برمودا ٹرائینگل: فرضی داستان یا واقعی ایک پراسرار جگہ؟

ہم کبھی برمودا ٹرائینگل کی پراسراریت سے متاثر ہوتے تھے لیکن پھر اس کا ذکر غائب ہو گیا۔

پانچ نومبر 2009 کی اس تصویر میں کریبین جزائر میں ایک تباہ شدہ جہاز کو دیکھا سکتا ہے(اے ایف پی فائل)

پانچ دسمبر 1945 کو امریکی بحریہ کے پانچ بمبار ٹی بی ایم ایونجر طیاروں نے فورٹ لارڈ ڈیل فلوریڈا سے دوپہر دو بج کر دس منٹ پر اڑان بھری، یہ پرواز جہاز رانی کی مشقوں کے سلسلے کا حصہ تھی جسے فلائٹ 19 کا نام دیا گیا تھا۔

320 میل کے راستے پر مشتمل اس سفر میں انہیں مشرق سے فلوریڈا پھر شمال کے ساحلی علاقے سے گزرتے ہوئے گرینڈ بہاما جزیرے کے اوپر سے ہو کر جنوب مغرب کا رخ کرنا تھا اور اس کے بعد اپنے اڈے کی سمت واپس آنا تھا۔

پانچ روز بعد جب ان پانچ میں سے کسی ایک جہاز کا بھی کوئی سراغ نہ ملا تو ان کی تلاش بند کر دی گئی، پانچوں طیاروں کے غائب ہونے کا واحد اشارہ ریڈیو پیغامات کے چند ٹکڑے تھے جن سے کوئی مطلب برآمد کرنا بالکل ہی مشکل تھا۔

تربیتی مشق کی قیادت تجربہ کار پائلٹ لیفٹیننٹ چارلس کیرول ٹیلر کر رہے تھے جن کے ہمراہ ایک اور کہنہ مشق پائلٹ بھی تھے جو ایک سیدھی سادھی مشق میں دیگر 12 زیر تربیت ہوا بازوں، بندوقچیوں اور ریڈیو آپریٹرز کی رہنمائی کر رہے تھے۔

لیکن پرواز کے دو گھنٹے بعد ٹیلر نے ریڈیو کے ذریعے بیس سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ سمتوں کی پہچان مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’سمتوں کا تعین کرنے والے میرے دونوں آلات جواب دے چکے ہیں، میں زمین پر ہوں لیکن یہ ٹوٹی پھوٹی ہوئی ہے، مجھے یقین ہے کہ میں کیز (فلوریڈا) میں ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ کس قدر نیچے ہوں اور میں نہیں جانتا کہ فورٹ لارڈ ڈیل واپس کیسے پہنچوں۔‘ اگر فلائٹ 19 اپنے طے شدہ رستے پر رہتی تو اس وقت اسے فلوریڈا کیز کے کہیں آس پاس بھی نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ اسے 200 میل دور گریٹ سیل کے اوپر ہونا چاہیے تھا۔

اگلے دو گھنٹوں کے دوران ٹیلر نے ریڈیو سے دوبارہ رابطہ کر کے کہا کہ انہیں یقین ہے وہ خلیج میکسیکو کے اوپر ہیں اور فلوریڈا واپس جا رہے ہیں۔ ان کے آخری پیغام سے پتہ چلا کہ فلائٹ 19 کے پانچ طیارے ایندھن کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں اور اب انہیں فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔

 ’تمام جہاز بالکل بری طرح بند ہو چکے ہیں، سمندر آتے ہی ہمیں جان چھڑانی ہے، جب پہلا آدمی دس گیلن تک اندر پہنچ جائے گا تو ہم سب بھی ایک ساتھ پانی میں اتر جائیں گے۔‘

 علاقے کی کھوج لگانے کے لیے دو اڑنے والی کشتیاں بھیجی گئی تھیں۔ ایک کو واپس لوٹنا پڑا کہ اس کے اینٹینا پر برف جم گئی تھی جبکہ دوسری سمندر میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ فلائٹ 19 کے لیے شروع ہونے والی پانچ دن کی تلاش میں 250,000 مربع میل کھلے سمندری علاقے میں چھان بین کی گئی لیکن ان کا کوئی بھی سراغ نہیں ملا۔

پانچ طیارے بظاہر واقعی زمین کے اوپر سے غائب ہو چکے تھے، ایک صحافی نے دعوی کیا کہ لاپتہ ہونے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے بحریہ انکوائری بورڈ کے ایک رکن نے انہیں بتایا کہ فلائٹ 19 ’مریخ کی طرف اڑ گئی‘ ہے۔

اس طرح برمودا ٹرائینگل کی پراسراریت شروع ہوئی جس نے اگلی تین دہائیوں تک عوامی تصور کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ برمودا ٹرائینگل اندازاً میامی کے کچھ مقامات، پورٹیریکو میں سان ہوان اور برمودا جزیرے کے درمیان کا علاقہ ہے اگرچہ قصے کہانیوں کو قابل قبول بناتے ہوئے اکثر یہ حدیں دھندلا جاتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ طیارے اور کشتیاں خطرناک حد تک باقاعدگی سے اس علاقے میں تباہ اور غائب ہو جاتے ہیں جسے شیطان کا مثلث بھی کہتے ہیں۔ بے سر و پا نظریات بے شمار ہیں، برمودا ٹرائینگل نامعلوم اڑنے والی چیزوں (یو ایف اوز) کا مرکزی مقام ہونے سے اٹلانٹس کا دلدلی شہر مقام ہونے تک، جہاں ہوائی جہازوں اور کشتیوں کے غائب ہونے کا الزام غیر معمولی یا مافوق الفطرت عناصر کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔

برمودا ٹرائینگل 1970 اور 1980 کی مقبول عام ثقافت میں جذب ہو گیا تھا جسے میڈیا نے بھی خوب توجہ دی۔ 1977 کی ٹی وی سیریز دی فنٹاسٹک جرنی نے ایک خاندان کے سائنسی تحقیق کے سفر کی روداد بیان جو برمودا ٹرائینگل میں سبز بادلوں کی زد میں آ جاتا ہے اور ایک پراسرار زمین پر ان کا جہاز پھٹنا دکھاتا ہے جہاں وقت کے دھارے آپس میں ٹکراتے اور آپس میں مل جاتے ہیں۔

ونسنٹ پرائس نے 1974 میں دی ڈیولز ٹرائینگل کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی جس میں پروڈیوسر کو جو بے تکے واقعات دستیاب ہوئے وہ سب اس میں جھونک دئیے، اور سکوبی ڈو سے لے کر ونڈر وومین جیسی ٹی وی کی تمام مشہور شخصیات نے برمودا ٹرائینگل کی پراسراریت کا سامنا کیا۔

 ایک بورڈ گیم اور ایک اٹاری ویڈیو گیم تھی۔ یہاں تک کہ پاپ موسیقی بھی برمودا ٹرائینگل کے سحر سے نہیں بچ سکی، 1981 میں بیری مانیلو اور 1974 میں فلیٹ ووڈ میک نے اس ٹائٹل کے ساتھ اپنے ٹریک ریلیز کیے جس میں اول الذکر کے گیت ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: ’میرا خیال ہے آپ نے برمودا ٹرائینگل کے بارے میں سنا ہے، وہاں مسلسل کچھ ہوا جا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کوئی بھی شخص نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے، اور فضائی فوج یہ انکشاف نہیں کرے گی۔‘

فلائٹ 19 کے حوالے سے فضائی فوج کے بجائے بحریہ تحقیق کر رہی تھی اور اس کی چار سو صفحات پر مشتمل رپورٹ نے پانچ جہاز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ جاننے کے باوجود ظاہر نہیں کیا۔ لارنس ڈیوڈ کوشے کی 1975 میں شائع ہونے والی کتاب دی برمودا ٹرائینگل مسٹری سالوڈ! بالکل بھی اپنے عنوان کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ اس نے فلائٹ 19 سے متعلق غیر معمولی نظریات پر کہتے ہوئے اوس ڈال دی کہ طیاروں کا ایندھن ختم ہو گیا تھا اور عملہ اپنے ناقص ہوائی جہازوں کے ڈوبنے سے پہلے حفاظتی کشتیوں میں سوار نہیں ہو سکا۔

 لیکن یہ فلائٹ 19 کی بنیادی پراسراریت کو حل نہیں کر سکی کہ ان کے سمت کا تعین کرنے والے آلات کیوں کام کرنا چھوڑ گئے، وہ اس قدر دور کیسے نکل گئے، اور مخفی ریڈیو پیغامات کیوں بھیجے گئے تھے جن میں کہا گیا ’حتی کہ سمندر بھی ویسا نہیں لگتا جیسا ہونا چاہیے تھا‘ اور پھر زیادہ سنسی خیز کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ میرے پیچھے مت آنا۔‘

1974 میں شائع ہونے والی چارلس برلٹز کی بیسٹ سیلر کتاب دی برمودا ٹرائینگل نے اس کی پراسراریت کو مزید بڑھا دیا جس کی سنسی خیز مواد کی خواہش مند عوام میں 20 ملین کاپیاں فروخت ہوئیں۔

درحقیقت ممکنہ طور پر یہ برلٹز کی کتاب ہی ہے (ہاں وہ اس خاندان کا حصہ ہے جس نے زبان سیکھنے کی سلطنت کھڑی کی) جس نے برمودا مثلث کے خیال کو پراسرار اور غیر معمولی جگہ کے طور پر لوگوں کے ذہنوں میں نقش کیا۔

 

برلٹز نے اٹلانٹس اور اڑنے والی اشیا کے نظریات کی وضاحت کی اور وہ اس تصور کے پیروکار تھے کہ قدیم زمانے میں اجنبی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا تھا۔

کوشے نے برلٹز کے نظریات کا مذاق اڑایا لیکن 1970 کی دہائی تک برمودا ٹرائینگل عوامی نفسیات پر گہری گرفت حاصل کر چکا تھا، اگرچہ یہ اصطلاح ایک دہائی پہلے ہی متعارف ہوئی تھی۔

آسٹریلوی ریاست کوئینز لینڈ میں واقع گریفتھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کے امیدوار شین سیٹرلے کہتے ہیں ’برمودا ٹرائینگل کی افسانوی داستان کا آغاز 1964 میں ہوا جب ونسنٹ گیڈیس نے ارگوسی میگزین کے لیے ایک مضمون لکھا اور 1974 میں چارلس برلٹز اور رچرڈ ونر (دی ڈیولز ٹرائینگل) کی کتابوں نے صحیح معنوں میں اسے آسمان پر پہنچا دیا۔ لیونارڈ نموئے نے 1977 میں ٹی وی سیریز ’اِن سرچ آف۔۔۔۔‘ میں بھی برمودا ٹرائینگل پر خوب بحث کی۔ وہی علاقہ کیوں؟

کیا واقعی سمندر کے دیگر علاقوں کے علاؤہ وہاں زیادہ حادثات پیش آئے؟ جہاں تک میں جانتا ہوں وہ علاقہ مکمل طور پر صوابدیدی ہے اور اعداد و شمار کے مطابق وہاں ہوائی یا سمندری جہازکھو جانے کے واقعات بہت زیادہ نہیں ہیں جنہیں برمودا ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔‘

مقبول عام ثقافت پر اس کے اثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ برمودا ٹرائینگل کتنے وسیع پیمانے پر معروف تھا اور اس کے باوجود آج ہم شاید ہی کبھی اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سیٹرلے کہتے ہیں ’بعض معنوں میں یقیناً یہ مخصوص وقتوں کی علامت تھی، ساٹھ اور ستر کی دہائی کے بارے میں سوچیے جب ہم چاند پر جا رہے تھے اور 1977 میں سپائل برگ کی فلم بگ کلوز انکاؤنٹرز آئی تھی۔

’یہ وہ وقت تک جب ہر کوئی ہی اوپر دیکھ رہا تھا۔ میرا خیال ہے اس علاقے میں کبھی کسی مسافر بردار طیارے کو حادثہ پیش نہیں آیا اور اس فرضی داستان کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے آپ خود اس علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو آن لائن نقشے پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم عمومی طور پر زیادہ سلجھ گئے ہیں، بس یہ ہوا کہ ہماری کہانیوں اور خرافات کے موضوعات بدل گئے۔‘

جو روگن امریکہ میں اپنے پوڈ کاسٹ پر فرضی نئے سامعین اور امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ معلومات کی بنا پر اڑنے والی ناقابل شناخت چیزوں پر اکثر بحث کرتے ہیں۔ جو بات مدنظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ غیر واضح مظاہر کو سچ سمجھنے کے لیے اتنی دور دراز سے لائی ہوئی وضاحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی، سائنس کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ ناقابل اعتماد یا ناکافی شواہد کی وجہ سے چیزوں پر یقین رکھنا غلطی ہوتی ہے کیونکہ قرین قیاس وضاحت ہمیشہ آس پاس موجود ہوتی ہے۔

اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے سیٹرلے کہتے ہیں بعض اوقات یہ بھیانک غلطی ہوتی ہے ’جب کوئی چیز عجیب معلوم ہوتی ہے اور جو کچھ ہم نے ابھی دیکھا ہوتا اس کی سائنسی یا فطری توجیہ نہیں ہوتی تو لوگ فوری طور پر اس سے کوئی وضاحت منسوب کر دیتے ہیں اور بعض اوقات اسے مافوق الفطرت سے جا ملاتے ہیں، کوئی بھی نظریہ نہ ہونے کی بجائے لوگ سازشی نظریے کو ترجیح دیتے ہیں۔

’ایک نوع کے طور پر یہ ہماری جبلت میں شامل ہے کہ ہم ایسے نقوش ڈھونڈتے ہیں جو بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن اکثر وہ ہمیں غلط مثبت سمت میں لے جاتے ہیں کیونکہ کہ یہ غلط منفی سے زیادہ محفوظ ہے، گھاس میں سرسراہٹ دیکھ کر ہوا کے بجائے شیر کا سوچنا قابل فہم ہے۔ جب واقعہ کی وضاحت ہونا ابھی باقی ہو تو لوگ اکثر غیر فطری یا مافوق الفطرت کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن جب واقعے کی تسلی بخش فطری وضاحت مل جائے تو لوگ غیر فطری یا مافوق الفطرت دعوی کو فرسودہ کہنے لگتے ہیں۔

’ممکن ہے قیاس کے گھوڑے دوڑانا ایک بے ضرر سا دلچسپ کام لگتا ہو۔ لیکن یاد رہے مذکورہ بالا کتابیں اسی سال منظر عام پر آئی تھیں جس سال یو ایف او کرسچن کلٹ ہیون گیٹ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1997 میں گروپ کو یقین تھا کہ وہ دم دار ستارے ہیل بوپ کے پیچھے غیر واضح اڑنے والے عناصر تک جا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے گروپ نے خودکشی کر لی۔

جب آپ تنقیدی شعور کا دروازہ ادھ کھلا رکھتے ہیں تو آپ لوگوں کو چیزیں عجیب و غریب سمت میں لے جانے اور انتہا پسندانہ نتائج اخذ کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔‘

برمودا ٹرائینگل میں گمشدگیاں فلائٹ 19 کی گمشدگی سے بہت پہلے کی ہیں لیکن یہ کڑیاں ملانے یا فوری طور پر نتائج اخذ کرنے کے نقطہ نظر کا معاملہ ہے۔

1884 میں بادبانی تربیتی بیڑا ایچ ایم ایس اٹلانٹا (اصل میں ایچ ایم ایس جونو) برمودا سے کارن وال کے شہر فلماوتھ کی سمت روانہ ہونے کے بعد اپنے پورے عملے سمت غائب ہو گیا تھا۔

امریکی بحری جہاز سائکلوپس 1918 میں مینگانیز اور لے کر باباڈوس سے روانہ ہونے کے بعد غائب ہو گیا۔ 1921 میں امریکی ساحلی حفاظتی دستے نے دیکھا کہ نارتھ کیرولینا کے ساحل کے قریب کیرول اے ڈیرنگ جہاز ویران پڑا ہے۔

جہاں تک فضا کا معاملہ ہے تو برٹش ساؤتھ امریکن ایئر ویز کے زیر انتظام مسافر طیارے 1948 اور 1949 میں ایسے غائب ہوئے کہ نشان تک نہ ملا، سٹار ٹائیگر ایزورس سے برمودا جبکہ سٹار ایریل برمودا سے جمیکا کے لیے روانہ ہوا تھا۔

1948 میں ڈگلس ڈی سی سان ہوان پورٹریکو اور میامی کے درمیان غائب ہو گیا اور اس جہاز میں سوار 32 افراد کا کوئی ملبہ یا نشان نہیں ملا۔

جیسا کہ سیٹرلے کہتے ہیں یہ یقین کرنا کہ برمودا ٹرائینگل میں کچھ عجیب اور نامعلوم ہے ایک پرکشش بلکہ رومانوی تصور ہے۔ اس کے باوجود اب ہم اس کا تذکرہ نہیں سنتے۔ اب یا تو اجنبی خلائی مخلوق یا اٹلانٹین نے ہمارے طیاروں اور کشتیوں کو چوری کرنا، انہیں زمان یا مکان سے جدا کرنا یا سمندر کی تہہ میں دھکیلانا چھوڑ دیا ہے یا پھر کچھ اور ہوا ہے۔

وہ کچھ اور شاید ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ جب برمودا ٹرائینگل کا بخار عروج پر تھا اس وقت جہاز رانی اور ہوئی ٹریفک کے راستے دیکھنے کے طریقے ابھی اہنے ابتدائی مراحل میں تھے جبکہ آج ہمارے پاس جی پی ایس ٹیکنالوجی ہے۔ چند میٹرز کے اندر اندر آپ کا موبائل فون آپ کو درست سمت میں ڈال سکتا ہے لیکن ٹینکر یا مسافر طیارے کو کھونا بہت مشکل ہے۔

یہاں تک کہ اگر آج ایسا ہوتا بھی ہے تو ہم فوری طور پر یہ نہیں سوچتے کہ اجنبی خلائی مخلوق یا بھوت پریت ذمہ دار ہیں سوائے یہ کہ آپ انٹرنیٹ کے حاشیے پر موجود دنیا میں زندہ رہتے ہوں۔ ملائیشین ایئر لائن فلائٹ 370 کو ہی لیجئے جو 2014 میں کوالالمپور اور بیجنگ کے درمیان کہیں کھو گئی تھی۔

یہاں تک کہ دو سال قبل جب کچھ ملبہ ملنا شروع ہوا ہے اس سے پہلے سراغ رسانی کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود کوئی بھی اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتا تھا کہ جہاز کیوں اور کہاں جا گرا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 لیکن اس سے واضح ہوتا ہے کہ 35 سال پہلے لاپتہ جہازوں کی کھوج لگانا کتنا مشکل امر تھا۔ سیٹرلے کہتے ہیں ’اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنی جلدی ایک ہوائی جہاز سمندر میں کھو سکتے ہیں اور غور کیجئے کہ جو چند جہاز پہلے گم ہوئے وہ چھوٹے سنگل انجن طیارے تھے جو پانی سے ٹکراتے ہی چند سیکنڈز میں غائب ہو گئے۔

اگرچہ برمودا ٹرائینگل کی طویل کہانیوں نے لوگوں کی غیر فطری بھیدوں کی پیاس بجھائی لیکن جو لوگ سمندر میں اس خطے پر رہتے ہیں ان کے لیے وہ علاقہ پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر واقعی بہت خطرناک تھا۔

بل لاوبر اوہائیو میں پیدا ہوئے اور چھوٹی عمر سے ہی وہ ایری جھیل پر سفر کر رہے تھے جہاں سے مزید اگلا قدم اٹھاتے ہوئے وہ سمندر میں جانے والے جہازوں پر سفر کرنے لگے اور ساؤتھ کیرولینا میں اپنے فن پر مہارت حاصل کرنے لگے۔

جس کے بعد وہ امریکی ورجن آئی لینڈز سینٹ تھامس چلے گئے جہاں انہوں نے 1984 میں اپنا کپتانی کا لائسنس حاصل کیا، وہ کون ٹکی نامی پارٹی کشتی لے کر روانہ ہو گئے۔ سینٹ تھامس میں ان کی کشتی کے نزدیک تین بادبانوں والا ایک نہایت خوبصورت جہاز تھا جسے دا مارکوس کہا جاتا ہے، یہ اتنا خوبصورت تھا کہ اسے ون ڈن لائن, پولڈارک، ڈریکولا اینڈ وئیج آف چارلس ڈارون جیسی فلموں اور ٹی وی شوز میں استعمال کیا جاتا تھا۔

بل اور ان کی اہلیہ دا مارکوس کے کپتان برطانوی شہری سٹورٹ فنلے اور انٹیگوان میں پیدا ہونے والی ان کی بیوی الوما اور ان کے 16 ماہ کے بچے کرسٹوفر سے دوستی ہو گئی۔ جون 1984 میں یہ خاندان اپنے عملے سمیت ٹال شیپس ریس میں حصہ لینے کے لیے روانہ ہوا۔

برمودا سے تقریباً ستر سمندری میل دور شمالی سمت میں وہ لاپتہ ہو گئی۔ مرنے اور لاپتہ ہونے والے 19 افراد میں سٹورٹ اور ان کا خاندان بھی شامل تھا۔ اس وقت نارتھ یارک شائر ہیروگیٹ میں رہائش پذیر 67 سالہ بل پیچھے سینٹ تھامس میں مشہور ہونے والی افواہوں کو، سوشل میڈیا اور خبروں کے فوری نظام سے اچھا خاصا پہلے، اور سمندر میں سفر کرنے والے برادری کے صدمے کو یاد کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ یہ توجیہ پیش کی گئی کہ مارکوس کسی بپھری ہوئی لہر کی زد میں آ گئی اور اس کے بعد کی کھوج سے پتہ چلا ہے کہ دو بڑی غلطیاں ہوئیں، تختے پر چھوٹا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا تھا اور اس وقت جہاز باورچی تن تنہا چلا رہا تھا۔ کیوں کہ باورچی منجھلا ہوا ملاح نہیں تھا اس لیے مشکل صورتحال سے نمٹنے سے قاصر رہا اور چھوٹا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے کشتی میں بہت جلد پانی بھر گیا اور سمندر میں ڈوب گئی۔

بل نے برمودا ٹرائینگل میں بہت زیادہ سفر کیا ہے اور اپنے وقت میں بہت سی کشتیاں وہاں کے جزیروں تک پہنچائی ہیں۔ وہ کبھی بپھری لہر کی زد میں نہیں آئے لیکن جانتے ہیں کہ وہ کتنی مہلک ہوتی ہے۔

 وہ کہتے ہیں ’بپھری ہوئی لہریں یا سمندر کی تیز لہریں کرہ ارض پر تیز ترین چیزوں میں سے ہیں۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے لیکن وہ اچانک کسی بھی سمت سے 700 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوا تھا اور دا مارکوس ایسی ہی کسی لہر کی زد میں آئی تھی تو اس نے اتنے زور سے اسے پیچھے دھکیلا ہو گا کہ اس کا تختہ خود بخود پانی سے بھر گیا ہو گا۔‘

دا مارکوس کا افسوس ناک واقعہ برمودا ٹرائینگل کی کہانیوں کی فوری توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ چھوٹے بچے سمیت جہاز پر لوگ زندگیوں سے محروم ہوئے تھے اور بل سے بات کرنا جو اس خاندان کو جانتے ہیں ایسے کہانیوں کی خبر دیتے ہیں جن سے سازشی اور غیر فطری نظریات برآمد کیے گئے تھے۔

بل کہتے ہیں کہ برمودا ٹرائینگل خطرناک جگہ ہے لیکن خلائی مخلوق یا شیطانی طاقتوں کی وجہ سے نہیں۔ یہ بپھری ہوئی لہریں، پوشیدہ چٹانیں اور سمندری طوفان ہیں جنہوں نے اتنی زیادہ جانیں لی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’کئی بار میں خطرناک صورت حال کا شکار ہوا لیکن یہ سمندری سفر کا حصہ ہے۔ آپ کو سمندر کی عزت کرنا پڑتی ہے۔ اس میں بہت سے خطرے اور کئی چیزیں ہیں جس وجہ کشتی لاپتہ یا ہوائی جہاز تباہ ہو سکتا ہے۔

 جب برمودا ٹرائینگل کے بارے میں دستاویزی فلمیں آتی تھیں تو سمندری سفر کرنے والی برادری میں ہم انہیں دیکھ کر ہنستے تھے۔

ہر طرف وہ کہانیاں پھیلی ہوئی تھیں جو دراصل بوڑھی بیویوں کی کہانیاں تھیں۔ یہ اس دن کی روزمرہ زندگی کا ایک حصہ تھا۔ لیکن میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو محض اس وجہ سے برمودا ٹرائینگل کو غیر معمولی یا مافوق الفطرت جگہ گردانتا ہو کیونکہ یہاں بہت سی کشتیاں کھو چکی ہیں۔ اس کا مطلب بس یہ ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو زیادہ توجہ کرنا پڑتی ہے۔‘

بل کو اپنے کیریئر میں جہاز رانی کے دوران برمودا ٹرائینگل میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ شین سیٹرلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ان افسانوی کہانیوں سے متعلق منطقی انداز کے باوجود کیا وہ انہیں چیلنج کریں گے؟

وہ کہتے ہیں ’یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ جب میں نے اسے سنا تو میں نے خود سے پوچھا کہ کیا مجھے کسی عمارت کی تیرویں منزل کی طرف سفر کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر پڑی کسی دراڈ پر قدم رکھنے سے کیا ڈر لگے گا؟ جب آپ یہ بات سمجھ لیتے ہیں کہ کسی مافوق الفطرت یا غیر معمولی چیز کا کوئی قابل اعتماد ثبوت کبھی بھی پیش نہیں کیا جا سکا تو آپ کا ذہن اور روزمرہ زندگی ان الجھنوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔

کارل سیگان نے کہا تھا کہ ’سائنس اندھیرے میں موم بتی تھی لیکن سوچنے کا سائنسی انداز بھی آپ کو کم خوفزدہ انسان بناتا ہے۔‘

بطور پوسٹ سکرپٹ مانیلو سے رابطہ کر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی کہ برمودا ٹرائینگل کیوں اتنا زیادہ لوگوں کے شعور میں رچ بس چکا تھا کہ انہیں مشترکہ طور پر اس کے بارے میں ایک گیت بنانا پڑا تھا۔

ان کی طرف سے کوئی جواب آنے والا نہیں، سو آئیے 1981 کے اس گیت سے رابطہ کرتے ہیں جو برطانیہ میں اس سال بہترین گیتوں کی فہرست میں پندرہویں نمبر پر رہا تھا، جسے ہم شاید ہم خفیہ سمندر کے اس پھیلاؤ کے پائیدار اسرار کی ایک خوشگوار یاد کے طور پر لے سکتے ہیں، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ فطرت ماں کی ضرورت سے زیادہ مقدار کے علاؤہ کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،

’برمودا ٹرائینگل، یہ لوگوں کو نگل جاتا ہے،برمودا ٹرائینگل، اس کے بہت زیادہ نزدیک مت جائیے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین