شکست کا بوجھ اور ویڈیو گیم کا چانس

ہم لوگ سٹریٹ فائٹر کھیل رہے ہوتے، سنو بروس (برادرز) کھیلتے یا کوئی اور گیم ہوتی، جدھر آخری چانس بچتا چھولا اچانک کہیں سے نمودار ہو جاتا، ’لا تیرا چاں بچا دوں‘ اور وہ چانس بچوا بھی دیتا۔

’لا تیرا چاں بچا دوں؟‘ چھولے کی شکل مجھے یاد نہیں لیکن اس کے شوق کا لیول یاد ہے۔

میری سب سے  بڑی خواہش ہوتی تھی کہ میرے پاس اپنی ایک جوائے سٹک ہو اور گھر کے اندر 24 گھنٹے میں اس کے ساتھ سٹریٹ فائٹر کا نواں پارٹ کھیلوں۔

ہم لوگوں نے دنیا بڑی تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھی ہے۔ ہمارے بچپن کی ویڈیو گیمز میں الیکٹرانک چپ کی جگہ پانی ہوا کرتا تھا۔ وہ نہیں یاد وہ جو گول سا ایک کھلونا ہوتا تھا، جس میں اندر پانی کے ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے رنگز بھرے ہوتے تھے، بیچ میں دو سوئیاں ہوتیں اور دونوں انگوٹھوں کی جگہ پہ ایک ایک ربڑ کا بٹن۔ بٹن دبانے سے ہوا کا پریشر بنتا اور وہ رنگز تیزی سے اچھلتے، جتنی جلدی جو بچہ سارے چھلے سوئی میں ڈال دیتا وہ چیمپئین بن جایا کرتا۔ ابھی ویسے ہی گوگل گھمایا تو پتہ لگا اسے رِنگ ٹاس واٹر گیم کہتے ہیں۔

اٹاری میری پہلی اور آخری ویڈیو گیم تھی۔ جب تک ہم لوگ حسن انکل کے یہاں جا کے کھیلتے تھے تب تک بڑی لالچ ہوا کرتی تھی اس کا ایک راؤنڈ بھی کھیلنا، اپنے پاس آئی تو مہینے دو بعد رل کھل گئی۔ اصل میں ٹیکنالوجی بڑی تیزی سے بدل رہی تھی۔

اسی زمانے میں فور ایٹ سکس کمپیوٹر پہ پرنس آف پرشیا شروع ہو چکی تھی، ننٹینڈو میدان میں آ چکی تھی، گلی محلے میں ویڈیو گیموں کی دکانیں کھل چکی تھیں اور پلے سٹیشن وغیرہ کا راستہ صاف ہو رہا تھا۔

پہلے ویڈیو گیم کی دکان سڑک پار ہوا کرتی تھی۔ میں ڈرپوک بچہ تھا، گھر سے بھی اجازت نہیں تھی سڑک پار جانے کی تو بس مہینوں میں ایک آدھ بار کبھی جانے کا سین بنتا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ سات آٹھ گھر چھوڑ کے گلی کے نکڑ پہ ویڈیو گیم کی دکان کھل گئی۔

اپنی تو دبئی لگ گئی۔ ابو تین روپے دیا کرتے تھے اور دو روپے جیب خرچ دادی سے ملتا، کل ملا کے ہوئے پانچ روپے۔ تو بس پانچوں روپوں کا اجاڑا ادھری ویڈیو گیم کی دکان پہ نکلتا۔

عموماً ویڈیو گیم یا ویڈیو کیسٹ کی دکان سے وابستہ کوئی بھی آدمی اوباش سمجھا جاتا تھا، ادھر ایسا نہیں تھا۔ سفیر بھائی کو پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کے وہ لوگ لائے تھے۔ صبح دکان کھولتے، چٹا لٹھے کا سوٹ، کلف لگا ہوا، سنہری فریم والی عینک، اکثر کوئی کتاب ہاتھ میں، بیچ کی مانگ، سانولا رنگ، میانہ قد، دھیمی بات چیت، کونے میں کیش کاؤنٹر پہ بیٹھ جاتے یا سردیوں میں دھوپ کے رخ کرسی پہ بیٹھے رہتے۔

سفیر بھائی کی وجہ سے چھولا اس دکان میں آرام سے آ جایا کرتا تھا۔ اس کے والد چنے بیچتے تھے۔ جو لوگ ملتان کے نہیں ہیں وہ جان لیں کہ ’سوتری وٹ کے چنے‘ پورے ملتان میں ناشتے کی اہم ترین ڈش ہوا کرتے تھے۔ اس کے ابا صبح صبح وہی چنے بیچنے گلی میں آتے، چھابا سر پہ اٹھایا ہوتا، زور سے آواز لگاتے چھولےےےےےے۔ تو پہلے اس کی چِڑ رکھی بچوں نے، چھولا چھولا پکار کے اسے چھیڑتے، جب اس نے چِڑنا چھوڑ دیا تو اس کا نام ہی چھولا پڑ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو چھولا جو تھا وہ پتہ نہیں کیسے گیم ایکسپرٹ بن گیا تھا۔ ہم لوگ سٹریٹ فائٹر کھیل رہے ہوتے، سنو بروس (برادرز) کھیلتے یا کوئی اور گیم ہوتی، جدھر آخری چانس بچتا چھولا اچانک کہیں سے نمودار ہو جاتا، ’لا تیرا چاں بچا دوں‘ اور وہ چانس بچوا بھی دیتا۔ جو بچہ تھوڑی دیر کھیلنے دیتا تو اسے ایک آدھی لائف مزید بھی مل جاتی تھی۔ بعد میں ایک لیول وہ آیا کہ چھولے سے باقی ویڈیو گیم مالکان خار کھاتے تھے کہ ایویں جاتا ٹوکن پھر سے زندہ کر دیتا ہے، یہاں لیکن وہ کھڑا رہتا تھا۔ دکان مستقل بند ہو جانے تک چھولا ان کا مستقل گاہک بلکہ کنسلٹنٹ تھا۔

یقین کر لینے میں بڑا مزا ہے۔ چھولا کبھی کبھار مروا بھی دیتا تھا لیکن اپنے ہاتھوں چانس مروا کے ہمیشہ ایک روپے والا ٹوکن ضائع ہونے کا افسوس ہوتا تھا۔ وہ اگر کبھی ہار بھی جاتا تو لگتا جیسے میں نہیں ہارا، میں نے تو مشکل وقت میں اسے جوائے سٹک تھما دی تھی، اس نے پوری کوشش بھی کر لی مگر چانس نہیں بچا، اور کیا کرتا؟ اکیلے اپنے کندھوں پہ شکست کا جو بوجھ اٹھانا ہوتا تھا وہ چھولے پر اعتبار کرنے کی وجہ سے ایک اور ایک گیارہ حصوں میں تقسیم ہو کے کہیں گم گما جاتا اور بندہ بے فکری سے اگلی گیم کھیلنا شروع کر دیتا۔

بچپن کا یقین ثبوت نہیں مانگتا، چھولا تو ویسے بھی ہمارے سامنے ’چاں بچا دیتا تھا۔‘ اس وقت مجھے بس ایسے لگتا تھا جیسے چھولا ہماری مدد کے لیے خدائی خدمت گار بنا کھڑا ہے، اب سوچتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ دو تین روپے میں ایک پلیٹ چنے آ جاتے تھے، اس کے ابا شاید ہی اسے کبھی کھیلنے کو پیسے دیتے ہوں، اس غریب کی مہارت اور مدد، سبھی کچھ اپنا شوق یا حسرت پوری کرنے کے لیے تھا ۔۔۔۔۔ یا ہمارا ’چاں بچانے کی لیے؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ