاملات کو حتمی شکل دے گا۔  

انہوں نے یہ بات کابل سے وطن واپسی کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتائی ہے۔ 

اپنے دورہ کابل کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دورے کے دوران کیے جانے والے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے بیمار افغان شہریوں کے لیے ویزہ کے حصول کے لیے عائد ضوابط کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کے مطابق جن معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد فیصلے کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • افغانستان سے آنے والے مریضوں کو طورخم کراسنگ پر آن ارائیول ویزہ دیا جائے گا۔
  • طور خم کے راستے آنے والے افغانوں کے لیے کرونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
  • طورخم کے راستے آنے والے افغان تاجروں کو بھی ایک مہینے کا آن ارائیول ویزہ جاری کیا جائے گا۔
  • پاک افغان سرحد تجارت کے لیے 24 گھنٹے کھلی رہے گی۔
  • طورخم کراسنگ پیدل کراس کرنے والوں کے لیے 12 گھنٹے کھلی رکھی جائے گی۔
  • افغان ٹرکوں کو پشاور اور کراچی تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔
  • خرلاچی اور غلام خان بارڈرز پر بھی کام جاری ہے جن کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ 
  • افغان کاروباری شخصیات کے لیے ملٹی انٹری پانچ سالہ ویزے جاری کرنے کا اختیار بھی کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے کو دے دیا گیا ہے۔
  • افغانستان سے پاکستان لائے جانے والے پھلوں اور سبزیوں کو بھی ڈیوٹی فری لانے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • پاکستان افغانستان کو پانچ ارب روپے کی امداد انسانی بنیادوں پر فراہم کرے گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے ہمراہ جمعرات کو افغانستان پہنچے تھے جہاں ان کی طالبان کی عبوری حکومت کے وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ملاقات ہوئی تھی۔ 

اس موقع پر افغان طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر اعظم مولوی عبدالسلام حنفی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی موجود تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور، تجارتی و اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے اور افغان عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

 

دورے کا مقصد معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے افغان عوام کی حمایت، پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ تجارت، اقتصادی و عوامی سطح پر تعاون کو بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور انسانی بنیادوں پر افغان بھائیوں کی مدد کے لیے پرعزم بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں بالخصوص تاجروں کے لیے ویزہ سہولیات، نئے بارڈر پوائنٹس اور نقل و حرکت میں سہولت کی فراہمی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

’پاکستان، افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 گذشتہ روز روس کی میزبانی افغانستان پر ہونے والے اجلاس میں بھی شریک 10 ممالک کے عہدیداران نے خطے کو مستحکم بنانے کے لیے افغان طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغانستان پر ہونے والے اس اجلاس میں طالبان، پاکستان، چین اور ایران سمیت دس ممالک کے عہدیداروں نے شرکت کی تھی جبکہ امریکہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں بنا تھا۔

اس موقع پر افغان طالبان کے نائب وزیراعظم مولوی عبدالسلام حنفی نے کہا تھا کہ ’اگر نئی حکومت کو تسلیم اور سپورٹ نہ کیا گیا تو قدرتی طور پر سکیورٹی میں خلل ڈالنے والے مزید مضبوط ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نئی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہم کسی بھی گروپ کو افغانستان کی عوام، اس کے ہمسائے اور دیگر علاقائی ممالک کی سکیورٹی کو کمزور نہیں کرنے دیں گے۔‘

اب اس اجلاس کے اگلے ہی روز پاکستانی وزیر خارجہ افغانستان کے دورے پر پہنچے ہیں جہاں ملاقات میں افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیراعظم ملا حسن اخوند نے انسانی بنیادوں پر امداد کی بروقت فراہمی پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا