ایف آئی اے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

ایف آئی اے کے خلاف ہراسانی کی درخواست دائر کرنے والے صحافی رانا ارشد سلہری کے وکیل کے مطابق ایف آئی اے کا نوٹس یکم اکتوبر کو موصول ہوا جبکہ اس پر پیش ہونے کی تاریخ 30 ستمبر تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کا ایک منظر (تصویر:  بشکریہ اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ)

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ایک صحافی کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر دائر درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، ’اسے کس نے اختیار دیا کہ لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے؟‘

گذشتہ دنوں اسلام آباد کے صحافی رانا ارشد سلہری کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کچھ شکایات آئی ہیں جس کی تحقیقات کے لیے انہیں 30 ستمبر کو ایف آئی اے میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ ’دوسری صورت میں سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے جس کے بعد ایف آئی اے قانونی چارہ جوئی کرے گا۔‘

مذکورہ صحافی کے وکیل ساجد تنولی کے مطابق: ’ایف آئی اے کا نوٹس یکم اکتوبر کو موصول ہوا جبکہ اس پر پیش ہونے کی تاریخ 30 ستمبر تھی۔ نوٹس جاری ہونے کی کوئی تاریخ بھی درج نہیں تھی جو اس کو مشکوک بنا رہی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے صحافی ارشد کے گھر چھاپہ بھی مارا لیکن اس وقت خوش قسمتی سے وہ میرے دفتر میں تشریف فرما تھے۔‘

اس کے بعد رانا ارشد سلہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے حکام نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، لہذا ایف آئی اے کو انہیں ’ہراساں‘ کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزار صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انہیں علم نہیں کہ یہ نوٹس انہیں کیوں ملا۔ وہ ملکی اداروں پر تنقید نہیں کرتے جس کو جواز بنایا جا سکے البتہ جمہوریت پر آرٹیکلز ضرور لکھتے ہیں جس میں سیاستدانوں اور حکومت پر تنقید کی جاتی ہے، شاید اس کو جواز بنایا گیا ہو۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے تحریری طور پر ایف آئی اے سے نوٹس کی وجوہات پوچھیں لیکن ایف آئی اے نے وجہ نہیں بتائی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کو رانا ارشد سلہری کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کے کنڈکٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 'یہ مذاق تھوڑی ہے کہ ایف آئی اے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے، ایف آئی اے نے اتنا پراسرار  نوٹس کیوں جاری کیا جبکہ نوٹس پر تاریخ بھی نہیں لکھی؟'

انہوں نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ 'آپ نے نوٹس میں یہ چیز نہیں لکھی کہ انہیں (صحافی کو) طلب کرنے کی وجہ کیا ہے؟ نوٹس میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ متعلقہ شخص کو کیوں بلایا جا رہا ہے؟ بلاوجہ ایک شخص کو ملزم بنایا جا رہا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے حکام کو مخاطب کرکے مزید کہا کہ 'آپ اس قانون اور عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ چھاپہ مارنے کے کیا نتائج اور اثرات ہوتے ہیں، پڑوسی اور ہمسائے دیکھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیوں چھاپہ مارا گیا ہے؟ آپ کو یہ انکوائری اور چھاپہ مارنے کی اجازت کس نے دی؟چھاپہ مارنے سے پہلے کون سا مواد آپ کے پاس تھا؟ کیا آپ کسی تصدیق کے بغیر چھاپے ماریں گے؟ کس سیکشن کے تحت آپ نے یہ چھاپہ مارا؟'

ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ 'ڈپٹی ڈائریکٹر نے انکوائری شروع کرنے کا کہا تھا۔ یہ چھاپہ نہیں تھا بلکہ تفتیشی افسر صرف ایڈریس کی تصدیق کے لیے پٹیشنر کے گھر گئے تھے۔'

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'ایف آئی اے کا یہ کام نہیں ہے، اگر کوئی شکایت آئی ہے تو ضرور تفتیش کریں لیکن یہ عدالت آپ کو اس طرح چھاپے مارنے کی اجازت نہیں دے گی، آپ نے جو کچھ کرنا ہے قانون کے مطابق ہی کرنا ہے۔'

جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے حکام سے مزید کہا کہ 'آپ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔ یہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔'

اس کے ساتھ ہی عدالت نے صحافی ارشد سلہری کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت دس دن کے لیے ملتوی کردی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان