عدالت کی ایف آئی اے کو ’اپنا کام‘ کرنے کی ہدایت

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز کے لیے متعلقہ پلیٹ فارمز موجود ہیں، لہذا ’ایف آئی اے ان معاملات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنا کام کرے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ اپنا موقف گذشتہ سماعتوں میں دے چکی ہے کہ کسی کو وجہ بتائے بغیرنوٹس جاری کرنا، اسے دھمکی دینے اور خوفزدہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز کے لیے متعلقہ پلیٹ فارمز موجود ہیں، لہذا ’ایف آئی اے ان معاملات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنا کام کرے۔‘

جسٹس اطہرمن اللہ نے یہ ریمارکس آج سائبر کرائم ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کے بے جا اختیارات کے استعمال کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل ایمان مزاری، عثمان وڑائچ و دیگر وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس مسئلے پر ایک فیصلہ دینا چاہتی ہے، سول نوعیت کے ہتک عزت کے کیسز تو ڈسٹرکٹ کورٹ جانے چاہییں، وہاں الگ سے ججز مقرر ہیں، اس لیے ایف آئی اے کو ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا: ’پبلک آفس ہولڈرز سے متعلق دائرہ کار اوراصول ہی مختلف ہیں۔‘

انہوں نے ایف آئی اے حکام سے کہا کہ عدالت اس بات کو سراہتی ہے کہ ادارہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، ’لیکن ایف آئی اے  کو ہر درخواست نہیں دیکھنی چاہیے۔ آپ کے ذمے ملکی نوعیت  کےاہم  کام  ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ عام عوام کے پاس سول معاملات میں ہتک عزت کے خلاف فورمز دستیاب ہے اور’لوگ ادھر جائیں۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے: ’ایف آئی اے کے ذمے تو اور بہت سے اہم اور بڑے کام ہیں، آپ یہاں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ مفاد عامہ میں نہیں کہ ایف آئی اے سول نوعیت کے کیسز میں وقت ضائع کرے۔‘

کیس سے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت سے درخواست کی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرنی ہے تو اس کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر ایف آئی اے کو سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

بعدازاں عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آٹھ دسمبر تک سماعت ملتوی کردی۔

عدالت نے اس سے قبل بھی ایف آئی اے حکام سے کہا تھا کہ اس تاثر کو ختم کریں کہ ادارے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال ہورہا ہے۔

معاملہ ہے کیا؟

یہ معاملہ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا تھا، جب صحافی ارشد سلہری کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ایک نوٹس موصول ہوا جس میں درج تھا کہ ان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کچھ شکایات آئی ہیں جس کی تحقیقات کے لیے وہ 30 ستمبر کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں۔

ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے، جس کے بعد ایف آئی اے قانونی چارہ جوئی کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی رانا ارشد سلہری نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے حکام نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا ہے اور حکومتی ادارے کو انہیں ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

اس کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے کچھ مزید صحافیوں کو نوٹسز بھجوائے گئے تھے، جن میں وجوہات بھی نہیں لکھی تھیں، جس پر متعلقہ صحافیوں نے ایف آئی اے نوٹسز کے معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ادارہ صحافیوں کو نوٹسز بھیج کر ہراساں کررہا ہے۔

اس سلسلے میں عدالت اپنا موقف گذشتہ سماعتوں میں دے چکی ہے کہ کسی کو وجہ بتائے بغیرنوٹس جاری کرنا، اسے دھمکی دینے اور خوفزدہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔

عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کر دیا تھا، جس میں صحافی اسد طور اور ابصارعالم کو بھیجے گئے نوٹسز کی درخواست بھی شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان