میں فوجی کیوں نہیں بنا؟

قریشی سلیکٹ ہوئے بغیر ایک ’ریٹائرڈ فوجی‘ تھا۔ ہم لوگوں سے عمر میں دو تین سال بڑا لیکن کم از کم چھ سات بار اینٹری ٹیسٹ سے اور دو بار آئی ایس ایس بی (فائنل مراحل کا ایک ٹیسٹ) سے ریجیکٹ ہوا تھا۔

آرمی میں جانا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ ایک مرتبہ بھرتی ہو جائے بندہ تو کمیشن پکا ہوتا تھا(فائل فوٹو: اے ایف پی)

چاند میری زمیں، پھول میرا وطن، یہ نظم اس جوش اور جذبے سے میں پڑھا کرتا تھا جیسے بھارت پہ چڑھائی کرنے جا رہا ہوں۔
میرا اک اک سپاہی ہے خیبر شکن ۔۔۔ اس مصرعے پہ آ کے تو آواز بس پھٹتی نہیں تھی ورنہ سٌر بھائی کے پانچویں کالے پہ ہوتے تھے۔
ہمارے ساتھ چوتھی پانچویں میں ایک لڑکا ہوتا تھا شہزور، مجھے یاد ہے اس کی انگلی اس مصرعے پہ جذبات کی شدت سے کھڑی ہو جاتی تھی لیکن تھوڑا سا خم ہوتا تھا، تو شہروز واحد تھا جو دوستوں میں سے فوجی بنا۔ بعد میں پھر رابطے ختم ہو گئے لیکن وہ جوان بہرحال کافی اچھے رینک تک پہنچا۔
میں پڑھنے کا شوقین نہیں تھا، ابا کہتے تھے بڑے ہو کے چھولے بیچو گے۔ سارا دن لفنٹر بازی کرنی، بڑا ہوا تو رات کو بھی دیر سے واپس آنا۔ آٹھویں کلاس میں تھا تو بھائی جان عاصم کے پاس ٹیوشن رکھوا دی گئی کہ چلو سکول نہیں پڑھتا ادھر جا کے کچھ نہ کچھ کر لے گا۔ اوئے ہوئے، بڑی شرمندگی ہوتی۔ بھائی جان شریف آدمی تھے، تشدد پہ یقین نہیں رکھتے تھے، فقیر کا پیر ہی ڈنڈا تھا۔ بہت زیادہ بگڑا کیس ہوتا تو چھوٹے بھائی جان کے پاس ریفر کر دیا جاتا، وہ ہلکا پھلکا مار بھی لیتے لیکن کب تک۔ انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔
سات ستمبر 1994 کو بھائی جان عاصم نے ایک خط لکھا ابا کے نام، ٹیکسٹ انجوائے کریں؛


السلام علیکم بھائی جمال
آپ کا بڑا بیٹا ایک اعلی درجے کا نکما ہو گیا ہے۔ گھر سے یاد کر کے آنا اس کے لیے مصیبت ہے، اگر یہ فیل ہوا تو وہ اس کی اپنی لیاقت ہو گی کیوں کہ یہ صرف اپنی انگریزی بولتا ہے یاد کیا ہوا نہیں سناتا۔ براہ کرم اس کی طرف توجہ دیں اور اس کی ایکٹیویٹیز کو چیک کیا کریں۔
شکریہ
عاصم

لئو جی فیر، لگ گئے ستارے، اب 1994 کا مطلب ہے آٹھویں کلاس، تو بس پھر حساب لگا لیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ استاد سائنس اپنے بس کی نہیں تھی۔ نویں میں آخری حربے کے طور پہ ابو جی نے ایک ایسے سکول میں ڈلوا دیا جس کا رزلٹ تو سوپر ہٹ تھا لیکن ہر بچہ ’پٹ مین‘ بنا ہوتا تھا۔

کیمسٹری والی مس نے ایک بار اتنی زور سے کان کھینچے کہ باقاعدہ چار ناخن گڑ گئے کان میں، انہی نے آئرن سکیل سے مارا تو کلائی کے پاس سے خون تک وطن کی راہ میں بہہ گیا۔ فزکس والے سر کا ریکارڈ تھا کہ سو میں سے جتنے نمبر کم ہوتے تھے اتنے ڈنڈے مارتے تھے۔ اپنے خیر سے آ گئے کوئی تیس چالیس نمبر ۔۔۔ ستر ڈنڈے؟ پتہ نہیں کتنے کھائے پر اگلے دن ابو کو لے گیا ساتھ کہ ان ۔۔۔۔۔ کو سمجھا دیں، اگلی بار یا تو سکول چھوڑ دوں گا یا پھر جو اس عمر کے بچے کرتے ہیں وہ کرنے کا پروگرام تھا۔
میتھ والے سر کھتی پہ ہاتھ رکھتے، کمر کو رکوع والی حالت میں لاتے (شاگرد کی آف کورس) اور پوری طاقت سے ایک تھپڑ مارتے، تین چار دن کمر سیدھی نہیں ہوتی تھی۔ میں لکھ رہا ہوں، جو کلاس فیلو تھے تب کے، ان میں سے جس نے بھی پڑھا اسے نام یاد آ جائیں گے۔ اردو والے سر بہت اچھے تھے لیکن ایک آدھ بار کسی شرارت پر گھنٹہ پورا باہر دھوپ میں بیگ سر پہ اٹھا کے کھڑا ہونے کا شرف انہوں نے بھی بخشا۔ بائیو والے سر تشریف پہ لکڑی کا فُٹا ترچھا کر کے ایسے مارتے تھے جیسے گوشت کے نفیس پارچے بنانے ہوں۔ میں نے ایک دن کاپی رکھ لی پیچھے، پٹاک کی آواز آئی، بائیو کی ہی تھی، برامد تو کروا لی سر نے لیکن ہنستے ہوئے بخش دیا۔ سر ندیم انگریزی پڑھاتے تھے، ان کی مار بس معصوم سی ہوتی تھی۔ وہ آج تک میرے بیسٹ استاد ہیں۔ نویں میں ان سے انگلش پڑھی، اسی کی آج تک کمائی کھاتا ہوں۔
تو خیر، بس ایک عادت یہ تھی کہ نصاب چھوڑ کے باقی ہر چیز پڑھتا تھا۔ جنرل نالج ٹائٹ تھا، میرے پاس جان بچانے کا واحد راستہ فوج میں اپلائے کرنا تھا۔
منتیں، مرادیں، دعائیں، شاید وظیفے ۔۔۔ سب چلائے اس کے لیے لیکن ابھی کیسے؟ پہلے ایف اے کرنا بنیادی شرط تھا۔ اتنی پھینٹیوں کے بعد میٹرک میں الحمدللہ پچھہتر پرسنٹ نمبر آ گئے لیکن آگے پھر سائنس اژدھے جیسا منہ کھولے کھڑی تھی۔
آرمی میں جانا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ ایک مرتبہ بھرتی ہو جائے بندہ تو کمیشن پکا ہوتا تھا۔ آدمی رگڑے کھاتا ہے پر سیکنڈ لفٹین بن کے ہی پاس آؤٹ ہوتا ہے۔ الفا براوو چارلی اور دھواں جیسے ڈراموں نے ویسے ہی الگ ہوا بنائی ہوئی تھی۔ پہلے سال رکھی سائنس، منہ کی کھائی۔ سیکنڈ ائیر میں ایک استاد سے ابو کی میٹنگ کروائی، خدا ان کا بھلا کرے انہوں نے سفارش کی تو ابا مان گئے، آرٹس رکھ لی۔ سکون سے دونوں سال کا امتحان دیا، بہترین نمبروں سے پاس ہو گیا۔
فوج ۔۔۔ اینٹری ٹیسٹ ۔۔۔ روز اخبار میں ڈھونڈتا کہ اشتہار لگے اور کینٹ پہنچوں۔ آخر ایک دن آ گیا اشتہار۔ بھائی اگلے دن تیار ہو کے گیا، پہلے ہی ٹیسٹ میں ناکامی نے قدم چومے۔ ریجیکٹڈ کا ٹھپہ لگا مارکس شیٹ پہ اور اپن واپس۔
پھر ایک بار اشتہار آیا۔ اس دفعہ میں قریشی کے پاس تیاری کر کے پھر ٹیسٹ دینے گیا۔ قریشی سلیکٹ ہوئے بغیر ایک ’ریٹائرڈ فوجی‘ تھا۔ ہم لوگوں سے عمر میں دو تین سال بڑا لیکن کم از کم چھ سات بار اینٹری ٹیسٹ سے اور دو بار آئی ایس ایس بی (فائنل مراحل کا ایک ٹیسٹ) سے ریجیکٹ ہوا تھا۔ قریشی اکثر خاکی یا سبز رنگ کی پتلون قمیص پہنتا۔ جب اس کا رنگ تھوڑا اڑ جاتا تو وہ کلر دوستوں میں ’قریشی گرین‘ کہلاتا تھا۔ جب ہم لوگ موٹرسائیکلوں پہ چناب جاتے تو وہ میرے پیچھے بیٹھتا اور سارے راستے ملی نغمے یا جذبہ جنون ٹائپ چیزیں پورے حلق، مکمل جوش اور تھکے ہوئے سروں میں گاتا تھا۔ خیر، تو وہ فل ٹائم ماہر تھا اینٹری ٹیسٹ کے سوالوں کا۔ اس سے پڑھا، ادھر گیا تو استاد اپن پہلے ٹیسٹ میں پاس ہو گیا۔
منزل تو جیسے یہ سامنے کھڑی تھی۔ وطن کی راہ میں جان دینے کا جذبہ ان دنوں بڑا شدید ہوتا تھا مسئلے مگر دو تھے۔ ایک تو بندوق سے کچھ محبت نہیں تھی اور دوسرے بھاگ دوڑ میں بھی فقیر ڈھیلا تھا۔ ایک میڈیکل بیچ میں پڑتا تھا، اس کے متعلق کافی لطیفے مشہور ہیں، ہوتا لیکن واقعی وہی کچھ ہے، الف ہو کے میڈیکل دیا، الحمدللہ وہ بھی کلئیر۔
اگلی منزل اپنی بھی آئی ایس ایس بی تھی۔ ایک مبارک دن خط موصول ہوا، جھومتے چومتے اسے کھولا تو گوجرانولے کے سینٹر بلایا گیا تھا۔ تین یا چار دن کی ہوتی تھی آئی ایس ایس بی۔ ملیر کراچی، کوہاٹ باقی دو سٹیشن تھے جہاں یہ ٹیسٹ ہوا کرتا تھا۔ گوجرانوالہ قریب تھا، دو تین کالج فیلو اور بھی تھے ملتان کے، مل جل کے پہنچ گئے۔ اب اتنا یاد ہے کہ اپنی بیرک میں کوئی آٹھ بستر تھے لیکن انتظام اے ون تھا۔
ان دنوں میرا اصول تھا کہ میں فی سگریٹ دودھ کا ایک گلاس پیتا تھا۔ پانچ گلاسوں کے بعد پیٹ تھوڑا پتلا ہوا لیکن بھائی سو گیا جیسے تیسے۔ صبح اٹھ کے نہائے بغیر آنکھ تب کھلتی تھی نہ اب کھلتی ہے۔ کوئی چھ سات بجے واش رومز کی صف کو چلا، سب دروازے بند تھے۔ ایک کو کھولنے کی کوشش کی تو آگے سے قدرتی ٹائی سمیت دروازہ کھول کے ایک صاحب بولے یس ۔۔۔ گڑبڑا کے تیسرے دروازے میں گھس گیا۔ کوئی نہیں تھا لیکن پانی ایسا ٹھنڈا جیسے بروٹس کا خنجر یا سمجھیں یخ برچھیاں، آج تک یاد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نہا پانے کے علاوہ اس ٹیسٹ میں کوئی خاص چیز دماغ میں نہیں بس ایک جگہ مار کھائی، وہ نہ ہوتا مسئلہ تو بھائی نے شاید آج کرنل تک بن ہی جانا تھا۔ ہوا یوں کہ باقی دوڑنے بھاگنے، چھلانگیں لگانے، رسوں کی مدد سے خندق پار کرنے ٹائپ کی چیزیں جیسے تیسے کر ہی لیں، ایک بڑا خطرناک مرحلہ آ گیا بیچ میں۔
کوئی سات آٹھ فٹ لمبا گڑھا تھا، اس کے اندر کیچڑ ۔۔۔ اسے ڈِچ کہتے تھے وہ، دوڑتے ہوئے آنا تھا اور پھر اس کے اوپر سے چھلانگ لگا کے اسے پار کرنا تھا۔ ادھر اپنی ہمت ہاتھ میں آ گئی۔ اس کا مطلب تو یہ تھا بھائی کہ سیدھے سیدھے پنڈلی کی آگے والی ہڈی ٹوٹے گی۔ اس ایک لمحے کا فیصلہ یہ تھا کہ استاد بچ جا، ٹانگ سلامت نوکریاں بہت، فرنٹ ہو گئے اپن، ڈِچ کے پاس سے ایسے گزرے جیسے وہ نظر ہی نہیں آئی۔
بعد میں گروپ ڈسکشن ہوئی، دماغ جانچنے کے مرحلے ہوئے، میرے خیال میں سب ٹھیک تھا، فزیکل معاملوں میں شاید رہ گئے فیوچر کے کرنل صاحب ، تو بس پھر، ادھر سے بھی تعلیمی اسناد ریجیکٹڈ کے ٹھپے لے کر واپس پہنچیں۔
اب سر کے اوپر یہ کھلا سارا آسمان تھا اور سامنے پڑھائی کے خطرناک غار ۔۔۔ مجبوری تھی تو شکر ہے پڑھ شڑھ لیا۔ ابھی سوچتا ہوں تو یار ہرگز ایسا نہیں کہ افسوس نہ ہوتا ہو۔ ہوتا ہے۔
میرا باپ کتنے فخر سے کہتا کہ وہ ایک کیپٹن کا باپ ہے، یا امی کتنا خوش ہوتیں، پھر اس وقت تک اگر میں سرحد یا سیاچن پہ سے بچ کے آ گیا ہوتا تو اچھا بھلا افیسر ہوتا، کافی رینک بڑھ گئے ہوتے!
ہاں ایک مسئلہ ہے، اگر اس دن چھلانگ لگا لیتا اور ہڈی ہی ٹوٹ جاتی تو؟ نہ بابا، جان سلامت جہان سلامت، پائے گدا لنگ نیست، ملک خدا تنگ نیست۔ کام دھندا چلتا ہے اب بھی اور اے ون ہے، بڑا شکر ہے۔
باقی اگر آپ نے یہاں تک اس وجہ سے تحریر پڑھی کہ میں کچھ جمہوریت کے حق میں لکھوں گا، کسی مارشل لا کی بات کروں گا یا کوئی کلمہ حق بلند کروں گا تو استاد ویری سوری، شکل پہ مت جائیں، میں بس اسی لیے فوجی نہیں بنا کہ فوج نے مجھے رکھا ہی نہیں!
مولا خوش رکھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ