پشاور: 190 موبائل فون لانے والا مسافرایئرپورٹ پر بیگ چھوڑ کر فرار

باچا خان ایئرپورٹ کے حکام کے مطابق پی آئی اے کی پرواز 284 دبئی سے پشاور پہنچنے کے بعد جب تمام مسافر اپنا سامان لے کر چلے گئے تو ایک مشتبہ بیگ آخر تک بیلٹ پر گھومتا رہا، جس کو موقع پر موجود حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

باچا خان ایئرپورٹ پراسسٹنٹ کلیکٹر کے عہدے پر فائز سہیل سرور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کُل 190 موبائل فونز میں  سے  50 آئی فونز  جب کہ باقی چائنیزموبائل سیٹ تھے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یکم نومبر کو رپورٹ ہونے والے اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں دبئی سے پشاور پہنچنے والے ایک مسافر کے بیگ سے لاکھوں روپے مالیت کے 190 موبائل فون سیٹس برآمد ہوئے، جسے وہ ایئرپورٹ پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز 284 دبئی سے پشاور پہنچنے کے بعد جب تمام مسافر اپنا سامان لے کر چلے گئے تو ایک مشتبہ بیگ آخر تک بیلٹ پر گھومتا رہا، جس کو موقع پر موجود حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

باچا خان ایئرپورٹ پر اسسٹنٹ کلیکٹر کے عہدے پر فائز سہیل سرور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کُل 190 موبائل فونز میں سے 50 آئی فونز جبکہ باقی چائنیز موبائل سیٹ تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے حالات میں کہ جب ہوائی اڈوں پر سمگلنگ سے متعلق سخت احکامات ہیں اور حکام سختی سے ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں، ایسے میں مسافروں کی سمگلنگ کی کوشش اکثرو بیشتر لاعلمی پر مبنی ہوتی ہے۔

سہیل سرور کے مطابق بیگ کا مالک غالباً کسی خوف کی وجہ سے فرار ہوگیا تھا، لہذا ایئرپورٹ حکام کو ان سے متعلق کسی قسم کی معلومات نہ ہوسکیں۔

سہیل نے بتایا: ’تمام موبائل فون سیٹس ہماری تحویل میں ہیں۔ متعلقہ شخص اپنا سامان لینے آسکتا ہے، لیکن ان پر بھاری جرمانہ عائد ہوگا، جو کہ عموماً 35 فیصد ہوتا ہے۔‘

اس واقعے کے حوالے سے کسٹم سپرنٹنڈنٹ آصف رحیم بھٹی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی 30 سالہ ملازمت کے دوران ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی مسافر کے بیگ سے اتنی تعداد میں موبائل فونز برآمد ہوئے ہوں۔ کسٹم سپرنٹنڈنٹ کی اس بات کی تائید ان کے دفتر میں میٹنگ کے لیے بلائے گئے دیگر سینیئر حکام نے بھی کی۔

انہوں نے کہا: ’عموماً زیادہ سے زیادہ 30 سیٹس لے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔ ہوسکتا ہے آئندہ دنوں میں کوئی اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے آجائے، لیکن انہیں نہ صرف جرمانہ دینا ہوگا بلکہ ٹیکس کی ادائیگی بھی کرنی ہوگی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور ایئرپورٹ کے کسٹمز آفس کے مطابق اس سے قبل ایک مسافر کو پانچ موبائل فون سیٹ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی، لیکن نئی پالیسیاں بننے کےبعد ایک موبائل سیٹ بھی حکام تحویل میں لے سکتے ہیں۔

محکمہ کسٹمز کے ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کا کمرشل سامان لانا سمگلنگ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے متعلق سخت قوانین اور احکامات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان احکامات کے باوجود مسافر وقتاً فوقتاً سمگلنگ کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’کچھ وقت پہلے پانچ موبائل فونز لے جانے کی اجازت تھی، لیکن پھر بعض کاروباری لوگ بڑی تعداد میں موبائل فونز خرید کر ایک ایک مسافر کو پانچ پانچ سیٹ تھما دیتے تھے۔ جس سے ملک کا نقصان ہو رہا تھا۔ اب ایک سیٹ لانے پرمسافر کو کسٹم حکام کو یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ یہ سیٹ اس کے ذاتی استعمال کے لیے ہے۔‘

کسٹمز عہدیدار نے کہا کہ ایئرپورٹ پررونما ہونے والے کسٹمز سے متعلق بڑے واقعات کا فیصلہ عدالتیں کرتی ہیں اور موبائل فونز کا ٹیکس بھی ہوائی اڈے پر نہیں بلکہ پی ٹی اے کو آن لائن ادا کرنا پڑتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان